سرحد چیمبر اور اوورسیز پاکستانی کے درمیان ای او بی آئی ورکرز مسائل حل کیلئے کمیٹی پر اتفاق

سرحد چیمبر اور اوورسیز پاکستانی کے درمیان ای او بی آئی ورکرز مسائل حل کیلئے ...

  

      پشاور(سٹی رپورٹر)سرحد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری اور وزیراعظم کے مشیر برائے اوور سیز پاکستانی کے درمیان ای او بی آئی اور ورکرز ویلفیئر بورڈ سمیت اوورسیز پاکستانی سرمایہ کاروں کے مسائل و مشکلات کے حل کے لئے ایک مشترکہ کمیٹی بنانے پر اتفاق ہوا ہے۔ کمیٹی میں چیمبرز اور حکومتی اداروں کے نمائندے شامل ہوں گے۔ یہ اتفاق رائے گذشتہ روز سرحد چیمبر کے صدر حسنین خورشید احمد کی سربراہی میں وزیراعظم کے مشیر برائے اوور سیز پاکستانی اور ہیومن ریسورس ڈویلپمنٹ محمد ایوب آفریدی کے دورہ سرحد چیمبر کے موقع پر اجلاس کی صدارت کے دوران ہوا۔ اجلاس میں سرحد چیمبر کے سینئر نائب صدر عمران خان مہمند ٗ سابق صدور ملک نیاز احمد ٗ ریاض ارشد ٗ زاہداللہ شنواری ٗ فیض محمد فیضی ٗڈائریکٹر جنرل ای او بی آئی اسلام ذوالفقار علی ٗ ڈائریکٹر / ریجنل آفس ای او بی آئی اشفاق محمود ٗسرحد چیمبر کی ایگزیکٹو کمیٹی کے اراکین  نعیم قاسمی ٗ وقار احمد ٗ ایس منہاج الدین ٗ سابق نائب صدر شجاع محمد اور اشتیاق محمد ٗ عاقب اسماعیل ٗعاصم شہزاد ٗ وحید عارف اعوان ٗ فرمان ٗ شاہ فہد ٗ محمد شعیب ٗ صنعتکاروں اور تاجروں کی کثیر تعداد موجود تھی۔اجلاس کے آغاز میں گذشتہ روزمسجد میں ہونیوالے خود کش دھماکہ میں شہید ہونیوالوں کیلئے خصوصی دعا کی گئی اور لواحقین کے ساتھ اظہار ہمدردی اور زخمیوں کی جلد صحتیابی کیلئے دعا کی گئی۔ اجلاس نے پشاور میں دھماکہ کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم کے مشیر برائے اوور سیز پاکستانی محمد ایوب آفریدی نے صنعت کاروں کو ای او بی آئی اور ورکرز ویلفیئر بورڈ سمیت اوور سیز پاکستانی سرمایہ کاروں کو درپیش مسائل کے فوری حل کی مکمل یقین دہانی کروائی اور کہا کہ  موجودہ حکومت اوور سیز پاکستانی کے مسائل کے بروقت حل اور سرمایہ کاری کرنے کے لئے کوشاں ہے اور ان کے 3 لاکھ روپے تک بلا سود قرضے کی فراہمی کے حوالے سے حکومت نے باضابط منظوری بھی دی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ای او بی آئی اور ورکرز ویلفیئر بورڈ کے حوالے سے مسائل کو عدالتوں / لیگل فورم کے ذریعے 180 دنوں میں حل کرنے کے لئے پابند بنایاگیا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ حکومتی اداروں ٗ سرمایہ کاروں اور نجی سیکٹرز کے ساتھ مل جل کر مسائل کا حل تلاش کیا جائے گا اور عدم اعتماد کی فضاء کو ہمیشہ کے لئے ختم کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ایک جامہ نظام / میکنزم کو متعارف کروایا جائے گا جس کے تحت فیکٹری ورکرز ٗ ملازمین کا ڈیٹا کو ڈیجیٹیلائزڈ کیا جائے گا تاکہ جدید طرز کے ذریعے ملازمین کی رجسٹریشن اور اس سے متعلق مسائل کو فوری حل کیا جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت نے اوور سیز پاکستانی کو اعلیٰ مقام اور اعزازات سے نوازا ہے کیونکہ ان کا ملکی معیشت کی ترقی میں نمایاں کردار ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ انکوائری ٗ پکڑ دھکڑ ٗ کورٹ ٗ کچہری کے چکر سے نکلنے کے لئے حکومتی اداروں ٗ بزنس کمیونٹی اور متعلقہ سٹیک ہولڈرز کے درمیان باہمی تعاون ٗ مشاورت اور ہم آہنگی کی فضاء پیدا کرنے کی اشد ضرورت ہے جس کے ذریعے مل بیٹھ کر تمام مسائل کا فوری حل نکالا جاسکے۔ وزیراعظم کے مشیر نے کہا کہ ہم ورکرز / ملازمین سمیت اوور سیز پاکستانی سرمایہ کاروں کا خیال رکھے تو دنیا بھر میں پاکستان کا وقار بلند ہوگا۔ اس سے قبل سرحد چیمبر کے صدر حسنین خورشید احمد نے خطاب کرتے ہوئے صنعتکاروں کے مسائل پر تفصیلی روشنی ڈالی بالخصوص ای او بی آئی ٗ ورکرز ویلفیئر بورڈ سے متعلقہ فیکٹریوں کے ملازمین کے حوالے سے مسائل کے بارے میں وزیراعظم کے مشیر محمد ایوب آفریدی کو آگاہ کیا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ایک مربوط نظام کے ذریعے فیکٹری ملازمین / ورکرز کی یکساں ای او بی آئی ریٹ کی کٹوتی کو یقینی بنایا جائے۔ اس موقع پر سرحد چیمبر نے کہا کہ امن و امان کی ابتر صورتحال اور کورونا وائرس کے باعث لاک ڈاؤن کے بعد  آج کل ایک بار پھر پشاور کے صنعت کاروں کو بھتہ خوروں کی جانب سے دھمکیاں مل رہی ہیں اور آئے روز انڈسٹریل اسٹیٹ حیات آباد پشاور میں دستی بموں سے حملے کئے جا رہے ہیں جس نے کاروباری طبقہ کو شدید ذہنی اذیت میں مبتلا کر رکھا ہے۔ انہوں نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا کہ دہشت گردی اور کورونا وائرس سے متاثرہ بزنس کمیونٹی کے لئے ایک نئے مالیاتی پیکیج کا اعلان کیا جائے تاکہ اس صوبہ میں صنعتی اور تجارتی سرگرمیاں فروغ پائیں اور روزگار کے مواقع میسر آسکیں۔ اس سے قبل سرحد چیمبر کے سابق صدور ملک نیاز احمد ٗ ریاض ارشد ٗ زاہداللہ شنواری اور دیگر نے خطاب کرتے ہوئے فیکٹریوں …

مزید :

پشاورصفحہ آخر -