حکومت گرانے اور بچانے کا موسم چل رہا ہے،سید مصطفی کمال

 حکومت گرانے اور بچانے کا موسم چل رہا ہے،سید مصطفی کمال

  

کراچی (اسٹاف رپورٹر)پاک سرزمین پارٹی کے چیئرمین سید مصطفی کمال نے کہاہے کہ حکومت گرانے اور بچانے کا موسم چل رہا ہے، کیا کبھی ان رہنماؤں نے عوام کے بارے میں سوچا ہے،تحریک عدم اعتماد آجائے گی اس کے بعد کیا ہوگا؟،جو ایک دوسرے کی شکل نہیں دیکھناچاہتے تھے وہ آج ملاقاتیں کررہے ہیں، افغانستان کی جنگ ختم نہیں ہوئی، بلکہ پاکستان منتقل ہوگئی ہے۔مقامی احتساب عدالت میں پیشی کے بعد میڈیا سے گفتگومیں پاک سر زمین پارٹی کے سربراہ نے کہا کہ وہ لوگ جو ایک دوسرے کی شکل نہیں دیکھنا چاہتے تھے وہ دن میں دو دو تین تین ملاقاتیں کر رہے ہیں۔انہوں نے کہاکہ صرف وزیر اعظم کو ہٹا کر دوسرے وزیر اعظم لانے سے لوگوں کے حالات میں بہتری نہیں آئے گی۔انہوں نے کہاکہ تحریک عدم اعتماد آجائے گی اس کے بعد کیا ہوگا؟ حکومت کے اتحادیوں کو سمجھ نہیں آرہی کدھر جائیں۔انھوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان کو ہٹا کردوسرا وزیراعظم لانے سے حالات نہیں بدلیں گے۔حکمران اختلافات بھلا کر ایک ہونے کوتیار نہیں ہیں،ملک میں تبدیلی لائے بغیر عوام کے حالات تبدیل نہیں کئے جاسکتے۔ مصطفی کمال نے کہا کہ دنیا میں کوئی نظام ایسے نہیں چلتا، جیسے پاکستان میں چلتا ہے۔ کیا سڑکیں بنانا ایم این ایز کا کام ہے؟ کارکنان اپنے لیڈرز سے اختیارمانگیں۔ شہریوں کی پہنچ کبھی ایم این ایز اور وزیراعلی تک نہیں ہوتی۔انہوں نے کہا کہ ایم این اے، ایم پی ایز کا کام قانون سازی کا ہے، کیا ایم این اے کا کام ہے گلی، نالیاں اور سڑک بنانا، قانون سازی کے علاہ ایم این اے سب کام کر رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ حکومت نااہل رہی۔ ملک کی دولت وزیراعظم اور چار وزرا اعلی تک محدود ہے۔ ایم این ایز کو بھاری بھاری فنڈز دیئے جارہے ہیں حکومت گرانے اور بچانے والوں کو عوام کی فکر نہیں۔مصطفی کمال نے کہا کہ وزیر اعظم اور وزیر اعلی ہاؤس سے اختیارات نچلی سطح تک لیکر نہیں جائیں گے تولوگوں کا حال بد سے بدتر ہوتا جائے گا کیونکہ پانی سیورج کچرا اٹھانے تک اختیارات صوبائی حکومت کے پاس ہے۔انہوں نے کہاکہ کراچی میں حالات سب کے سامنے ہیں۔، پیپلز پارٹی شہر کو اوون نہیں کر رہی۔ایم کیو ایم نے ایک ٹکے کا کام نہیں کیا، کوٹہ سسٹم کو ختم کرنے کے نام پر بننے والی پارٹی ایم کیو ایم نے ایک دن بھی کوٹہ سسٹم کے خلاف ہڑتال نہیں کی۔انہوں نے کہاکہ ہم نے ماضی میں بہترین انداز میں معاملات سنبھالے۔مصطفی کمال نے سانحہ پشاور پر تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ اللہ لواحقین کو صبر دے، میں پہلے دن سے کہہ رہا تھا کہ افغانستان کے معاملے پر جشن منا رہے ہیں۔ افغانستان کی صورتحال کا اثر پاکستان پر پڑ رہا ہے۔ افغانستان کی جنگ ختم نہیں ہوئی، بلکہ پاکستان منتقل ہوگئی ہے۔

مزید :

کراچی صفحہ آخر -