عورت کا تقدس اور مستحکم خاندان ہی ملکی سالمیت کی ضمانت ہے:پروفیسر محمد سلفی

عورت کا تقدس اور مستحکم خاندان ہی ملکی سالمیت کی ضمانت ہے:پروفیسر محمد سلفی

  

      کراچی (اسٹاف رپورٹر) جماعت غرباء اہلحدیث پاکستان کے نائب امیر عرب و عجم کے بڑے بڑے ممالک میں دعوت و تبلیغ اور اشاعت دین کے پرچم کو سربلند کرنے والے معروف دینی اسکالر و جامعہ ستاریہ الاسلامیہ کے مدیر پروفیسر محمد سلفی نے "عالمی یوم نسواں " کے موقع پر دین اسلام کے مدلل دلائل و براہین پر مبنی جماعت کے میڈیا ترجمان عبدالرحمٰن حقانی کو بتاتے ہوئے کہا کہ جماعت غرباء اہلحدیث پاکستان کے تحت پورے پاکستان میں اور خصوصاً سندھ کے پسماندہ اور دورافتادہ علاقوں میں "عورت کا تقدس اور مستحکم پاکستان " کے موضوع پر لاہور میں پروفیسر زاہد ہاشمی الازہری، مولاناشفیق پسروری، پشاور میں  مولانا عبدالعزیز نورستانی، ساہیوال میں مولانا عبدالرحمٰن رحیمی، قاری یحیٰ رسول نگری رحمہ اللہ کے صاحبزادے مولانا اظہار الحق، مولانا قاری احسن یحیٰ اور ڈاکٹر حافظ فہداللہ مراد جبکہ حیدرآباد سندھ میں مولانا قاری شیر محمد حقانی، مولانا اسامہ امین مولاناعبداللہ علوی،  الشیخ عبدالوہاب چندریگر کے علاوہ کراچی کے پانچوں اضلاع میں جماعت کے رئیس الناظمین مولانا قاری محمد ابراہیم جونا گڑھی، ممتاز دینی محقق و اسکالر ڈاکٹر عامر عبداللہ محمدی،شبان غرباء اہلحدیث پاکستان کے ناظم اعلیٰ مولانا علامہ عبدالخالق فریدی، جامعہ ستاریہ الاسلامیہ کے نائب مدیر و ناظم اعلیٰ مولانا حافظ مفتی محمد انس مدنی، صحیفہ اہلحدیث کے مدیرو نامور صحافی مولانا عبدالعظیم حسن زئی، نائب معاون مدیر مولانا حافظ محمد نعیم راشد،مولانا محمد طفیل عاطف کے علاوہ جماعت کے سینئر مفتی و جامعہ الاحسان کے استاد مولانا عبدالوکیل ناصر، قرآنک انسٹی ٹیوٹ کے مدیر مولانا حافظ مفتی صہیب شاہد دہلوی، جماعت کے نڈر بے باک  سپاہی علامہ مولانا جمیل اظہر وتھرا، جامعۃ الاحسان کے مدیر مولانا شیخ محمد احسن سلفی، مولانا محمد اسحٰق نذیر، مساجد و مدارس کے وسیع عریض سیمینار ہالز میں عورت کے تقدس اور مستحکم خاندان کی مناسبت سے خطابات کرینگے۔ اور 22کروڑ پاکستانی عوام کی دہلیز پر اسلام میں عورت کی اہمیت پر مبنی لٹریچر اور سپلمینٹ فراہم کیا جائے گا۔ جب کہ جید علماء اکرام مفتیان دین "تحفظ نسواں ایکٹ"  کی مناسبت سے اپنی تقاریر میں عورت پر ظلم و زیادتی، بچوں کو قتل  اور عورت کو ذلت و تحقیر اور اخلاقی پستیوں سے کیسے نکالا جاسکتا ہے۔ اور حقو ق نسواں کے اہم مسئلہ معاشرے میں اور ملک میں کسیے اجاگر کیا جاسکتا ہے، مولانا سلفی نے کہا کہ جماعت کے مقتدر علماء کرام اپنے خطاب میں یہ با ت خاص طور پر اجاگر کرینگے کے ہمارے اہم خاندانوں کی چشم و چراغ تعلیم یافتہ خواتین ایوان بالا، پارلمنٹ ہاؤس، قومی و صوبائی اسمبلیزکی اہم رکن ہیں جب کہ دوسری طرف تھرپارکر سندھ اور پاکستان کے دیگر صوبوں میں عورت کے حقوق اور اس کے تقدس کو سر بازار پامال کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں، پاکستان کا ہر شہری آزاد ہے لیکن پاکستان کے قانونی اور اسلامی قوانین کا پابند بھی ہے۔ مولانا سلفی نے مزید کہا کہ حقو ق نسواں کو شریعت مطہرہ کے مطابق ہر گھر میں اجاگر کیا جائے تاکہ آج کی مادیت پرست دور کی خاتون بھی اسلامی طرز عمل پر عمل پیرا ہوسکے۔ جب ہم پاکستان کے قوانین اور اسلامی قوانین کو زندگی کے ہر شعبہ میں فالو کرینگے تو ہم پاکستان میں عورت کو تحفظ، خاندانی استحکام اور مستحکم پاکستان کوشرمندہ تعبیرکر سکیں گے۔  یہی اسلامی معاشرت، معیشت، معاشرہ کے ہر فرد کیلئے سود مند ثابت ہوسکتی ہے۔ جیسے محمد عربی  ﷺ ، خلفاء راشدین، صحابہ کرام، صحابیات اور امامان دین نے اپنے اپنے دور خلافت میں اسلامی قانون عملاً رائج کیا ہوا تھا ہمیں چاہیئے کہ ہم بھی  اور ہمارے حکمران بھی حقوق نسواں پر کام کرنے والی ملکی و غیر ملکی  NGOsبھی اسوہٗ رسول  ﷺ ، اسوہ صحابہ کرام اور اسوہ صحابیات کو اپنی زندگی کارول ماڈل (آئیڈیل)  بنائیں تو وہ دن دور نہیں جب ہم پاکستان کے قریہ قریہ بستی بستی میں حقو ق نسواں کے عملی مظاہر کو عملی جامہ پہنانے میں کامیاب ہوسکتے ہیں۔

مزید :

کراچی صفحہ آخر -