سلامتی کونسل کی جانب سے پشاور میں ہونے والی دہشت گردی کی مذمت 

سلامتی کونسل کی جانب سے پشاور میں ہونے والی دہشت گردی کی مذمت 
سلامتی کونسل کی جانب سے پشاور میں ہونے والی دہشت گردی کی مذمت 

  

نیویارک (طاہر چوہدری سے) سلامتی کونسل کی صدر   کی طرف سے جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ سلامتی کونسل کے ارکان  4 مارچ 2022 بروز جمعہ کو پاکستان کے شہر پشاور کی کوچہ رسالدار مسجد میں ہونے والے گھناؤنے اور بزدلانہ دہشت گردانہ حملے کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہیں جس کے نتیجے میں کم از کم 62 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے. 

سلامتی کونسل کے ارکان نے متاثرین کے اہل خانہ اور حکومت پاکستان سے اپنی گہری ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کیا اور زخمیوں کی جلد اور مکمل صحت یابی کی دعا کی. سلامتی کونسل کے ارکان نے اس بات کا اعادہ کیا کہ دہشت گردی اپنی تمام شکلوں اور مظاہر میں بین الاقوامی امن و سلامتی کے لیے سنگین ترین خطرات میں سے ایک ہے. سلامتی کونسل کے ارکان نے دہشت گردی کی ان قابل مذمت کارروائیوں کے مرتکب افراد، منتظمین، مالی معاونت کرنے والوں اور اسپانسر کرنے والوں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کی ضرورت پر زور دیا. 

 اور تمام ریاستوں پر زور دیا کہ وہ بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کے تحت اپنی ذمہ داریوں کے مطابق فعال طور پر، اس سلسلے میں حکومت پاکستان اور دیگر تمام متعلقہ حکام کے ساتھ تعاون کریں. سلامتی کونسل کے ارکان نے اس بات کا اعادہ کیا کہ دہشت گردی کی کوئی بھی کارروائی مجرمانہ اور بلاجواز ہے، چاہے اس کا محرک کہیں بھی، جب بھی اور جس نے بھی کیا ہو.  انہوں نے اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قانون کے تحت بین الاقوامی انسانی حقوق کے قانون، بین الاقوامی پناہ گزینوں کے قانون اور بین الاقوامی انسانی قانون سمیت دیگر ذمہ داریوں کے مطابق، تمام ریاستوں کو ہر طرح سے لڑنے کی ضرورت کا اعادہ کیا، جس کی وجہ سے بین الاقوامی امن اور سلامتی کو  دہشت گردی کی کارروائیوں سے خطرات لاحق ہیں.

مزید :

بین الاقوامی -