ن لیگ کی چیف آرگنائزر مریم نواز کی خدمت میں چند مشورے

ن لیگ کی چیف آرگنائزر مریم نواز کی خدمت میں چند مشورے
ن لیگ کی چیف آرگنائزر مریم نواز کی خدمت میں چند مشورے

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


 سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد اب کوئی شک نہیں رہا کہ پنجاب اور خیبرپختونخوا میں اپریل کے آخر میں صوبائی اسمبلیوں کے الیکشن ہوں گے۔اگر یہ کہاجائے تو غلط نہ ہوگا کہ عمران خان کا پیغام حقیقی آزادی گھر گھر پہنچ چکا ہے اور ووٹروں (بالخصوص نوجوانوں) کا ایک وسیع حلقہ عمران خان کا گرویدہ ہوچکا ہے۔اس سے یہ بات یقین سے کہنی پڑتی ہے کہ اکثریتی ووٹ لینے کے لئے عمران خان کی جماعت کو زیادہ تگ و دو نہیں کرنی پڑے گی۔ پنجاب جو کبھی مسلم لیگ(ن) کا گڑھ تھا اس قلعے میں اب جگہ جگہ پر شگاف پڑ چکے ہیں۔ بلکہ لاہور جیسے شہر میں بھی اب سو فیصد رزلٹ حاصل کرنا مسلم لیگ (ن) کے لئے مشکل ہوچکا ہے۔اس کی ایک وجہ عمران خان اور ان کے قائدین کا عوام الناس سے مسلسل رابطہ ہے جبکہ مسلم لیگ (ن) کے تمام قائدین اپنے اپنے بنگلوں تک محدود رہے ہیں کسی ایک نے بھی عوام سے رابطہ کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی۔ اتحادی حکومت قائم ہونے کے بعد تمام مسلم لیگی قائدین حکومتی عہدوں پر براجمان ہوچکے ہیں اور وزراتوں کے مزے لوٹ رہے ہیں۔رانا ثناء اللہ جو پنجاب کے صدر ہیں انہوں نے بھی آپ کے آنے سے پہلے عوام کے پاس جانے کی ضرورت محسوس نہیں کی۔ کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ مسلم لیگ (ن) نواز شریف کی پارٹی ہے جس کی پارٹی ہوتی ہے وہی اس کی حفاظت کرتا ہے اور عوام میں مقبول عام بنانے کی ہر سطح پر جستجو کرتا ہے۔کون نہیں جانتا کہ 2013ء کے الیکشن میں نواز شریف نے پوری محنت اور تندھی سے ایک شہر سے دوسرے شہر اور ایک صوبے سے دوسرے صوبے کے عوام سے نہ صرف رابطہ کیا بلکہ وہاں کے مقامی قائدین کو ذاتی طور پر ملاقات کرکے مسلم لیگ(ن) میں آنے اور اس کے پلیٹ فارم پر الیکشن میں حصہ لینے کی دعوت دی۔

یہی وجہ تھی کہ 2008ء کے الیکشن میں جہاں جہاں پیپلزپارٹی کا بول بالا تھا۔ 2013ء کے الیکشن میں نواز شریف کی محنتوں کا ثمر کامیابی کی شکل میں حاصل ہوا  بلکہ عمران خان کے بڑے بڑے جلسوں کے باوجود نواز شریف نے چاروں صوبوں میں نہ صرف اپنا وجود منوایا بلکہ حکومت بنانے کیلئے مسلم لیگ(ن) اکثریتی پارٹی کی حیثیت سے اُبھر کر سامنے آئی۔یہ سب کچھ بتانیق کا مقصد یہ ہے کہ نواز شریف تو اس وقت میدان میں موجود نہیں ہیں لیکن نون لیگ کے قائدین کا رابطہ نہ ہونے کی بنا پر ووٹروں کی خاصی بڑی تعداد تحریک انصاف کی ہمنوا بن چکی ہے۔اب آپ (قمریم نواز) چیف آرگنائزر کی حیثیت سے میدان سیاست میں اتری ہیں تو آپ کی بات میں وہی جوش اور جذبہ دکھائی دیتا ہے جس کی بہت پہلے سے ضرورت تھی۔ بیشک آپ نے پنجاب کے چنداضلاع کا دورہ کرکے کارکنوں اور عوام سے رابطہ بھی کیا ہے۔یقینا یہ اچھی بات ہے لیکن اب آپ کو نواز شریف کی طرح ایک شہر سے دوسرے شہر، ایک صوبے سے دوسرے صوبے کا طوفانی دورہ بھی کرنا ہوگا۔تب آپ پنجاب میں بالخصوص اور کے پی کے میں بالعموم کسی حد تک کامیابی کی توقع کرسکتی ہیں۔ ماہ رمضان کی آمد سے پہلے گیارہ دن پنجاب میں تحصیل سطح پر عوام الناس کو کارکنوں کے ذریعے مسلم لیگ(ن)کا پیغام پہنچایا جائے اور انہیں بتایا جائے کہ موجودہ اتحادی حکومت کی جانب سے مہنگائی کا پس منظرکیا ہے بلکہ یہ سب کچھ عمران خان اور آئی ایم ایف کے بدترین معاہدے کی بناپر کرنا پڑا ہے۔آپ (مریم نواز) صرف پنجاب ہی کو فوکس نہ کریں بلکہ خیبرپختونخوا کے تمام اضلاع کا اپنی حفاظت کے تمام تر اقدامات ممکن بناتے ہوئے ضرور دورہ کریں اور وہاں کے عوام کو بھی نواز شریف کا پیغام پہنچائیں جو کے پی کے میں کامیابی حاصل کرنے کیلئے بے حد ضرور ی ہے۔مجھے یقین ہے اگر آپ نے ماہِ رمضان شروع ہونے سے پہلے رابطہ عوام مہم مکمل کر لی تو دونوں صوبوں کے الیکشن میں مسلم لیگ(ن) بہتر پوزیشن پر دکھائی دے گی۔

مزید برآں اپنی تقریروں میں بار بار عدلیہ کو ہدف تنقید نہ بنائیں کیونکہ عدلیہ ہی کے ذریعے نواز شریف کو ریلیف مل سکتا ہے۔ یہاں یہ عرض کرتا چلوں کہ صرف عوام سے رابطہ مہم ہی کافی نہیں بلکہ نواز شریف کے دور میں جوپرائمری یونٹ قائم کیے گئے تھے، ان کو فوری طور پر بحال کریں اور صوبائی حلقوں کی ٹکٹوں کا فیصلہ کرنے سے پہلے مقامی مسلم لیگی پرائمری یونٹوں کی رائے مقدم رکھی جائے۔ خیبر پختونخوا میں بھی پرائمری یونٹ قائم کرنے کیلئے وہاں کی مسلم لیگی قیادت کو ڈور ٹو ڈور رابطوں کے لئے کہا جائے۔اس وقت صورت حال یہ ہے کہ جتنے بھی مسلم لیگی قائدین ہیں وہ سب کے سب عوام سے دور ہیں ان کا عوام سے کوئی رابطہ نہیں۔ بلکہ مسلم لیگ (ن) کے تمام مرکزی قائدین کا تعلق صرف سنٹرل پنجاب سے ہے جنوبی پنجاب اور بقیہ تینوں صوبوں میں ن لیگ کی مرکزی تنظیم صفر تک پہنچ چکی ہے۔ گزارش یہ ہے کہ انتظامی عہدوں اور جماعتی عہدوں کو فوری طور پر الگ کردیا جائے۔ ان لوگوں کو مسلم لیگ(ن) کے مرکزی اور صوبائی عہدوں پر فائز کیا جائے جو عملی طورپرعوام سے رابطہ کرنے میں پرجوش دکھائی دے رہے ہیں اور ان کے پاس مالی وسائل بھی موجود ہونے ضروری ہیں۔ آپ (مریم نواز) اکیلی مختصر وقت میں دونوں صوبوں کے عوام سے براہِ راست رابطہ نہیں کرسکتیں اس لئے مقامی علاقوں کے قائدین پر مشتمل پینل بنائے جائیں جو عوام سے رابطہ مہم میں آپ کی معاونت کریں۔ اپنا نیا منشور تیارکرکے اس کو مقامی رہنماؤں کے توسط سے عوام تک پہنچایا جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ میں یہ بھی مشورہ دینا چاہتا ہوں کہ چودھری نثار احمد خان، سردار مہتاب خاں عباسی، پیر صابر شاہ، ذوالفقار کھوسہ اورجاوید ہاشمی جیسے لوگ مسلم لیگ (ن) کا اثاثہ ہیں۔اگر  ان کی ناراضگی دور کرکے آپ انہیں مسلم لیگ (ن) کے لیے کام کرنے پر آمادہ کرلیں تو یہ لوگ مسلم لیگ(ن) کی کامیابی کیلئے مثبت کردار ادا کرنے کو تیار ہوں گے۔اگر آپ نے مستقبل میں قومی سطح پر کوئی کردار ادا کرنا ہے تو روٹھے ہوئے مسلم لیگوں کی ناراضگی فوری طور پر دور کرنا بہت ضروری ہے۔

مزید :

رائے -کالم -