اپنے استنبول میں

اپنے استنبول میں
اپنے استنبول میں

  

جعفر حسن مبارک کا سفر نامہ ” اپنے استنبول میں “ پڑھ کرایک بار پھر فیصل آباد کی زرخیز مٹی کا یقین ہو گیا۔ کیسے کیسے نابغہ ¿ روز گار اور عظیم انسان یہاں پیدا ہوئے اور اپنی مٹی سے وفا کے لئے کیسے کیسے عظیم کارنامے سرانجام دیئے، جس کی شاہد اور گواہ پوری دُنیا ہے....300سے زائد صفحات پر مشتمل جعفر حسن مبارک کا استنبول کا سفر نامہ نہایت دلچسپ اور دل آفرین پیرائے میں بیان کیا گیا ہے۔ اس سفر نامے میں جدید و قدیم ترکی کی تاریخ، خلافت عثمانیہ، ادب، سیاست، معاشرت، تہذیب و تمدن، ثقافت، افکار و نظریات، پاک ترک دوستی، غرض بہت کچھ قارئین کے لئے موجود ہے۔ وہ قاری کی انگلی پکڑ کر استنبول کے گوشے گوشے اور کونے کونے میں گھماتا، اس کی تاریخ اور شہرت سے آگاہ کرتا ہے اور اپنے تبصرے سے اس میں خلوص کی چاشنی بھر دیتا ہے۔

جعفر حسن مبارک کا تعلق مردم خیز سرزمین فیصل آباد سے ہے اور وہ سچا پاکستانی اور محب وطن ادیب ہے، اس لئے وہ ترکی کو دیکھتا بھی ہے اور پاکستان سے موازنہ اور مماثلت بھی کرتا جاتا ہے۔ وہ وطن و قوم سے پیار اور درد رکھنے والا انسان ہے، اس لئے وطن عزیز کے لئے بھی تڑپ رکھتا ہے۔ وہ خود بھی ترکی اور استنبول کے نظارے کرتا ہے اور اپنے قلم سے اپنے قاری کو بھی وہاں کی سیر کرواتا ہے....”یہ استنبول ہے“.... اس کا اصل نام ”اسلامبول“ ہے، اس کی تاریخی وجہ تسمیہ یہ ہے۔ یہ باسفورس ہے۔ یہ خلافت عثمانیہ کا مرکزی شہر اور دارالخلافہ رہا ہے۔ یہاں کیسے کیسے حکمران آئے، کیسی کیسی تبدیلیاں اور انقلابات رونما ہوئے۔ یہ نیلی مسجد ہے۔ یہ آیا صوفیہ، دولمہ باغچہ، مسجد سلطان احمد، توپ کپی سرائے، حیدر پاشا ریلوے سٹیشن، ترک حمام،چھتہ بازار، استنبول یونیورسٹی، شاہزادگان کے جزیرے، مقبرہ معمار سنان، خیرالدین بار بروصہ، کانسٹنٹائن بادشاہ کا آبی محل، گلاتہ اور لینڈر کا ٹاور وغیرہ سب بڑے دلچسپ تاریخی حوالوں سے بیان کرتا ہے۔ اس کا اسلوب شاعرانہ بھی ہے اور نثری ادب کا شاہکار بھی۔

میرے خیال میں جعفر حسن مبارک کا یہ سفر نامہ ایک تاریخی، ادبی سفرنامہ اور اہم دستاویز ہے جو ترکی، ترک معاشرت و سیاست اور ادب سے دلچسپی رکھنے والوں کے لئے نسخہ ¿ کیمیا ہے۔ ویسے دیکھنے میں جعفر حسن مبارک ایک عام سا آدمی دکھائی دیتا ہے، لیکن اسے قریب سے جاننے والے جانتے ہیں کہ وہ اندر سے کتنا گہرا انسان ہے۔ وہ اپنے اندر بہت سارے گن لئے ہوئے ہے۔ وہ فیصل آباد کا حقیقی نمائندہ ہے۔ مَیں نے دو ہی روز میںاپنے استنبول میں “ پڑھ لیا تھا، جب مَیں نے سفرنامہ ختم کیا تو رات کے تقریباً دو بجے تھے۔ غالباً جعفر حسن مبارک بھی اس وقت سو رہا تھا، لہٰذا مَیں نے اسے اپنے دل کے جذبات اپنے موبائل سے ایک تعریفی اور تحسین بھرے جذبات کا ایس ایم ایس ڈال دیا اور اُسے ایک کامیاب سفر نامہ لکھنے پر داد دے دی تھی، البتہ اگلے روز 10بجے کے قریب مَیں نے اُسے کال کر کے بھی اپنے جذبات پہنچا دیئے۔ ظاہر ہے وہ بڑی خوشی محسوس کر رہا تھا ۔

کہنے لگا،بھٹی صاحب!ادیب لوگوں کو اور کیا چاہئے، وہ صرف اپنے کام کی داد چاہتے ہیں۔ تعریف و تحسین ان کے لئے آکسیجن کا کام دیتی ہے جو ایک ادیب کو مزید اچھا ادب تخلیق کرنے اور لکھنے کا حوصلہ اور ہمت بخشی ہے۔ اس نے میرا بھی شکریہ ادا کیا اور بتایا کہ دبئی کا سفرنامہ اور اپنی شاعری کا مجموعہ بھی مجھے ارسال کرے گا۔ نیز وہ ماہانہ میگزین بھی بڑے اہتمام سے شائع کرواتے ہیں، وہ بھی ہمیں عنایت کریں گے۔

جعفر حسن مبارک سے بات کرنے کے بعد مَیں سوچ رہا تھا کہ وطن عزیز کے کتنے ہی ادیب ہیں، جو آج بھی اپنا سب کچھ جمع پونجی ادب کی خدمت کے لئے صرف کئے ہوئے ہیں۔ بچپن میں سنا اور پڑھا تھا کہ ایک ادیب اور شاعر کسی قوم کا دماغ، آنکھیں، کان اور ذہن ہوتا ہے۔ ضرورت اِس بات کی ہے کہ حکومتی اور سرکاری طور پر ایسے ادیبوں، شاعروں، نثر نگاروں، کہانی نویسوں، افسانہ و ڈرامہ نگاروں، سفر نامہ نویسوں، دانشوروں اور صحافیوں کو مراعات اور سہولتیں دی جانی چاہئیں تاکہ وہ بہتر طور پر ادب تخلیق کر سکیں۔ ہر شہر میں ایک نہیں کئی ”پاک ٹی ہاﺅس“ ہونے چاہئیں۔ ادیبوں کی تمام معیاری تخلیقات کا اشاعت کا اہتمام حکومت اور سرکار کرے اور مالی آسودگی کے لئے باقاعدہ وظائف، مراعات اور سہولتیں دے تاکہ ہم اپنا ادب، تا ریخ، ثقافت، کلچر، تہذیب، روایات، معاشرت ، اقدار بہتر طور پر محفوظ کر کے اپنی آئندہ آنے والی نسلوں کے لئے وقف کر چھوڑیں۔     ٭

مزید : کالم