تنقید مثبت ہونی چاہئے

تنقید مثبت ہونی چاہئے

قومی انتخابات کے انعقاد کی مقررہ تاریخ 11مئی 2013ءاب صرف چند روز کے فاصلے پر ہے، ان شاءاللہ ووٹر اپنی پسند کے امیدواروں کو ووٹ دے کر نئے نمائندے منتخب کریں گے۔ بعض مقامات پر بم دھماکے یا خود کش حملے تادم تحریر ہو رہے ہیں۔ موجودہ نگران وفاقی اور متعلقہ صوبائی حکومتوں کو تخریب کاری کے ایسے واقعات کی روک تھام کے لئے حالات اور اطلاعات کی روشنی میں سخت احتیاطی تدابیر اور مو¿ثر کارروائیاں اختیار کرنے پر بسرعت تیار رہنے اور عمل کرنے کی ضرورت ہے۔ دہشت گردی سے نجات حاصل کرنے کی خاطر غیر ملکی حملہ آور مسلح افواج کو افغانستان سے کوچ کرنے میں مدد اور معاونت فراہم کرنے کے ساتھ باہمی مذاکرات میں امریکی حکمرانوں کو یہ بات ذہن نشین کرائی جائے کہ غیر ملکی افواج کو بلاتاخیر افغانستان سے واپس اپنے ممالک کو بھیج دیا جائے، کیونکہ 2014ءاب محض چند ماہ میں شروع ہونے والا ہے۔

ان غیر ملکی طاقتوں کو پاکستان کے مختلف مقامات پر دھماکے کرنے اور کرانے کی کارروائیوں کو اب خیرباد کہہ دینا چاہئے ، جن سے بہت سی قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع کے ساتھ، مالی نقصان بھی ہوتا ہے۔ انتخابی مہم کی گہما گہمی کو تہہ و بالا کرنے کی کارروائیوں کو، کسی مہذب معاشرے میں نظر انداز اور معاف نہیں کیا جا سکتا۔ کراچی، پشاور، کوئٹہ اور گردونواح کے علاقوں میں انتخابی جلسوں کے قرب و جوار میں بم دھماکوں کے جاری منفی رجحان کو روکنے کے لئے متعلقہ اداروں کو مزید چوکس، منظم اور جدید دفاعی اقدامات پر توجہ دینی چا ہئے۔ فرقہ واریت اور علاقائی منافرت کے جذبات کو ہوا دینے سے ممکنہ حد تک گریز کیا جائے۔ ملک دشمن عناصر کی سازشی سرگرمیوں کی سرکوبی کرنے کے لئے ممکنہ کوششیں بروقت بروئے کار لائی جائیں۔

انتخابی مہم میں محض مخالفت برائے مخالفت کی روایتی منفی حکمت عملی کو ترک کر کے قومی مفاد پر مبنی منصوبوں اور پالیسیوں کی جلد تعمیل و تکمیل کے لئے زور دیا جائے، کیونکہ برسر اقتدار سیاسی قائدین کو ہی یہ حق اور اختیار حاصل ہے کہ وہ صحیح معنوں میں ایسے منصوبوں کو ترجیح دیں، جو عوام کی ضرورت اور سہولت کے لئے فوری طور پر یا جلد تیاری کے مراحل سے گزر کر پایہ¿ تکمیل کو پہنچ سکیں۔ ان منصوبوں کا متعلقہ قواعد و ضوابط اور اعداد و شمار کے مطابق عملی طور پر اپنے علاقوں یا حلقوں میں وجود بھی نظر آئے۔ ان میں اگر کوئی فنی یا میٹریل کی کمی اور خرابی ہو، تو اس کی بھی نشان دہی، ٹھوس ثبوت کے ساتھ کی جائے۔ اگر ایسے امور کی وضاحت کے بغیر محض بددیانتی اور مالی خورد برد کی الزام تراشی کی جائے، تو اسے منفی تنقید یا مخالفت برائے مخالفت کی پالیسی سے تعبیر کیا جا سکتا ہے۔ یہ انداز ِ فکر و عمل، حسد اور مخالفانہ روایت کے تسلسل کا آئینہ دار ہے، اسے جاری رکھنے کا ہر گز کوئی جواز نہیں۔

کیا وطن عزیز میں، یہ منفی رجحان، متعدد مسائل اور منصوبوں کی کارکردگی اور ردعمل کی تنقید میں کار فرما نہیں؟ کیا یہ مہذب اور مثبت رویہ اور تعمیری طرز عمل ہے؟.... ضرورت اس امر کی ہے کہ اب اسے ترک کر کے آگے بڑھنے کا راستہ اپنایا جائے۔ اس ضمن میں عدالتی فیصلوں پر عمل درآمد کی ہر ممکن سعی کی جائے۔ مالی بددیانتی، خورد برد اور سرکاری دولت و وسائل کی لوٹ کھسوٹ پر کڑی نظر رکھنا محب وطن لوگوں کے لئے ضروری ہے۔ اگر کسی شخص یا ادارے کے پاس کوئی ثبوت ہوں، تو وہ ضرور متعلقہ اداروں اور عدالتوں میں جا کر، بدعنوانی کی کارروائیوں کو بے نقاب کر کے، خورد برد کرنے کے مرتکب افراد اور عناصر سے مذکور مالی رقوم واپس لینے کی کوشش کرے اور انہیں سزا دلانے کے لئے قانونی اقدامات کرے، غنڈہ عناصر کے وسائل اور باہمی اتحاد کی بنا پر ان کے خلاف تادیبی کارروائیاں بلاشبہ مشکل سے کامیاب ہوتی ہیں، لیکن اگر محاسبے پر متعین لوگ، پختہ ارادوں اور ٹھوس شہادت سے لیس ہوں ،تو قانون شکن اور قومی وسائل کی لوٹ کھسوٹ اور خوردبرد میں ملوث سماج دشمن عناصر کی بڑی حد تک جلد سرکوبی اور حوصلہ شکنی کی جا سکتی ہے۔    ٭

مزید : کالم