انتخابی معرکہ اور نےاپاکستان ؟

انتخابی معرکہ اور نےاپاکستان ؟
انتخابی معرکہ اور نےاپاکستان ؟

  



پاکستان میں قومی و صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات میں چند دن باقی ہیں ، مگر غیر یقینی کے سائییابھی تک منڈلا رہے ہیں ۔ بعض دانشوروں کا خیال ہے کہ 11 مئی 2013 ء کو انتخابات کا انعقاد ہو گیا تو یہ کسی معجزے سے کم نہیں ہو گا ۔خدا کا شکر ہے کہ گزشتہ عشرے میں منتخب ہونے والی دو اسمبلیوں نے اپنی مدت پوری کی ۔ 2002 ءمیں منتخب ہونے والی ” کنگز پارٹی “ کی حکومت نے مدت اس لئے مکمل کی کہ ” کنگ “ وردی میں موجود تھا اور ان اسمبلےوں کو خطرہ بھلا کس سے ہو سکتا تھا ؟ 2008ءمیں اسمبلےاں ایک نام نہاد این آر او کے نتیے میں وجود میں آئیں ۔ این آر او کے ضامنوں میں سے اےک ضامن کے اےک اہم پوسٹ پر تعےنات رہنے سے ”جمہورےت کی گاڑی “ پٹڑی سے نہ اتر سکی ۔ ہر دو حکومتےں جمہورےت کی بدترےن تصوےر ہونے کے باوجود بہترےن آمرےت سے بھلی ثابت ہوئےں ۔

جمہوری سفر کے نتےجے مےں معاشرے عروج کا سفر طے کرتے ہےں ۔ جمہوری تسلسل جاری رہے تو گند صاف ہوتا ہے اور نظام کی تطہےر ہوتی رہتی ہے ۔2008 ءکے انتخابات مےں پےپلز پارٹی نے نظام کی اصلاح کرنے کی بجائے بددیانتی کی اےسی مثالےں قائم کیں،جن کے نتےجے مےں ان کے اےک ” نےک نام “ وزےر اعظم کو نہ صرف گھر جانا پڑا ،بلکہ وہ آئندہ انتخابات کے لئے بھی نااہل ہو گئے ۔ دوسرے وزےر اعظم قربانی کا بکرا بنتے بنتے بچے ۔ پےپلز پارٹی عملاً اس وقت ذرائع ابلاغ کی زوردار اشتہاری مہم کے نتےجے مےں زندہ ہے۔ مےدان سےاست مےں پےپلز پارٹی کے قائدےن ڈھونڈے سے بھی نہےں مل رہے ۔ سندھ مےں البتہ پےپلز پارٹی اپنی بقاءکے لئے اےڑی چوٹی کا زور لگا رہی ہے ۔ مسلم لےگ (ن) اور تحرےک انصاف ملک کے سب سے بڑے صوبے مےں باقی صوبوں کی نسبت زےادہ زور آزمائی مےں مصروف ہےں ۔

مسلم لےگ وفاق مےں دو بار اور پنجاب مےں چار بار برسراقتدار رہی ۔ آزمودہ پارٹی ہونے کے باوجود میاں برادران مستقبل مےں ایک بار پھر ملک میں دودھ و شہد کی نہرےں بہانے کے وعدے کر رہے ہےں ۔ تحرےک انصاف کے راہنما عمران خان کو ےہ کرےڈٹ جاتا ہے کہ انہوں نے دن رات کی محنت کے نتےجے مےں پاکستان کے نوجوانوں اور خواتےن کو بالخصوص اپنے ارد گرد اکٹھا کر کے سےاست مےں ارتعاش پےدا کر دےا ہے ، مگر ان کے بعض غےر سنجےدہ اقدامات شاےد ان کے بہتر مستقبل مےں سدراہ بن جائےں ۔ ہر دو پارٹےاں ذرائع ابلاغ اور بڑے جلسوں کے ذرےعے اےک دوسرے کو مات دےنے کی بھرپور کوششوں مےں مگن ہےں ۔ ” کالم نوےس “ ان پارٹےوں کو اےسے ” مےسر “ آئے ہیں، جو ان کی جماعتوں کے سےکرٹرےز اطلاعات سے بھی زےادہ ” جفا کش “ ہےں۔ ، تحرےک انصاف کے کالم نوےس نے تو خالصتاً قتال فی سبےل اﷲ کے لئے نازل کی گئی قرآن پاک کی آےت ” نکلو ہلکے ہو ےا بوجھل “ کو اپنے کالم کا موضوع بنا کر لوگوں کو نکلنے اور مقدر سنوارنے کی اپےل کی ہے۔ مسلم لےگ(ن) کے لئے سالہا سال سے ” ہلکان “ ہونے والے آج بھی اپنا تعارف بطور کالم نوےس کرا رہے ہےں ۔ ماشاءاﷲ ۔

سےد ابو الاعلی مودودی ؒ کی عصری مجالس مےں شرےک ، جماعت اسلامی کے تربےت ےافتہ دانشور جماعت اسلامی کے ” بےت المال “ کی کمزوری کے باعث اپنی دکانےں بڑھاکے کہاں سے کہاں پہنچ گئے ۔کوئی جماعت اسلامی کی ناکامی کی وجہ مولانا مودودی ؒ کی سےاسی تعبےر کی غلطی کو قرار دے رہا ہے،۔کوئی اسے لےموں نچوڑ قرار دے کر اپنا ” بخار “ اتار رہا ہے ۔ کسی کو جماعت اسلامی اےن جی او نظر آ رہی ہے اور کوئی جماعت اسلامی کے کسی اتحاد مےں شامل نہ ہو پانے کو جماعت اسلامی کی قےادت کی نالائقی قرار دے رہا ہے ۔جماعت اسلامی بھی انسانوں کی جماعت ، انسان غلطےوں کا پتلا اور جماعت اسلامی کی قےادت سے بھی ےقےناً بے پناہ غلطےاں ہوئی ہوں گی ۔

ہم تو 2008 ءمےں اسلام آباد کے الفلاح ہال مےں اے پی ڈی اےم کے اس اجلاس کے عےنی شاہد ہےں ،جس مےں مسلم لےگ ( ن ) کے راہنما¶ں چودھری نثار علی خان اور راجہ ظفر الحق شامل تھے۔ ہر دو رہنما¶ں نے اصرار کےا تھا کہ انتخابات کا بائےکاٹ کےا جائے ۔ اﷲ تعالیٰ قاضی حسےن احمد کو غرےق رحمت کرے،انہوں نے کہا کہ دو دن بعد مےاں نواز شرےف جلا وطنی ترک کر کے پاکستان واپس لوٹ رہے ہےں، بائےکاٹ کا فےصلہ ان کی واپسی تک موخر کر دےا جائے ،مگر مسلم لےگ کے رہنما¶ں کے اصرار پر اے پی ڈی اےم کی جماعتوں نے بائےکاٹ کا اعلان کر دےا ۔ قاضی صاحب نے کہا کہ وہ اپنی جماعت کی مجلس عاملہ کو اعتماد مےں لےنے کے بعد اس کے متعلق فےصلہ کرےں گے ۔ چودھری نثار نے جماعت کے امےر قاضی حسےن احمد کو ےقےن دہانی کرائی کہ اگر مےاں نوازشریف نے فےصلہ بدلا تو وہ اور راجہ ظفر الحق مسلم لےگ کو خےر باد کہہ دےں گے ۔مےاں نوازشریف نے واپس لوٹتے ہی اے پی ڈی اےم کی جماعتوں سے بے وفائی کی ، انتخابات مےں حصہ لےنے کا اعلان کر دےا اور چودھری نثار علی خان کا مسلم لےگ(ن) کو خےر باد کہنا تو درکنار نوشہرہ کے ” خےر آباد “ کا پل بھی کراس نہ کر سکے ۔

مےاں نوازشریف کی وعدہ خلافےوں کی اےک تارےخ موجود تھی ، اس کو سامنے رکھا جاتا تو جماعت اسلامی 2008ءکے انتخابات کا بائےکاٹ کسی صورت میں نہ کرتی ۔ مےرے خےال مےں جماعت نے ان انتخابات کا بائےکاٹ کر کے تارےخی غلطی کی ۔ہمےں کسی کی نےت پر شبہ نہےں کرنا چاہےے ، مگر ہمارے وہ احباب جو جماعت اسلامی کو لےموں نچوڑ کے ساتھ ساتھ دائےں بائےں بازو کی بلےک مےلنگ کی پروردہ جماعت قرار دے رہے ہیں ،ان کی خدمت مےں عرض ہے کہ جماعت اسلامی نے نہ جھوٹے وعدے کئے ،نہ ان کے کسی رکن اسمبلی ےا وزےر نے مروجہ طرےق کار کے مطابق خود لوٹا، نہ کسی کو لوٹنے دےا، اس وجہ سے بھی وہ سکہ رائج الوقت کے تقاضوں کو پورا نہ کرنے کے سبب ” مقبول “ جماعت نہ بن سکی، مگر کےا ےہ حقےقت نہےں ہے کہ ووٹ کا غلط استعمال کر کے ہم بددیانت اور نااہل لوگوں کو منتخب کرنے کے بعد اگلے پانچ سال تک اپنی ہی منتخب کردہ قےادت کو گالےوں سے بھی نوازتے رہتے ہےں ۔

1970 ءکے الےکشن مےں جماعت اسلامی نماےاں سےٹےں تو حاصل نہیں کر سکی تھی ،مگر متحدہ پاکستان مےں اس نے بے پناہ ووٹ حاصل کےا ۔ جماعت کے درجنوں امےدوار محض چند صد ووٹوں سے انتخاب ہار گئے ۔ مےاں نواز شرےف کے ماضی کو سامنے رکھا جاتا تو 2013 ءکے انتخابات کے لئے مسلم لےگ ( ن ) سے مذاکرات سے متعلق جماعت کو سوچنا بھی نہےں چاہےے تھا ،مگر آج جو لوگ جماعت کی قےادت کو مطعون کر رہے ہےں، وہ ےہ بات کےوں بھول رہے ہےں کہ جماعت اسلامی کے درےش صفت امےر اےک بار نہےں ،دو بار چل کر عمران خان کے دولت کدے پر تشرےف لے گئے اور ان کی طرف کھلے دل سے دست تعاون بڑھاےا ۔ دونوں جماعتوں نے انتخابی اتحاد ےا سےٹ اےڈجسٹمنٹ کے لئے اعلیٰ سطحی کمےٹی بھی قائم کر لی تھی، مگر امےر جماعت اسلامی کے مطابق تحرےک انصاف کی قےادت نے غےر سنجےدگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے مذکورہ کمےٹی کا اجلاس ہی منعقد نہ کےا ۔

ذرائع کے مطابق ےہ بےل منڈھے نہ چڑھنے کا اےک سبب تو عمران خان کے اردگرد وہ لا دےن طبقہ، بالخصوص مغرب زدہ خواتےن تھےں جن کو جماعت کا دےنی چہرہ کسی بھی صورت میں قبول نہےں تھا۔ دوسری وجہ عمران خان کے ارد گرد وہ ” ہالہ “ تھا، جس نے جماعت اسلامی کو بہت زےادہ انڈر اسٹےمےٹ کرکے عمران خان کو گمراہ کےا ۔ انتہا پسندی کی جانب بڑھنے والے معاشرے مےں عمران خان امےد کی اےک کرن ہےں ۔ اس امےد کو ٹوٹنا نہےں چاہےے تھا۔ شاےد ےہی سوچ لے کر جماعت کی قےادت تحرےک انصاف کے دروازے پر دستک دےتی رہی ۔ عمران بڑے مجمعوں سے متاثر ہو کر جماعت کا تعاون حاصل نہ کر سکے ۔ اﷲکرے کہ عمران خان کی امےدےں بر آئےں اور جس تبدےلی کے وہ اعلانات کر رہے ہےں، وہ حقےقی تبدےلی پاکستانی قوم دےکھ سکے ۔

ترکی مےں طےب اردگان نے اپنی پارٹی مےں کئی صالح طبقات کو شامل کر کے بڑی تبدےلی کی بنےاد رکھی تھی ۔ پلوں کے نےچے سے اگرچہ بہت سا پانی بہہ چکا ،مگر ذےل مےں 2002 ءکے انتخابات جن مےں جماعت اسلامی ، اےم اےم اے کا حصہ تھی اور 2008 ئ، جن مےں وہ شامل نہیں تھی، کا فرق بےان کر کے عمران خان اور جماعت اسلامی کی قےادت سے اپےل کرےں گے کہ وہ صرف دو دن بےٹھ کر سےٹ اےڈجسٹمنٹ کے ذرےعے اب بھی ملک مےں اےک بڑی تبدےلی کی بنےاد رکھ سکتے ہےں ۔ 2002 ءکے انتخابات، جن مےں جماعت اسلامی اےم اےم اے کا حصہ تھی، ان انتخابات مےں پارلےمنٹ مےں اسے 187 سےٹےں حاصل تھےں ۔ جن مےں قومی اسمبلی مےں جمعےت علمائے اسلام کو 35 ، جماعت اسلامی کو 27 ، اور جمعےت العلمائے پاکستان کی 2 ، فاٹا کی 2 نشستےں ۔ سےنٹ مےں 21 نشستےں ، خےبر پختونخوا مےں اےم اےم اے کی 65 ، پنجاب 9 ، سندھ 8 اور بلوچستان مےں 17 نشستےں حاصل کی تھےں ۔

 2008 ءکا انتخاب اےم اےم اے جماعت اسلامی کے بغےر لڑتی ہے تو سےٹوں کا حجم سکڑ کر نہ ہونے کے برابر رہ جاتا ہے۔ ان انتخابات مےں پارلےمنٹ مےں 187 سے کم ہو کر صرف 46 سےٹےں رہ جاتی ہےں، جن مےں قومی اسمبلی مےں 10 ، سےنٹ میں 9 ، صوبائی اسمبلےوں کی کل 29، جن مےں سے خےبر پختونخوا 15 ، پنجاب میں 2 ، سندھ مےں کوئی سےٹ نہےں اور بلوچستان میں 10 سےٹےں حاصل ہوئےں ۔ رائے عامہ جاننے والے اداروں کے سروے کے مطابق جماعت اسلامی اور عمران خان کے اتحاد کے نتےجے مےں صوبہ سرحد مےں لےنڈ سلائیڈ حاصل کر کے دونوں جماعتوں کی حکومت بن سکتی ہے ، جبکہ جماعت کے تعاون سے پنجاب مےں نماےاں سےٹےں اور سندھ و بلوچستان مےں بھی دونوں جماعتےں کچھ نہ کچھ سےٹس ضرور حاصل کر سکتی ہےں ۔ اس لئے بعد از انتخاب کسی بڑے پچھتاوے سے بچنے کے لئے عمران خان ” دےن بےزاروں کے ہالے “ سے نکل کر حقائق کی دنےا مےں آ جائےں تو وہ درحقےقت اےک نئے پاکستان کی بنےاد رکھ سکتے ہےں ۔   

مزید : کالم