نئے پاکستان کا نعرہ ....عوام خوش فہمی میں نہ رہیں

نئے پاکستان کا نعرہ ....عوام خوش فہمی میں نہ رہیں
نئے پاکستان کا نعرہ ....عوام خوش فہمی میں نہ رہیں

  



 یہ تو سب کو معلو م ہے کہ 66برس پہلے جب نیا نیاپاکستان بنا تھا،تو اس کے پہلے وزیر اعظم جناب خان لیا قت علی خان تھے ....ان کا تعلق بھارت کے ضلع کر نا ل سے تھا ....خا ن صاحب اپنے علا قے کے سب سے بڑے جا گیر دا ر اورنو اب تھے.... انہو ں نے ہندوستا ن کے مسلمانوں کی آزا دی کے مو قع پر ،اپنی سا ری دولت اور جائید ادپاکستان پر قربا ن کر دی تھی.... پا کستا ن آئے توخالی ہاتھ آئے اور ہند وستان میں چھو ڑی ہو ئی جائید اد، اور بے انتہا دو لت کے عو ض، پا کستا ن سے کچھ نہیں ما نگا .... یہ ایک مسلمہ اور تا ریخی حقیقت ہے.... کہ آخر دم تک خان لیا قت علی خا ن کے پا س پاکستان میں ایک انچ زمین بھی نہیں تھی ۔ نہ ان کا کو ئی بینک اکاﺅنٹ تھا....اورنہ ہی ان کا کو ئی کا روبا ر تھا.... ان کے انتہا ئی قر یبی لو گو ں کے اقوال تا ریخ کے اوراق پرمرقوم ہیں کہ ان کے پاس صر ف دو اچکنیں، تین پتلو نیں ، ایک پر انی قمیص ،اورایک بنیان تھی جبکہ ان کی ان پتلونوں پر بھی جگہ جگہ پیو ند لگے ہو ئے تھے.... وہ اپنی پتلونوں کے ان پیو ند و ں کو اپنی لمبی اچکن کے نیچے مستور رکھتے تھے.... 16اکتو بر 1951کو جب انھیں راولپنڈ ی کے لیاقت با غ میں ہند وستان کے خلاف مُکالہراتے ہوئے مشہور زما نہ تقر یر کے دوران ،درخت پر چھپے ہو ئے ایک سفاک درندے نے گو لی کا نشا نہ بنا کر شہید کردیا ،تو ان کی نعش پوسٹ ما رٹم کے لئے ہسپتا ل لے جا ئی گئی....اس مو قع پر ڈاکٹر یہ دیکھ کر حیر ان رہ گئے کہ پا کستا ن کے اس پہلے وزیر اعظم کی اچکن کے نیچے صرف پھٹی ہو ئی بنیا ن تھی ،قمیص نہیں تھی ،جبکہ جر ابو ں میں بڑے بڑے سو راخ تھے....قارئین کرام! آپ کو تعجب ہو گا کہ پاکستا ن کے پہلے وزیر اعظم خان لیا قت علی خان شہا دت کے وقت، اپنے درزی اور کر یا نہ فر وش کے مقر و ض تھے .... اور ان کے ذاتی اکاﺅنٹ میںایک پیسہ بھی نہ تھا ....ان کی بیگم محترمہ رعنا لیاقت علی خان نے ان کی تدفین کے بعد میڈ یا کو بتایا کہ حکومت نے وزیر اعظم ہا ﺅس کے لئے چینی کاجو مخصوص کو ٹہ مقرر کررکھا تھا، وہ جب ختم ہو جا تا ،تو خود وزیراعظم، ان کی بیوی بچوں اور مہمانو ںکو بھی چا ئے پھیکی پینی پڑتی تھی.... ایک مو قع پربیگم رعنا لیا قت علی خان سے کسی نے پو چھا کہ ہر انسا ن ہمیشہ اپنی بیو ی، بچو ں کے لئے کچھ نہ کچھ لا زمی جمع کر تا ہے، تو آپ کے شو ہر نامدار نے ایسا کیو ں نہیں کیا تھا ؟ اس کے جواب میں بےگم صا حبہ نے کہا کہ ایک بار یہی سو ال مَیں نے خو د بھی خا ن  صا حب سے کیا تھا،خا ن صا حب نے جو اب دیا تھا کہ دیکھو بیگم !مَیں ایک ایسے نواب خاندان سے تعلق رکھتا ہو ں، جس نے میر ی تعلیم کے دو ران آکسفورڈ یو نیو رسٹی میں خانسا ما ں ،خا دم اور ڈرائیو ر دے رکھے تھے ۔ مَیں نے کبھی زند گی میںایک لباس دوسری مرتبہ نہیں پہناتھا.... ہم لو گ خو دکھانا کھا تے یانہ کھاتے، لیکن ہمارے گھر میں تقریباََ 100آدمیوں کا کھا نا روز انہ پکتا تھا.... بیگم !

 جب اللہ تعا لیٰ نے مجھے وزیر اعظم بنا کر قوم کی خد مت کامو قع فراہم کیا اور مجھے محسوس ہواکہ لو گ مجھے وزیر اعظم بنانا چاہتے ہیں ،تو مَیں نے اپنے آپ سے کہا:لیا قت علی خا ن ! اب تمہیں نوابی اوروزارت عظمیٰ میں سے ایک چیز کا انتخا ب کر نا ہوگا۔ چنانچہ مَیں نے اپنے اندر کے شوکت پسند نواب کو سمجھا بجھاکر وزارت عظمیٰ کو منتخب کر لیا....بیگم صا حبہ نے مزید بتا یا کہ وزارت عظمیٰ پر متمکن ہونے کے بعد خا ن صا حب اکثر فر ما یا کر تے تھے کہ.... مَیں جب بھی اپنے لئے نیا کپڑا خر ید نا چاہتاہوں توخود اپنے آپ سے سو ال کرتا ہو ںکہ کیاپاکستان کے سارے عوام کے پا س کپڑے ہیں؟....اور جب مَیں اپنا مکا ن بنانے کے با رے میں سو چتا ہو ں ، توا پنے آپ سے پوچھتا ہو ں کہ کیا پا کستا ن کے تمام لو گ اپنے مکا نو ں میں رہ رہے ہیں ؟....اور جب مَیں اپنے بیو ی بچو ں کے لئے رقم جمع کر نے کا سو چتا ہو ں توا پنے آپ سے پوچھتا ہو ں کہ کیاپا کستا ن کے تما م لو گوں کے پا س اپنے بیو ی بچوں کے لئے منا سب رقم موجود ہے؟.... بیگم !جب مجھے ان سب سوالوں کا جو اب نفی میں ملتا ہے تو مَیں اپنے آپ سے کہتا ہوں : لیا قت علی خا ن! تم ایک غریب ملک کے وزیر اعظم ہو اور ایک غریب ملک کے وزیر اعظم کو نیا لبا س.... لمبا چوڑا دسترخوان.... اور ذاتی مکان اس وقت تک زیب نہیںدیتا جب تک یہ سب ضروریات زندگی ملک کے ہرشہر ی کو میسر نہ آجائیں۔

قارئین محترم ....یہا ں سوال یہ پیدا ہو تا ہے کہ نئے پاکستان کا نعرہ لگانے والے بڑے بڑے محلات اور بے پنا ہ اندھی دولت کے مالک لیڈر، کھربو ں روپے کے مقروض پاکستان کو خان لیا قت علی خان جیسا مثا لی،اصو ل پرست ، محب وطن، اورعوام دوست وزیر اعظم دے سکیں گے ،جو اپنی تما م دولت اور جائید اد نچھاور کر کے مشعل راہ بنے؟....راقم کا نہیں خیا ل کہ ایسا ہو سکے گا ....کیونکہ ہماری66سالہ ملکی تا ریخ شاہد ہے کہ پاکستان کی ابتداءسے لیکراب تک منظر پر آنے والے ہما رے تما م حکمرانوں اور سیا ست دانو ں نے عوامی خدمت کی آڑمیںاپنے مرتبے، عہدے اوردسترس سے ہمیشہ خود ہی فائد ہ اٹھا ےا اور دن بہ دن ،بلکہ لمحہ بہ لمحہ اپنی ہی تجو ریا ں بھرنے سے سروکار رکھا.... بلاشبہ اس امر کے نا قابل تردیدشواہد مو جو د ہیں کہ بر سر اقتدار طبقے نے پاکستان کی دولت سمیٹنے کے نت نئے طر یقے وضع کئے جس کے نتیجے میں یہ طبقہ امیر سے امیر تک ہوتا چلاگیا ، جبکہ غربت و افلاس اور محرومیاںبھو لے عوام کا مقدر بنتی چلی گئیں ۔

بہر حال سچی با ت تو یہ ہے کہ نیا پاکستان بنانے کا نعرہ لگانے والے ہما رے یہ رہنما ، خان لیا قت علی خان جیسے اصو ل پرست، محب وطن اور عوام دوست وزراءدے سکتے ہیں نہ وزیر اعظم! ....چنانچہ اس صورتحال میں نیا پاکستان بنا نے کی نو ید، عوام کو بےوقو ف بنانے اور سمجھنے کے سوا اور کچھ بھی نہیں!.... لہٰذا عوام خو ش فہمی میں نہ رہیں ،اپنے قیمتی ووٹ کا استعما ل انتہا ئی سو چ سمجھ کر کریں

یہ چمن یو نہی رہیگا اور ہز اروں جا نو ر

اپنی اپنی بو لیا ںسب بول کر اڑجائیں گے

مزید : کالم