پاکستان کے خلاف بھارت کے معاندانہ رویّے کا کوئی جواز نہیں

پاکستان کے خلاف بھارت کے معاندانہ رویّے کا کوئی جواز نہیں

بھارت سرکار کی طرف سے بھارتی جاسوس اور دہشت گرد سربجیت سنگھ کے حادثاتی قتل کو پاکستان کے خلاف معاندانہ رویے کا ذریعہ بنا لیا گیا اور بھارتی میڈیا نے بھی تعصب پر مبنی مخالفانہ پروپیگنڈہ بھرپور طریقے سے شروع کر دیا ہے۔ بھارتی پنجاب میں سربجیت سنگھ کی موت پر تین روزہ سوگ کا اعلان ہو ا اور پاکستان مخالف مظاہرے شروع کر دیئے گئے ۔ بھارتی وزیراعظم منموہن سنگھ نے سربجیت سنگھ کو قومی ہیرو قرار دے دیا۔ بھارتی سرکاری اور میڈیا والے حضرات نے اس بات پر بھی غور نہیں کیا کہ پنجاب حکومت نے کتنی سرعت سے سربجیت سنگھ کا پوسٹ مارٹم کرایا اور ضروری کارروائی مکمل کر کے نعش بھارت کے حوالے کر دی۔ بھارت کو تو پاکستان کے خلاف زہر اگلنے کا کوئی موقع ہاتھ آنا چاہئے اور یہ موقع ایک ایسے فرد کی موت نے مہیا کیا جو پاکستان میں بم دھماکے کر کے کئی اموات کا سبب بنا تھا۔ بھارتی وزیراعظم سے اب بجا طور پر پوچھا جا سکتا ہے کہ انہوں نے سربجیت سنگھ کو قومی ہیرو کس بناءپر قرار دیا اس کے کارنامے تو بتاتے، کیا یہ کارنامہ ہے کہ اس نے لاہور میں دو مختلف مقامات پر دھماکے کر کے کئی گھرانوں کے چراغ بجھا دیئے تھے اس سے تو یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ یہ دہشت گرد صرف ”را“ ہی نہیں بھارت کی سرکار کا بھی بھیجا ہوا آلہ کار تھا۔

یہ کوئی اچھا رویہ نہیں ہے۔ ایک طرف تو اچھے تعلقات کی بات کی جاتی ہے اور دوسری طرف اس نوعیت کے واقعات کو اچھال کر نفرت کی فضا بنائی جاتی ہے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ بھارت سرکار خود پاکستان سے بہتر تعلقات نہیں بنانا چاہتی اور اب سربجیت سنگھ کی حادثاتی موت کو استعمال کر کے افضل گورو کے مسئلے پر کشمیریوں کے ردعمل کو دبانے کے لئے پروپیگنڈے پر زور دیا گیا ہے۔ سربجیت سنگھ نے بم دھماکوں کا خود اعتراف کیا اور پاکستان میں غیر قانونی داخلے کا بھی کوئی جواز پیش نہیں کر سکا تھا اسے مجاز عدالتوں سے باقاعدہ سماعت اور صفائی کا موقع دیئے جانے کے بعد سزا ہوئی تھی۔ اب اگر بھارتی وزیراعظم ایسے مجرم کو قومی ہیرو قرار دیتے ہیں تو اس کا کیا مطلب ہے؟

جہاں تک اس واقعہ کا تعلق ہے تو پاکستان بھر میں اس کی مذمت کی گئی اور افسوس کا اظہار کیا گیا۔ یہاں بھی مطالبہ کیا گیا کہ ذمہ داروں کو ان کے جرم کی نوعیت کے حساب سے سزا دی جائے اور پنجاب حکومت نے تفتیشی اداروں پر ہی اکتفا نہیں کیا عدالتی تحقیقات بھی شروع کرا دی ہے۔ اس کے علاوہ اور کیا کِیا جا سکتا تھا۔ بھارتیوں کو ٹھنڈے دل سے غور کرنا چاہئے۔ پاکستان کے دفتر خارجہ پر بھی اہم ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اس متعصب پروپیگنڈے کا مو¿ثر جواب دے اور اس کے ساتھ ہی بھارتی رویے کو دیکھ کر خود اپنے رویے پر غور کرے اور بھارت میں محبوس پاکستانیوں کے دفاع کی بھرپور کوشش کی جائے۔مقبوضہ کشمیر کی جیل میں پاکستانی قیدی ثناءاللہ پر حملہ بھی افسوس ناک واقعہ ہے ایسے لگتا ہے محض بدلہ لینے کے لئے یہ وقوعہ پیدا کر دیا گیا۔   ٭

مزید : اداریہ