حامد کرزئی کی پریشان خیالی؟

حامد کرزئی کی پریشان خیالی؟

افغانستان کے صدر حامد کرزئی نے کہا ہے کہ پاکستان افغانستان کو ڈیورنڈ لائن کی سرحدی تقسیم تسلیم کرنے پر مجبور نہیں کرسکتا۔ کابل میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صدر کرزئی نے کہا کہ ڈیورنڈ لائن افغانستان پر مسلط کی گئی ہے۔ انہوں نے طالبان پر زور دیا کہ وہ اپنے ہی ملک میں تباہی مچانے کے بجائے اپنی بندوقوں کا رخ افغانستان کے دشمنوں کی طرف موڑ دیں جہاں دہشت گردحملوں کی سازشیں تیار ہوتی ہیں۔ حامد کرزئی نے پاکستان کا نام لئے بغیر سرحدی چیک پوسٹ پرپاکستانی فوج کے ساتھ جھڑپ میں ہلاک ہونے والے افعان اہلکار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ طالبان کو اس سپاہی کے مشن کا ساتھ دینا چاہئے، جس نے اپنے وطن کی خاطر دشمن فورسز کے ساتھ لڑتے ہوئے جان کا نذرانہ پیش کیا۔ کرزئی نے انکشاف کیا کہ افغان حکومت نے امریکی فوجیوں کو مستقل بنیادوں پر فوجی اڈے استعمال کرنے کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا ہے، جبکہ سی آئی اے کی جانب سے افغان حکومت کو امداد جاری رکھنے کی یقین دہانی کرائی گئی ہے۔ ادھر پاکستان کے دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ پاکستان اورافغانستان کی سرحد ڈیورنڈ لائن کی شکل میںطے شدہ ہے۔

 آئندہ سال کے اختتام تک امریکی اور نیٹو افواج افغانستان سے واپس چلی جائیں گی، جس کے بعد حامد کرزئی کے لئے افغانستان کی سیاست و حکومت میں بظاہرکوئی بڑامقام نظر نہیں آتا ۔ ایک طویل عرصہ تک اپنی قوم کی امنگوں اور روائتی افغان غیرت و حمیت کے برعکس قابض غیر ملکی افواج کے آلہ کار کی حیثیت سے مغربی افواج کے حصار میں کابل کی حدود کے اندر حکومت کرنے والے کرزئی کی ذہنی حالت مستقبل قریب کے خطرات کے پیش نظر منتشرلگتی ہے۔ ان دنوں ان کی طرف سے امریکی افواج اور امریکی حکومت کے خلاف بات بات پر بیان دینے کی ضرورت محسوس ہورہی ہے۔ کبھی وہ پاکستان کو الزامات دیتے ہیں تو کبھی اپنے ہی عوام کو بُرا بھلا کہنے لگتے ہیں۔ برادر اسلامی ہمسایہ ملک ہونے کی حیثیت سے افغانستان کے ساتھ پاکستان کی پالیسی ہمیشہ مثبت اور فیاضانہ رہی ہے۔افغانستان پر روس کے قبضے کے بعد 30 لاکھ افغان مہاجرین کو پاکستان نے اپنی سرزمین پر پناہ دی۔ آج تک دنیا کے کسی بھی ملک نے اتنے کم وقت میں آنے والے اتنے زیادہ مہاجرین کو اپنے ہاں پناہ نہیں دی۔ ان مہاجرین کی تعلیم،رہائش اور خوراک کا انتظام کرنے کے علاوہ انہیں پاکستانی معاشرے میں ہر طرح کی سہولتیں مہیا کی گئیں۔ آج بھی ان لوگوں کی بہت بڑی تعداد پاکستان ہی میں موجود ہے۔اس وقت کرزئی کی کابینہ میں جو لوگ شامل ہیں ان میں بہت سے پاکستان کے تعلیمی اداروں میں زیر تعلیم رہے ہیں انڈیا جیسے ممالک سے بذریعہ خشکی ہونے والی تجارت اورسمندر کے ذریعے افغانستان کی تمام تر تجارت پاکستان ہی کے راستے سے ہوتی ہے۔ افغان کمپنیوں کی طرف سے درآمد کیا جانے والا زیادہ تر مال پاکستان سے گزرتے ہوئے پاکستان ہی میں سمگل ہو جاتا ہے یا افغانستان سے دوبارہ سمگل ہو کر پاکستان آ جاتا ہے، جس سے پاکستان کو ایک بڑا نقصان برداشت کرنا پڑتا ہے۔ پاک افغان بارڈر پر افغانستان کی طرف رہنے والے قبائل کو پاکستان کی طرف رہنے والے اپنے قبائل کے لوگوں سے میل جول کی عام اجازت ہے ،پاکستان کی طرف سے افغانستان میں رہنے والے لوگ خوراک اور ضرورت کی دوسری چیزیںبھی بلا روک ٹوک لانے لے جانے کی روایت عرصہ دراز سے رہی ہے۔ پاکستان نے افغانستان کی اقتصادی ترقی کے لئے اپنی طرف سے امداد وتعاون میں گہری دلچسپی کااظہار کیا ہے۔ پرپیچ پہاڑوں کے درمیان افغانستان اور پاکستان کے درمیان ڈیورنڈ لائن سے بہتر حد بندی نہ ممکن تھی نہ ہوسکتی ہے۔

افغانستان سے روس کے جانے کے بعد وہاں قائم ہونے والی طالبان حکومت کے ساتھ پاکستان کے مثالی روابط تھے، لیکن القاعدہ کی دہشت گرد کارروائیوں کے سلسلے میں پاکستان اور افغانستان کی طالبان حکومت میں اختلافات پیدا ہوئے۔ پاکستان کو عالمی دہشت گردی کے خلاف مغربی ممالک کا ساتھ دینا پڑا۔یہ اِس لئے بھی ہو ا کہ روس،چین اور اقوام متحدہ کی تائید و حمایت بھی دہشت گردی کے خلاف جنگ کو حاصل تھی۔ پاکستان افغانستان کے اندر جا کر فریقین سے کسی کا ساتھ نہیں دے سکتا تھا۔ ہماری یہ خواہش بھی نہیںتھی کہ غیر ملکی افواج افغانستان میں آئیں ۔ ہم مذاکرات کے ذریعے معاملات کو نمٹانے کے حق میں تھے۔ جنرل پرویزمشرف کے دورمیںپاکستان خود کو پتھر کے زمانے میں پہنچا دینے کی دھمکی کے بعد دہشت گردی کے خلاف جنگ کا ساتھ دینے پر مجبور ہوا، لیکن کرزئی نے افغانستان کے عوام کی نفرت مول لیتے ہوئے غیر ملکی افواج کا ساتھ دیا۔ اب جبکہ غیر ملکی افواج واپس جارہی ہیں ، وہ اپنے اقتدار کے لئے بے بسی سے اِدھر اُدھر ہاتھ پا ﺅں مار رہے ہیں ۔طالبان کے ساتھ مذاکرات کے لئے امریکہ اور اس کے اتحادی پاکستان ہی کے توسط سے رابطے کر رہے ہیں۔ اتحادی افواج کی واپسی کے بعدافغانستان کے امن و امان اور وہاں کی حکومت کے استحکام میں طالبان کا بے حد اہم کردار ہوگا ۔

مغربی ممالک کی افواج کی واپسی کے بعد امریکہ اور اتحادیوں کی افغانستان میں امن وامان قائم کرنے کے لئے ایک مستحکم حکومت کے قیام میں دلچسپی ایک خوش آئند بات ہے۔ ملک کو کسی طرح کی خانہ جنگی سے محفوظ رکھنے کے لئے کی جانے والی کوششوں اور مذاکرات پر بھی کسی کو اعتراض نہیں ہونا چاہئے،لیکن امریکہ کو اڈے دینے کے کرزئی کے اعلان کے بعد خطے میں امن و امان قائم کرنے کا خواب بھی شاید پورا نہ ہوسکے۔ بہتر یہی ہے کہ اتحادی افواج کے انخلاء کے بعد افغانستان میں جس وسیع تر اتفاق رائے والی نمائندہ حکومت کی تشکیل کا پروگرام ہے اِسی حکومت کو غیر ملکی اڈوں وغیرہ کے سلسلے میں معاہدے کرنے کا مجاز سمجھا جائے ۔ خود کو غیر محفوظ اور آئندہ کے لئے کسی سرپرستی سے محروم سمجھنے والے ایک صدر کی طرف سے غیر ملکی افواج کواڈے دینے کو غیرت مند افغان قوم قبول نہیں کرے گی۔ اگر ان اڈوں کی ضرورت ہے تو اس کے لئے وسیع تر اتفاق رائے والی کسی نمائندہ حکومت کے قیام کا انتظار کیا جانا چاہئے۔

پاکستان کے خلاف بھارت کے معاندانہ رویّے کا کوئی جواز نہیں

بھارت سرکار کی طرف سے بھارتی جاسوس اور دہشت گرد سربجیت سنگھ کے حادثاتی قتل کو پاکستان کے خلاف معاندانہ رویے کا ذریعہ بنا لیا گیا اور بھارتی میڈیا نے بھی تعصب پر مبنی مخالفانہ پروپیگنڈہ بھرپور طریقے سے شروع کر دیا ہے۔ بھارتی پنجاب میں سربجیت سنگھ کی موت پر تین روزہ سوگ کا اعلان ہو ا اور پاکستان مخالف مظاہرے شروع کر دیئے گئے ۔ بھارتی وزیراعظم منموہن سنگھ نے سربجیت سنگھ کو قومی ہیرو قرار دے دیا۔ بھارتی سرکاری اور میڈیا والے حضرات نے اس بات پر بھی غور نہیں کیا کہ پنجاب حکومت نے کتنی سرعت سے سربجیت سنگھ کا پوسٹ مارٹم کرایا اور ضروری کارروائی مکمل کر کے نعش بھارت کے حوالے کر دی۔ بھارت کو تو پاکستان کے خلاف زہر اگلنے کا کوئی موقع ہاتھ آنا چاہئے اور یہ موقع ایک ایسے فرد کی موت نے مہیا کیا جو پاکستان میں بم دھماکے کر کے کئی اموات کا سبب بنا تھا۔ بھارتی وزیراعظم سے اب بجا طور پر پوچھا جا سکتا ہے کہ انہوں نے سربجیت سنگھ کو قومی ہیرو کس بناءپر قرار دیا اس کے کارنامے تو بتاتے، کیا یہ کارنامہ ہے کہ اس نے لاہور میں دو مختلف مقامات پر دھماکے کر کے کئی گھرانوں کے چراغ بجھا دیئے تھے اس سے تو یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ یہ دہشت گرد صرف ”را“ ہی نہیں بھارت کی سرکار کا بھی بھیجا ہوا آلہ کار تھا۔

یہ کوئی اچھا رویہ نہیں ہے۔ ایک طرف تو اچھے تعلقات کی بات کی جاتی ہے اور دوسری طرف اس نوعیت کے واقعات کو اچھال کر نفرت کی فضا بنائی جاتی ہے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ بھارت سرکار خود پاکستان سے بہتر تعلقات نہیں بنانا چاہتی اور اب سربجیت سنگھ کی حادثاتی موت کو استعمال کر کے افضل گورو کے مسئلے پر کشمیریوں کے ردعمل کو دبانے کے لئے پروپیگنڈے پر زور دیا گیا ہے۔ سربجیت سنگھ نے بم دھماکوں کا خود اعتراف کیا اور پاکستان میں غیر قانونی داخلے کا بھی کوئی جواز پیش نہیں کر سکا تھا اسے مجاز عدالتوں سے باقاعدہ سماعت اور صفائی کا موقع دیئے جانے کے بعد سزا ہوئی تھی۔ اب اگر بھارتی وزیراعظم ایسے مجرم کو قومی ہیرو قرار دیتے ہیں تو اس کا کیا مطلب ہے؟

جہاں تک اس واقعہ کا تعلق ہے تو پاکستان بھر میں اس کی مذمت کی گئی اور افسوس کا اظہار کیا گیا۔ یہاں بھی مطالبہ کیا گیا کہ ذمہ داروں کو ان کے جرم کی نوعیت کے حساب سے سزا دی جائے اور پنجاب حکومت نے تفتیشی اداروں پر ہی اکتفا نہیں کیا عدالتی تحقیقات بھی شروع کرا دی ہے۔ اس کے علاوہ اور کیا کِیا جا سکتا تھا۔ بھارتیوں کو ٹھنڈے دل سے غور کرنا چاہئے۔ پاکستان کے دفتر خارجہ پر بھی اہم ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اس متعصب پروپیگنڈے کا مو¿ثر جواب دے اور اس کے ساتھ ہی بھارتی رویے کو دیکھ کر خود اپنے رویے پر غور کرے اور بھارت میں محبوس پاکستانیوں کے دفاع کی بھرپور کوشش کی جائے۔مقبوضہ کشمیر کی جیل میں پاکستانی قیدی ثناءاللہ پر حملہ بھی افسوس ناک واقعہ ہے ایسے لگتا ہے محض بدلہ لینے کے لئے یہ وقوعہ پیدا کر دیا گیا۔   ٭

مزید : اداریہ