دنیا اِدھرچھوڑ کر عباس اطہر ’ اُدھر‘ چلے گئے

دنیا اِدھرچھوڑ کر عباس اطہر ’ اُدھر‘ چلے گئے
 دنیا اِدھرچھوڑ کر عباس اطہر ’ اُدھر‘ چلے گئے

  



لاہور ( مانیٹرنگ ڈیسک)سینئر صحافی، کالم نگار،شاعر، پرائیڈ آف پرفارمنس سید عباس اطہر ا نتقال کر گئے جنہیں مقامی قبرستان میں سپردِ خاک کردیا گیا ۔ نمازِ جنازہ میں صحافیوں مختلف سعبہ ہائے سمیت زندگی ک سے تعلق رکھنے والے افراد کی بڑی تعد نے شرکت کی ۔وہ طویل عرصے سے کینسر میں مبتلا تھے اور سی ایم ایچ لاہور میں زیر علاج تھے ۔ مرحوم نے پسماندگان میں 2 بیویاں،3 بیٹیاں اور 2 بیٹے سوگوار چھوڑے ہیں ۔ عباس اطہر ادیب اور شاعر تھے جن کی اصل وجہ شہرت بھی یہی تھی لیکن 1970ءکے عام انتخابات کے بعد بھٹو کی ایک تقریر پر انہوں نے تقریر کے الفاظ کا مطلب اخذ کرکے اختراعی شہہ سرخی ” اِدھر ہم ادھر تم “ سے صحافت میں ادبی میدان سے بھی زیادہ شہرت پائی ۔ وہ صحافتی تنظیموں کے عہدیدار بھی رہے ،صحافت میں ان کی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی ۔ ان کی مشہور نظم ”بھٹو کی بیٹی آئی“ سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو کی شہادت پر سامنے آئی جس پر انہیں پرائیڈ آف پرفارمنس ملا۔ عباس اطہر کے انتقال سے صحافت کا ایک باب بند ہو گیا۔

مزید : قومی