دیانت دار اور باکردار آفیسر سرفراز حسین

دیانت دار اور باکردار آفیسر سرفراز حسین
دیانت دار اور باکردار آفیسر سرفراز حسین
کیپشن: riaz ahmad ch

  

سرفراز حسین 23 مارچ 1924ءکو پیدا ہوئے۔ انہوں نے جولائی 1947 میں فیڈرل پبلک سروس کمیشن (بھارت) سے کمبائنڈ کمپیٹیٹو کا امتحان پاس کیا جس کی بنیاد پر 1948ءمیں پاکستان پولیس (PSP) میں بھرتی ہوئے۔ پاکستان پولیس میں بھرتی ہونے سے قبل سرفراز حسین حبیب بنک لمیٹڈ میں سینئر آفیسر بھی رہے۔ جب انہوں نے بنک کی سروس چھوڑی، تو وہ بنک کی چمن برانچ کے منیجر تھے۔ سرفراز حسین نے 8-2-1949 کو پاکستان پولیس سروس جوائن کی اور پولیس ٹریننگ کالج، سردھا ، راج شاہی (مشرقی پاکستان) میں بطور اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ پولیس تعینات ہوئے۔ انہوں نے مشرقی پاکستان میں 1952ءکے اوائل تک سروس جاری رکھی۔ مشرقی پاکستان میں سروس کے دوران وہ منشی گانگ، میں سب ڈیژنل پولیس آفیسر تعینات ہوئے۔ یہ سب ڈویژن جرائم کے لحاظ سے کافی بدنام تھا۔ اسی طرح آپ نے بطورسب ڈویژنل آفیسر نارائن گنج میں خدمات سرانجام دیں۔

 1952ءمیں بطور اے ایس پی اور کمانڈنٹ بلوچ لیوی، ڈیرہ غازی خان، 100صفحوں پر مشتمل بلوچ لیوی کی نئی تاریخ رقم کی جو کہ چھپ نہ سکی، مگر کمشنر ملتان نے ان کے اس کام کوبڑا سراہا اور اسے پنجاب سیکرٹریٹ میں شائع کرنے کے لئے بھیجا۔ آخر کار گورنمنٹ پبلی کیشنز اسے چھاپا۔ بلوچ لیوی پر مغربی پاکستان پبلی کیشنز کی اشاعت جونیئر افسران کے لئے ایک منفرد تصنیف تھی۔ مرکزی یا صوبائی سول سروس کا کوئی بھی آفیسر اس سے مستفید ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا تھا۔ مغربی پاکستان کے انسپکٹر جنرل آف پولیس کے حکم پر اس کی کاپیاں ملک کی مختلف لائبریریوں جن میں مختلف صوبوں میں وزارت داخلہ کی لائبریریاں، وزارت خارجہ ، نیشنل انسٹیٹیوٹ آف پبلک ایڈمنسٹریشن ، سول سروس اکیڈمی، پاکستان ایڈمنسٹریٹو سٹاف کالج لاہور، جی ایچ کیو راولپنڈی، کمانڈ اینڈ سٹاف کالج کوئٹہ، صدارتی لائبریری شامل ہیں، بھیجی گئیں۔ تقریباً ہر جگہ سے اس کتاب کو تعریفی خطوط موصول ہوئے۔ خاص طور پر کمانڈ اینڈ سٹاف کالج کوئٹہ کے کمانڈنٹ ، سابق وزیر خارجہ صاحبزادہ یعقوب خان، پرنسپل پاکستان ایڈمنسٹریٹو سٹاف کالج لاہور اور اس وقت کے صدر فیلڈ مارشل محمد ایوب خان کی طرف سے اس کو بہت پذیرائی ملی۔ اس کتاب کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ 1901ءمیں بلوچ لیوی کے آغاز کے بعد سے دنیا میں بلوچ لیوی پر یہ واحد کتاب تھی۔ انہوں نے بلوچی زبان کا امتحان اچھے نمبروں سے پاس کیا اور گورنمنٹ سے 750 روپے کا انعام بھی حاصل کیا۔ جون 1954ءمیں ڈیرہ غازیخان میں سپرنٹنڈنٹ پولیس کے عہدے پر ترقی پاگئے۔ 1955ءسے1958ءتک کوئٹہ، پشین اور سبی میں بطور ایس پی خدمات سر انجام دیں۔ اس کے بعد لاہور میں ایڈیشنل ایس پی اور بعد ازاں اسسٹنٹ انسپکٹر جنرل پولیس مغربی پاکستان تعینات ہوئے۔

1958ءمیں لندن میں سیکیورٹی سے متعلق کورس کرنے کے بعد1963ءمیں انٹیلی جنس بیورو میں بطور اسسٹنٹ ڈائریکٹر، کمانڈنٹ انٹیلی جنس ٹریننگ سکول میں خدمات انجام دیں۔ اسی دوران سیکیورٹی سے متعلق دیگر معاملات پر فیڈرل سیکرٹریٹ ، سپیشل برانچ، مشرقی پاکستان اور آئل اینڈ گیس کارپوریشن میں لیکچر بھی دیئے۔ 1959ءمیں I.B میں سکریننگ کمیٹی کے ممبر بنے۔ یہ واحد سپرنٹنڈنٹ پولیس تھے جنہیں اس مقصد کے لئے کمیٹی میں سلیکٹ کیا گیا تھا۔ تب یہ کمیٹی چیف منسٹر لاءایڈمنسٹریشن اور صدر پاکستان کی مرضی سے بنائی جاتی تھی۔

1963ءمیں ڈپٹی انسپکٹر جنرل تعینات ہوئے۔ اسی دوران حیدر آباد، خیر پور، بہاولپور، کوئٹہ، قلات، ملتان اور لاہور میں خدمات سر انجام دیں۔ اس کے علاوہ DIG ریلوے ، D.I.G., HQ’s / D.I.G. ٹیلی کمیونیکیشن بھی رہے۔ 1963ءمیں پاکستان ایڈمنسٹریٹو سٹاف کالج میں کورس کر کے گورنر انسپکشن ٹیم کے ممبر منتخب ہوئے جب کہ جنرل موسیٰ مغربی پاکستان کے گورنر جنرل تھے۔ اس عرصے میں خصوصاً سندھ اور بلوچستان گورنمنٹ کے تمام اداروں کی انسپکشن کی اور کئی انکوائریز کے سربراہ مقرر ہوئے۔ 1969-70 میں جنرل مٹھا کی سربراہی میں پاکستان پولیس کمیشن کے ممبر بنے اسی دوران ملتان میں D.I.G کی ڈیوٹی بھی سرانجام دی۔ سرفراز حسین مغربی پاکستان کے واحد ڈی آئی جی تھے ، جو بطور خاص اہم مناصب پر تعینات ہوئے۔ 1970ءمیں ایڈیشنل انسپکٹر جنرل ، انسپکٹر جنرل پولیس تعینات ہوئے۔

1970-72ءمیں چیئرمین روڈ ٹرانسپورٹ کارپوریشن منتخب ہونے کے بعد ادارے سے کرپشن کا خاتمہ کیا اور کارکردگی کو بہتر بنایا۔ کرپشن مافیا کے خلاف جہاد کرتے ہوئے 36 افسران جو کہ کرپشن میں غرق تھے، کو چارج شیٹ کیا۔ چونکہ کارپوریشن خسارے میں چل رہی تھی، لہٰذا آپ نے سرکاری گاڑی (مرسیڈیز) کو رکھنے سے منع کر دیا اور اپنی چھوٹی فیٹ کار 1966ءماڈل 1100/D پر ہی دفتر آتے جاتے ۔ یہ واحد نئی کار تھی جو کہ سرفراز حسین نے اپنی ملازمت کے دوران قسطوں پر خریدی تھی۔

بطور پولیس آفیسر اور سیکریٹریٹ گروپ ، انہوں نے جوائنٹ سیکرٹری کیبنٹ ڈویژن اور جوائنٹ سیکرٹری انٹیریر ڈویژن میں خدمات سرانجام دیں۔ چیف سیکرٹری اور فنانشل کمشنر آزاد کشمیر کی نشست پر آزاد کشمیر گورنمنٹ کے لئے رولز آف بزنس اور بہت سے فائدہ مند منصوبے بنائے۔ انہوں نے چیئرمین پی آئی اے کو ایئر پور ٹ بنانے اور ڈی جی ریڈیو پاکستان کو پاکستان ریڈیو کی فریکونسی بہتر بنانے کے لئے بہت سے خطوط بھی تحریر کئے، کیونکہ آزاد کشمیر میں آل انڈیا ریڈیو پاکستان کے خلاف اپنا پروپیگنڈہ پھیلا رہا تھا۔ ان کے اقدامات کی وجہ سے پاکستان ریڈیو کی آواز مقبوضہ کشمیر تک پہنچی۔ آزاد کشمیر میں اسی طرح کے بہت سے منصوبے ان کے خطوط کی وجہ سے پورے ہوئے۔ انٹی کرپشن کے چیئرمین کی حیثیت سے آزاد کشمیر کے سیاست دانوں، وزراءاور بااثر افراد کے خلاف دبائے گئے کرپشن کیس دو بارہ اوپن کئے ۔ ان کے پاس چیئرمین مظفر آباد ڈویلپمنٹ اتھارٹی کا اضافی چارج بھی تھا۔ شاید وہ پہلے پی ایس پی آفیسر تھے، جنہوں نے چیف سیکرٹری کاعہدہ حاصل کیا۔

اپریل سے جولائی 1975ء وزارت داخلہ میں ایڈیشنل سیکرٹری تعینات ہوئے اس کے ساتھ ساتھ تین سال 1975-78ءکے لئے پنجاب کے ایڈیشنل چیف سیکرٹری تعینات ہوئے۔ اس کے ساتھ ساتھ چیئرمین پنجاب روڈ ٹرانسپورٹ بورڈ کا اضافی چارج بھی تھا۔ اس کے علاوہ نیشنل انسٹیٹیوٹ آف پبلک ایڈمنسٹریشن کے چیئرمین بورڈ آف گورنرز بھی رہے۔ اس عرصہ کے دوران انہوںنے بڑے شہروں میں ٹریفک مشکلات پر ایک رپورٹ بھی تحریر کی، جس کو مختلف مکتبہ فکر میں بہت سراہا گیا۔ لاہور رنگ روڈ کی تعمیر میں ان کی تمام سفارشات کو مد نظر رکھا گیا۔ 1978-1986ءتک پنجاب پبلک سروس کمیشن میں پہلے ممبر اور بعد میں چیئرمین کی حیثیت سے تعینات رہے۔

مزید :

کالم -