ہم تو محض ٹھنڈی آہیں ہی بھر سکتے ہیں

ہم تو محض ٹھنڈی آہیں ہی بھر سکتے ہیں
 ہم تو محض ٹھنڈی آہیں ہی بھر سکتے ہیں
کیپشن: fasial shami

  


حسب معمول فیس بک پر دوستوں کے اپ ڈیٹ کئے گئے اسٹیٹس پڑھنے کے لئے کمپیوٹر آن کیا اور ابھی اپنا ای میل بکس اوپن ہی کیا تھا کہ نظر جناب ملک غلام مصطفی محترم کی طرف سے موصول ہونے والے پیغام پر پڑی جس میں جناب غلام مصطفی ملک صاحب نے اپنے دو معصوم ننھے منے دوستوں کی کہانی لکھی تھی اور جس کہانی میں ہمیں ٹیگ کیا گیا تھا وہ کہانی گویا آدھے سے زیادہ پاکستانیوں کی کہانی ہے، جی ہاں لاکھوں پاکستانی آج بھی بنیادی سہولیات زندگی سے محروم ہیں ، جی ہاں آج بھی لاکھوں پاکستانی بے گھر ہیں ، جنکے پاس رہنے کو گھر نہیں اور سونے کو بستر بھی نہیں ، جی ہاں لاکھوں پاکستانی آج بھی فٹ پاتھوں پر محنت کرتے کرتے زندگی گذار دیتے ہیں لیکن پھر بھی انکا کوئی پرسان حال نہیں ہوتا ، جی دوستو! کیا بتائیں کیسی دکھ بھری کہانیاں ہیں پاکستانی بھائیوں کی ، تاہم جناب ملک مصطفیٰ نے مجھے باقاعدہ اس پیغام میں ٹیگ کر کے گویا لکھنے کے لئے نیا موضوع بحث بھی فراہم کر دیا ، تاہم ملک غلام مصطفی صاحب کے بارے بتاتے چلیں کہ ہمارے پرانے وقتوں کے ساتھی ہیں ایسے وقت کے جب ہم نے تن تنہا لاہور میں کشتیاں جلا کر اسلام آباد کے لئے رخت سفر باندھا ۔

جی ہاں اسلام آباد میں جناب محترم خلیل ملک صاحب کی وساطت سے روزنامہ خبریں میں روزگار ملا اور جناب خوشنود خان کے زیر شفقت کام کرنے کا موقع ملا تو تب ہی ہماری ملاقات جناب ملک غلام مصطفی سے ہوئی ، تاہم ہمارے پرانے ساتھیوں میں مقصود جو کہ آجکل سعودیہ میں ہیں ، مجید ، گل احمد مروت ،جو کہ آجکل پشاور روزنامہ اخبار سے وابستہ جبکہ طارق حبیب بھٹی جو کہ سینئیر صحافی ہیں ہمارے پرانے احباب میں شامل ہیں ، تاہم ہم نے کسی زمانے میں گل کے ہمراہ روزنامہ گرفت اور جناب ملک غلام مصطفیٰ کے ہمراہ مل کر طویل عرصہ تک اسلام آباد سے ہفت روزہ ترجمان بھی شائع کیا ، تاہم جناب غلام ملک مصطفی کے ساتھ ہم نے بہت سی شخصیات کے انٹرویو بھی کئے اور بعد ازاں جناب ملک مصطفی ملک موصوف ن لیگ سے وابستہ ہو گئے ،، میڈیا سیل کے انچارج بھی رہے پھر جب حکومت بدل دی گئی ن لیگ کے سیکرٹریٹ پر ق لیگ کی قیادت کا قبضہ ہوا تو جناب ملک غلام مصطفی نے بھی ق لیگ سیکرٹریٹ میں فرئض جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ،،، جناب غلام مصطفی ملک منجھے ہوئے صحافی ہیں ، ہری پور ،خان پور سے تعلق رکھنے والے ملک غلام مصطفی میدان صحافت میں جھنڈے گاڑنے کے بعد سیاسی جماعت میں میڈیا کوارڈینیٹر ڈائریکٹر کی ذمہ داریاں بھی بہت خوبصورتی سے انجام دے رہے ہیں ، بہر حال بہت سی پرانی یادیں وابستہ ہیں جناب غلام مصطفیٰ ملک سے اچھی بھی اور ناگوار بھی ، بہر حال ملاقات تو اب طویل عرصہ بعد ہی ہوتی ہے لیکن اب پل بھر میں آپ انٹرنیٹ پر بیٹھے دنیا بھر میں پھیلے ہوئے دوستوں سے ملاقات کر سکتے ہیں مطلب باآسانی پیغام رسانی کے ساتھ ساتھ گھر بیٹھے کمپیوٹر کیمرے کی مدد سے دنیا بھر کے کسی بھی کونے میں بیٹھے دوست کی تصویر بھی دیکھ سکتے ہیں تو ہم بھی انٹرنیٹ کی سہولت سے فائدہ اٹھا کر بہت سے دوستوں سے ہمہ وقت رابطے میں رہتے ہیں اور گو کہ ملک صاحب سے ملاقات نہیں ہوتی لیکن ، فیس بک پر ملاقات ضرور ہو جاتی ہے مطلب بات چیت ۔

اب بھی ملک صاحب نے اپنے دو ننھے دوستوں کی تصاویر اور انکی معصوم کہانی بیان کی جس میں انکے حالات اس قدر اچھے نہیں کہ وہ دنیا بھر کی آسائشوں کو حاصل کر سکیں ، بس حالات نے ان دو معصوم ننھے بچوں کو سوچوں کی زنجیروں میں جکڑ دیا تھا اور انکے لئے تعلیم تو ایک طرف وہ اچھے کپڑے بھی نہیں پہن سکتے تھے ،، بہر حال ہمارا المیہ ہے کہ تنگ دستی اور غربت تو ہمارے پاکستان کے اسی فیصد رہائشیوں کا مسئلہ ہے کچھ تو صبر شکر کر لیتے ہیں ، بہت سے مانگ تانگ کر گزارہ کر لیتے ہیں جبکہ بے شمار لوگ اپنے حالات کا رب سے شکوہ کرتے رہتے ہیں ، تاہم یاد آیا کہ پاکستان بھر میں بھی یوم مزدور انتہائی جذبے سے منایا گیا ، تاہم حقیقت یہ تھی کہ مزدوروں کی چھٹی ہونے کے باوجود ملک بھر میں لاکھوں مزدور مختلف شاہراؤں چوکوں ، عمارتوں میں بنے دفاتر ، اور بازاروں میں بھی مزدوری کرتے نظر آئے ،یقیناًافسوس ناک بات تھی کہ مزدوروں کا عالمی دن ہونے کے باوجود بھی مزدوروں کو چھٹی نہ ملی ، اور وہ اپنی روزی روٹی کمانے میں مصروف رہے ، تاہم مجبوری ہے کہ اگر وہ مزدوری نہیں کریں گے تو ،، تو جو دو وقت کا چولہا انکے گھر جلتا ہے اسکی لو بھی دھیمی پڑتے پڑتے بالکل ہی اندھیرے میں دب جائے گی ،ہمارے ملک میں تو آج بھی لاکھوں بچے بھوک سے بلک رہے ہیں درد سے تڑپ رہے ہیں غربت سے سسک رہے ہیں اور یقین کریں کہ کہ آج بھی ہمارے ملک میں بہت سے ننگے بدن ڈھاپنے کے لئے چادر تک بھی میسر نہیں نظر آتی ، بہر حال ہم کیا کہہ سکتے ہیں ہم تو محض ٹھنڈی آہیں ہی بھر سکتے ہیں ۔۔۔افسوس کر سکتے ہیں، حسرتوں پر آنسو بہا سکتے ہیں ، لیکن روتے روتے آپ سے اجازت بھی تو لے سکتے ہیں لیکن اس آس و امید کے ساتھ کہ اللہ کرے ہمارے ملک کے رہنے والے دیگر پاکستانیوں کے حالات بھی بہتر ہو ں انھیں بھی زندگی کی آسانیاں میسر ہو سکیں جن سے وہ محروم ہیں ، بہر حال اجازت چاہتے ہیں آپ سے دوستوں لیکن چلتے چلتے یہ شعر آپ کی نذر:

ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے

بہت نکلے میرے ارمان لیکن پھر بھی کم نکلے

مزید :

کالم -