سفر کٹھن ہے، مگر....!

سفر کٹھن ہے، مگر....!
سفر کٹھن ہے، مگر....!
کیپشن: ali hassan

  

سفر بڑا کھٹن ہے۔ منزل تلاش کرنے میں سالوں لگ جاتے ہیں، پھر بھی منزل نہیں ملتی۔ دوران سفر ایسا لگتا ہے کہ منزل سامنے ہے، لیکن کوئی نہ کوئی ایسی رکاوٹ آجاتی ہے کہ منزل نظروں سے دوبارہ اوجھل ہو جاتی ہے۔ ہاریوں کے حقوق کے سلسلے میں سب سے بڑی رکاوٹ طبقاتی کشمکش ہے۔ 1930ءمیں سندھ ہاری کمیٹی کی بنیاد ڈالی گئی۔ میرپور خاص میں بڑا اجتماع منعقد ہوا۔ کراچی کے مشہور زمانہ سماجی رہنماءجمشید نسرواں جی اس اجتماع کے روح رواں تھے۔ سائیں جی ایم سید اور دیگر کئی شخصیات اس اجلاس میں موجود تھیں ۔ ہاری کمیٹی کی بنیاد ڈال دی گئی، لیکن تنظیمی کام 1945 ءمیں اس وقت شروع ہو سکا جب سرکاری ملازم حیدر بخش جتوئی نے اپنی ملازمت سے استعفی دے کر ہاریوں کی تنظیم سازی کے لئے اپنے آپ کو وقف نہیں کردیا۔ ہاریوں کی تنظیم سازی اس وقت بھی مشکل کام تھی جو آج بھی نہایت مشکل کام ہے، لیکن ان ہی مشکلات میں سندھ ٹیننسی ایکٹ منظور کرایا گیا۔ سندھ اسمبلی میں زمینداروں کی بھر پور نمائندگی تھی جو آج بھی ہے اور ہاریوں کی کوئی نمائندگی نہیں تھی جو آج بھی نہیں ہے۔ یہ سفر پندرہ سالوں بعد ایک صدی کا سفر ہو جائے گا۔ ان پچاسی سالوں میں ہاری کی زندگی میں کوئی تبدیلی نہیں لائی جا سکی۔ 1970ءمیں حیدر بخش جتوئی کے انتقال کے بعد سندھ ہاری کمیٹی اپنی قیادت سے ایسی محروم ہوئی کہ دوبارہ اپنے پاﺅں پر کھڑی نہیں ہو سکی۔ اس کے اسباب طویل ہیں اور رکاوٹوں کی داستاں بھی ہر موڑپر تبدیل ہوتی رہی ہے۔

ہاری کمیٹی کے صدر آج کل اظہر جتوئی ہیں، اظہر حیدر بخش جتوئی کے پوتے ہیں۔ اپنے محدود مالی وسائل میں وہ جتنے سرگرم رہ سکتے ہیں اتنی کارکردگی دکھاتے رہتے ہیں۔ 1953ءمیں حیدر بخش جتوئی نے ہاری انقلاب کے نام سے ایک کتاب تحریر کی تھی، جس میں انہوں نے ہاریوں کی جدوجہد پر تفصیل کے ساتھ روشنی ڈالی ۔ ہر کامیابی اور رکاوٹ کا تذکرہ کیا ہے۔ کتاب کو پڑھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ طبقاتی مفاد کس طرح سر چڑھ کر بولتا ہے۔ ایک طبقہ کس طرح اپنے مخالف طبقے کو محروم رکھنے کے مواقع تلاش کرتا ہے۔ سندھ میں بھی ہاریوں کے ساتھ ایسا ہی ہوتا رہا ہے۔ ہاری انقلاب کتنا خوش کن نعرہ محسوس ہوتا ہے۔ انسانوں کی زندگی میں بہتر تبدیلی کو ہی انقلاب قرار دیا جاتا ہے، لیکن پاکستان میں ہر انقلاب کھوکھلا نعرہ ثابت ہوا۔ کسی انقلاب سے عام لوگوں کی زندگی میں غیر معمولی تو کیا، معمولی تبدیل بھی نہیں آئی۔

سندھ ٹیننسی ایکٹ پر تو پچاس سالوں میں عمل نہیں ہوسکا۔ ہاری کو غلامی کی زندگی سے چھٹکارا نہیں دلایا جا سکا، حالانکہ ایکٹ جیسا بھی قانون ہے، اگر اس پر نیک نیتی کے ساتھ عمل در آمد کرایا جائے تو ہاری کی روز مرہ کی زندگی میں سکون کے کچھ لمحات پیدا ہو سکتے ہیں۔ ہاری انقلاب کا مطالعہ کرنے کے بعد مشکلات اور کٹھن راہ گزر کا اندازہ ہوجاتا ہے۔ طویل عرصے سے ہاریوں کو محنت کشوں کا درجہ دلانے کی جدو جہد جاری تھی کہ حال ہی میں سندھ صنعتی ریلیشنز ایکٹ کے تحت کسانوں کو بھی مزدور تسلیم کر لیا گیا اور انہیں بھی یونین سازی کا حق دے دیا گیا۔ ہاریوں کے اس حق کے لئے جدو جہد کرنے والوں کی خوش فہمی ہے کہ محنت کش کا درجہ ملنے کے بعد ہاری کے حقوق زیادہ محفوظ ہو جائیں گے۔ ہاری بھی صنعتی اداروں کی طرح اپنے آجر سے اپنا حق حاصل کر سکے گا۔ اس ملک کے محنت کشوں کی رہنمائی کرنے والوں کی اکثریت اس دلیل کو رد نہیں کر سکتی کہ آج پاکستان میں محنت کش جس کسمپرسی کے حالت میں زندگی گزار رہا ہے ایسا ماضی میں شائد بہت کم ہوا تھا۔ آج محنت کشوں کا کوئی پرسان حال نہیں ہے۔ صنعتی اداروں میں ان کے اوقات کار اور اجرتوں کے معاملات پر وہ جن الجھنوں کا شکار ہیں اسے ان کے رہنماءاور یونین اور تنظیمیں حل کرانے میں بری طرح ناکام ہو گئی ہیں۔ پاکستان دنیا بھر کے تسلیم شدہ معاہدوں ، قوانین، ضابطوں کو تسلیم کرنے والوں میں شامل ہے، لیکن ملک کے اندر محنت کشوں کے لئے کوئی تدارک نہیں ہے۔ کتابوں میں موجود قوانین پر کہیں بھی عمل در آمد نہیں کیا جاتا ہے۔ اس کی بنیادی وجہ قدم قدم پر بدعنوانیوں کا راج ہے۔جس کی جیب میں چند سکے آئے وہ اپنے فرائض سے غافل ہوگیا۔

آج سے بیس برس قبل جب شکیل پٹھان مرحوم نے ہاریوں کو جبری مشقت سے رہا کرانے کی جدو جہد کا جو آغاز کیا تھا، اسی دوران کئی بین الاقوامی تنظیموں کے علاوہ ورلڈ بنک اور ایشین ڈیولپمنٹ بنک کے وفود بھی جائزہ لینے آئے تھے۔ ایشین ڈیولپمنٹ بنک کا ایک وفد حیدرآباد میں بھی اس بات کا جائزہ لینے آیا تھا کہ اگر زمینداروں کو ان کے دعوی کے مطابق ہاریوں کے ذمہ واجب الادا قرضوں کی رقم فراہم کر دی جائے تو وہ ہاریوں کو جبری مشقت سے رہا کردیں گے ؟ ایک ایسی ملاقات میں جب گفتگو ہو رہی تھی تو میرا استدلال تھا کہ حکومت کو نیا قرضہ دینے کی بجائے ایشین ڈیولپمنٹ بنک پابند کرے کہ سندھ ٹیننسی ایکٹ پر اس کی روح کے مطابق عمل کرایا جائے۔ وفد کی خواتین اراکین حیران تھیں کہ اسلام آباد ہویا کراچی، سرکاری افسران کہتے ہیں کہ قرضہ دیں، جلدی دیں، زیادہ دیں اور تم ہو کہ کہتے ہو کہ قرضہ نہیں دیا جائے، بلکہ ملک میں موجود قانون پر عمل کرایا جائے۔ حکومت مصلحتوں سے کنارہ کش ہو کر نیک نیتی کے ساتھ ٹیننسی ایکٹ پر عمل در آمد کی ٹھان لے تو کوئی وجہ نہیں کہ ہاری اور زمیندار کے تعلقات بہتر ہو جائیں اور ہاری سکون کی محفوظ زندگی کیوں نہ گزار سکے۔ بین الاقوامی ادارے مختلف منصوبوں پر قرضہ دینے کے لئے کیوں مصر ہوتے ہیں، اسے سمجھنے کے لئے بنگلہ دیش کے محمد یونس کی کتاب پڑھ لی جائے تو اندازہ ہوجاتا ہے کہ کیا مقاصد کار فرما ہوتے ہیں۔ یہ ادارے ایک طرح سے نہیں، بلکہ ہر لحاظ سے کاروباری ادارے ہیں، وہ سرمایہ کاری کی نیت سے قرضہ دیتے ہیں جو کھلے عام میں وہ کاروبار ہے جو پاکستان کے کئی علاقوں میں سود خور کرتے ہیں۔ سود خور لوگوں کی مجبوری کا فائدہ اٹھاتے ہیں اور یہ بین الاقوامی ادارے ممالک کی کمزوریوں اور مجبوری اور محدود مالی وسائل کا فائد اٹھاتے ہیں اور حیلوں بہانوں قرضہ دینے پر مصر ہوتے ہیں۔

کتاب ہاری انقلاب کی تقریب رونمائی میں ممتاز دانش ور محمد ابراہیم جویو مہمان خصوصی تھے۔ جویو صاحب اپنی عمر کے اس حصے میں ہیں جہاں انسان کا اپنا حاصل تجربہ ہوتا ہے۔ جویو صاحب خیر سے اگست کے مہینے میں ایک سو برس کے ہو جائیں گے۔ وہ کہتے ہیں کہ ” انسان کا دوسروں کے لئے جینا ہی اصل مقصد حیات ہے۔ اپنے لئے تو سب ہی جیتے ہیں، لیکن دوسروں کے لئے کم لوگ جیتے ہیں اور حیدر بخش جتوئی کا شمار ایسے ہی لوگوں میں ہوتا ہے“ ۔ ابراہیم جویو کا حیدر بخش جتوئی کو خراج عقیدت اپنی جگہ، لیکن جس شخص نے اپنی پوری جوانی ہاریوں کو منظم کرنے اور ان کے حقوق کی جنگ لڑنے میں گزار دی ہو اور حیدرآباد میں سندھ ہاری کمیٹی کے مرکزی دفتر اور حیدر بخش جتوئی کی سابق رہائش گاہ حیدر منزل زمین بوس ہو رہی ہو حکومت یا کسی کو احساس نہ ہوا ہو، اس تماش گاہ میں اس معاشرے کو کیا کہا جائے۔ یہ وہی عمارت تھی جہاں سندھ ٹیننسی ایکٹ منظور کرانے کے لئے سندھ اسمبلی کے گھیراﺅ کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ 1970ءمیں حیدر بخش جتوئی کی موت کے بعد بھی اسی عمارت میں طویل عرصے تک سندھ ہاری کمیٹی کا دفتر قائم رہا ،لیکن اب سندھ ہاری کمیٹی کی خاطر خواہ کوئی تنظیم ہے اور نہ ہی کہیں اس کا دفتر موجود ہے۔

مزید :

کالم -