یہ سلسلہ کب رکے گا ؟

یہ سلسلہ کب رکے گا ؟
یہ سلسلہ کب رکے گا ؟
کیپشن: naseem shahid

  

صورت حال میں پُراسراریت بڑھتی جارہی ہے۔ حیرت اس امر پر ہے کہ ایک خاص واقعہ کو بنیاد بناکر طویل ”جنگ“ کا جو آغاز کیا گیا ہے، اس پر پانی ڈالنے کی کسی کو توفیق نہیں ہورہی۔ کہیں ریلیاں، کہیں دھرنے، کہیں مقدموں کی درخواستیں، یہ سب کیا ہے؟.... جب قوم نے اپنا فیصلہ سنادیا اور اداروں کی حرمت پر بیک زبان ہوکر مہر تصدیق ثبت کردی تو پھر یہ سب کیا ہے؟....کیوں ہے ، کس لئے ہے؟ معاملہ جتنا طوالت پکڑے گا ، جوآج کے فاتح ہیں، انہیں مشکلات پیش آئیں گی۔ سیانے کہتے ہیں جب اپنے حق میں فیصلہ آجائے تو پھر مزید اصرار نہ کرو۔ اس فیصلے کو بنیاد بناکر آگے بڑھو.... مگر یہاں اس عظیم کہاوت یا مشورے کو پس پشت ڈال دیا گیا ہے۔ اس کے مقاصد کیا ہیں ؟ چہ میگوئیاں اور قیاس آرائیاں ضرور جاری ہیں، مگر کوئی بھی حتمی جواب نہیں دے سکتا۔ لیکن میری پریشانی یہ ہے کہ مجھے جمہوریت خطرے میں نظر آرہی ہے۔ وہ جمہوریت ، جسے ہرکوئی محفوظ سمجھ رہا ہے، اب اَن دیکھے خطرات میں گھرتی دکھائی دے رہی ہے۔ میڈیا کو کل تک جمہوریت کا سب سے بڑا دفاعی محاذ قرار دیا جاتا تھا،آج اس میڈیا کو سمجھ نہیں آرہی کہ اس نے کرنا کیا ہے؟ یہ بے سمتی کا سفر خود میڈیا کی آزادی کے لئے چیلنج بن سکتا ہے۔ وہ یکجہتی جو ایک زمانے میں میڈیا کی سب سے بڑی طاقت ہوا کرتی تھی، آج پارہ پارہ ہوچکی ہے۔ اب اگر کوئی جمہوریت یا میڈیا پر شب خون مارتا ہے، تو اس کا دفاع کون کرے گا، کیسے کرے گا؟

دوسری طرف مجھے یہ سمجھ نہیں آرہی ہے کہ جب پوری قوم فوج کے ساتھ کھڑی ہے، تو چند جماعتوں یا تنظیموں کی طرف سے فوج کے حق میں ریلیاں نکالنے کی ضرورت کیوں محسوس کی جارہی ہے۔ کیا اس سے یہ تاثر نہیں پھیل رہا کہ فوج کے معاملے میں قوم تقسیم ہے؟ حالانکہ ایسا ہرگز نہیں۔ فوج کو ہر پاکستانی اپنے ملک اور قوم کی سلامتی کا سب سے پہلا دفاعی حصار سمجھتا ہے ، یہی وجہ ہے کہ فوج کے خلاف جب ایک مخصوص چینل سے الزامات کی آواز اٹھی تو اسے سبھی نے رد کردیا، مگر اب معاملہ کسی اور طرف جارہا ہے، ایک غیرمتنازعہ صورت حال متنازعہ صورت حال کی طرف بڑھ رہی ہے۔ وہ سب لوگ فوج کی حمایت میں جھنڈے لے کر میدان میں آرہے ہیں، جن کا ماضی اس حوالے سے کچھ زیادہ شفاف نہیں، جن پر الزام ہے کہ انہوں نے آمروں کا ساتھ دے کر اقتدار کے مزے لوٹے۔ اب یہ چہ میگوئیاں ہونے لگی ہیں کہ یہ سارا کھیل کسی خاص مقصد کے لئے کھیلا جارہا ہے۔ اللہ نہ کرے کہ یہ تا¿ثر درست ہو، مگر جب بات ہونے لگے تو پھر کون روک سکتا ہے؟ مجھے تشویش اس بات پر ہے کہ فوج کو خوامخواہ پھر متنازعہ بنایا جارہا ہے۔ فرشتوں کا ذکر ہونے لگا ہے اور بات کو جمہوریت وآمریت کی کشمکش کے ساتھ جوڑا جارہا ہے۔ کیا کسی کو کچھ نظر نہیں آرہا، کیا یہ سب کچھ انجانے میں ہورہا ہے ؟ نہیں صاحب ایسی بات نہیں، سب کچھ جانتے بوجھتے کیا جارہا ہے، جس جس کو اشارے مل رہے ہیں، وہ میدان میں کودرہا ہے، سب جلتی پر تیل ڈالنے کا کام کررہے ہیں، کوئی اس آگ کو بجھانے کے لئے میدان میں نہیں آرہا۔

مجھے اس وقت یقیناً شدید دکھ ہوا تھا، جب حامد میر کی خبر ملی ، لیکن اس سے بھی زیادہ دکھ اس بات پر ہوا کہ جیوچینل نے بغیر کسی ثبوت کے آئی ایس آئی اور اس کے چیف کو اس حملے میں ملوث قرار دیا۔ مجھے اپنا وہ تا¿ثر ابھی تک یاد ہے جو جیو پر بار بار ڈی جی آئی ایس آئی کی تصویر کے ساتھ چیختی چنگھاڑتی الزاماتی خبروں کے بعد میرے ذہن میں پیدا ہوا ،مَیں یہ کہے بنا نہ رہ سکا کہ غیر ذمہ داری اور بے وقوفی کی بھی ایک حدہوتی ہے، یہ سب کیا ہورہا ہے ، اس کے بعد میری طرح تقریباً ہرپاکستانی نے اسی طرح کے ردعمل کا اظہار کیا، جس کی وجہ سے مذکورہ چینل دفاعی پوزیشن اختیار کرنے پر مجبور ہوگیا اور اس نے اپنی بریت اور غلطی کا ایک حدتک اعتراف وادراک بھی کیا،مَیں سمجھتا ہوں یہ وہ لمحہ تھا جب قوم نے فیصلہ دے دیا تھا، اس کے بعد جوکچھ ہوا، میری نظر میں اضافی ہے، اس کی وجہ سے معاملات خراب ضرور ہوئے ہیں، ان کا کسی کو فائدہ نہیں ہوا۔مَیں سمجھتا ہوںجب اس واقعہ کے بعد ایک جوڈیشل کمیشن بنادیا گیا تھا تو اس کے فیصلے کا انتظار کرنا چاہئے تھا۔ اسے ایک معرکہ آرائی کی شکل دینے کا فیصلہ جس نے بھی کیا، وہ اس نکتے سے آگاہ نہیں کہ ایسے معرکوں میں کبھی جیت یا ہار نہیں ہوتی، البتہ معاملات بہت حدتک بگڑ جاتے ہیں۔ جیسا کہ اس وقت نظر آرہا ہے۔ رفتہ رفتہ اس معاملے میں سیاست آگئی ہے اور ایک دوسرے کو غدار کہنے کی رسم بدنے پھر سر اٹھا لیا ہے، ملک دشمنی کے الزامات تو ایسے لگائے جارہے ہیں جیسے عورتیں گلی محلے میں لڑائی کے وقت ایک دوسرے کو طعنے دیتی ہیں۔ بات ایک جھوٹے الزام سے شروع ہوئی تھی، اب ہرطرف الزامات کی بوچھاڑ ہورہی ہے، کوئی روکنے والا ہے اور نہ ہی کسی کو کچھ سمجھ آرہی ہے۔

کیا پورے ملک میں کوئی ایسا فورم نہیں کہ جو اس معاملے کو پوائنٹ آف نوریٹرن تک جانے سے روک سکے، کوئی ایسی راہ نہیں کہ جو ہمیں منتشر ہونے اور ٹوٹنے سے بچاسکے۔ کیا کسی نے اس پہلو پر غور نہیں کیا کہ اس لڑائی میں شکست ہی شکست ہے؟ فتح کا کوئی راستہ ہے اور نہ امکان، میڈیا پر پابندی لگے تو جگ ہنسائی، فوج کی حرمت پر حرف آئے تو بدنامی، جب معاملہ اس طرح کا ہے تو پھر اس کو ختم کرنے کی سعی کیوں نہیں کی جارہی؟ خدانخواستہ اس لڑائی میں کوئی بڑا نقصان ہوگیا تو ذمہ دار کون ہوگا؟ کیا پھر ہم لکیر نہیں پیٹتے رہ جائیں گے؟ عمران خان اور ڈاکٹر طاہر القادری یقیناً اس لڑائی کا حصہ نہیں، مگر کیا ان کی مہم جوئی اس صورت حال کو مزید آتش فشاں نہیں بنادے گی؟ سڑکوں پر فیصلے ہوں گے تو کوئی کیسے طوفان بلاخیز کو روک سکے گا؟ سیاسی قوتیں بھی تقسیم ہوجائیں ، میڈیا بھی بٹ جائے، عدلیہ بھی بروقت فیصلے نہ دے سکے تو پھر انہونی کو کون ٹالے گا۔ ایک قائدانہ کردار کی توقع تو سب وزیراعظم نواز شریف سے کررہے ہیں، مگر ان کی ترجیحات ملک سے زیادہ بیرون ملک ہیں، انہوں نے اپنے طورپر حکومت اور فوج کے درمیان پائی جانے والی کشیدگی کو کم کرنے کے لئے بہت اچھے کام کئے۔ فوج کے لئے پوری حمایت کا یقین دلایا اور آئی ایس آئی کو بھی بجاطورپر قومی سلامتی کاسب سے اہم ادارہ قرار دیا.... لیکن سوال یہ ہے کہ اس معاملے میں وہ کیوں خاموش ہیں، کیوں اس کے لئے آگے نہیں آرہے اور رانا ثناءاللہ یا پرویز رشید کو اس سارے معاملے کی ذمہ داری کیوں سونپ رکھی ہے؟

پاکستان میں فوج کی اہمیت سے کوئی اندھا بھی انکار نہیں کرسکتا۔ ہمارے جیسے بے شمار مسائل میں الجھے ہوئے ملک کے لئے فوج جیسا منظم ادارہ کسی نعمت سے کم نہیں۔ ہربحران کے وقت قوم فوج کی طرف دیکھتی ہے۔ امن وامان سے لے کر کسی قدرتی آفت کے دنوں میں سوائے فوج کے ہمیں اور کوئی دوسرا ادارہ نظر ہی نہیں آتا، مگر دوسری طرف یہ حقیقت بھی اپنی جگہ مسلمہ ہے کہ فوج کی سیاست میں مداخلت اور بار بار حکومت میں آنے کی روایت نے اسے متنازعہ بھی بنایا ہے۔ جیسا کہ عاصمہ جہانگیر ایڈووکیٹ نے کہا ہے ، قوم فوج کے افسروں وجوانوں کو سلام پیش کرتی ہے، لیکن جنہوں نے آئین توڑا اور اقتدار پر قبضہ کیا، ان کی حمایت نہیں کرتی۔اس وقت قوم اگر فوج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے تو اس کی وجہ بھی یہی ہے کہ پچھلے چند برسوں میں فوج نے جس طرح خود کو سیاست سے الگ تھلگ کرکے اپنی پیشہ ورانہ سرگرمیوں پر توجہ دی ہے، وہ قوم کے لئے ایک ڈھارس کا باعث بنی ہے۔ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ پاک فوج کو متنازعہ بنایا جائے ،نہ ہی اس کے بارے میں یہ تاثر پھیلایا جائے کہ وہ پاکستان میں جمہوری اداروں یا میڈیا کے خلاف کوئی نظریات رکھتی ہے، جیسا کہ خود چیف آف آرمی سٹاف جنرل راحیل شریف نے کہا ہے کہ فوج جمہوریت اور آزادوذمہ دار میڈیا کی مکمل حمایت کرتی ہے۔ جب صورت حال اس قدر واضح ہے، تو پھر کون ہے جو اسے متنازعہ بنارہا ہے؟.... وہ جوکوئی بھی ہے، قوم وملک کا خیرخواہ نہیں۔سب کو مل کر اس کے ارادوں اور منصوبوں کو ناکام بنادینا چاہئے۔

مزید :

کالم -