باجی

باجی
 باجی
کیپشن: syed fiaz ud din ahmad

  

ہم بچے ان کو باجی کہہ کر ہی پکارتے ، بزرگان البتہ انہیں بنی کہتے مگر مجھ سے بڑے بھائی نے ان کو بنی کہہ کر ہی بلایا اور ان دونوں میں یہ جھگڑا آخرتک رہا۔ میری سعادت تھی کہ میں ان کے جنازہ میں شریک تھا۔ گول مارکیٹ کی مسجد میں لوگوں نے کہا کہ حالیہ تاریخ میں اتنا بڑا جنازہ نہیںاٹھا تھا۔ باجی ایک سیدھی سادی گھریلو خاتون تھیں جنہوں نے بڑی محنت سے اپنے بچوں کی پرورش کی اور پاکستان کے ہی تعلیمی اداروں میں تعلیم دلوا کر اس قابل بنایا کہ آج وہ جس شعبہ زندگی میں ہیں ایک نمایاں مقام رکھتے ہیں۔

3نمبر ناظم آباد میں وہ پچاس سال سے زیادہ رہیں اور بچہ بچہ انہیں خالہ پھوپھی ،نانی، دادی اور باجی کہہ کر پکارتے ۔ ان کا گھر خاندان والوں کے لئے تو ہر وقت کھلا رہتا ہی،پاس پڑوس کے لئے بھی کھلا رہتا۔ ہمارے دولہا بھائی سرکاری ملازم تھے اور انتہائی دیانتدار اور لوگوں کی خدمت کے لئے ہمہ تن تیار۔ اس کا صحیح تجربہ اس وقت ہوا جب مرحوم مشرقی پاکستان سے 71ئمیں بڑی تعداد میں مکتی باہنی کے ستائے ہوئے لوگ کراچی پہنچے اور باجی کا گھر ان کے عزیز واقارب کے لئے مہمان خانہ بن گیا۔ جہاں باجی اور اطہر بھائی دونوں مل کر ان مہمانوں کے لئے متبادل رہائش کا انتظام کرنے میں لگے رہے اور ساتھ ہی ان کے بچوں کے لئے مناسب سکول وکالج کا بھی پتہ بتاتے رہے، بلکہ اس معاملے میں بھی ان کی مدد کرتے رہے۔

یہ بات اکثر کہی جاتی ہے کہ میزبان کے دل میں جگہ ہونی چاہئے۔ اس کا عملی مظاہرہ میں نے اس وقت دیکھا کہ جس خندہ پیشانی سے یہ دونوں میاں بیوی مشرقی پاکستان سے نئی ہجرت کرکے آنے والے خاندانوں کو پھر سے بسانے کے لئے کرتے رہے۔ ان کی کوشش کس قدر خلوص ومحبت کے ساتھ ہوتی تھیں۔ مشرقی پاکستان کا طرز رہائش اور کراچی کے طورطریقے کافی مختلف تھے اور باجی اور دولہا بھائی دونوں نے کراچی نئے آنے والوںکی اس سلسلے میں بھی کافی رہنمائی کی۔ ان کے گھر کی ایک عجیب وغریب بات یہ تھی کہ ان کے یہاں چھوٹے موٹے علاج کے لئے کئی قسم کے مکسچر ، مرہم، روئی، بام وغیرہ ہمیشہ موجود ہوتے۔

کراچی میں میری سب سے پہلی آمد 1957ءکے اوائل مارچ میں ہوئی تھی اور میرا یہ سفر ڈھاکہ سے ہندوستان سے ہوتا ہوا بذریعہ ٹرین تھا۔ اس وقت باجی اپنے ناظم آباد 3نمبر کے زیر تعمیر مکان کے ایک حصے میں ہی رہتی تھیں۔ میں ایک رات وہیں آپہنچا۔ میرے خطوط سے ان کو اندازہ تھا کہ میں آنے والا ہوں لہٰذا جب رات کے دس بجے میں نے گھنٹی دی تو اندر سے باجی کی آواز آئی کہ ”اس وقت اور کون ہوگا، فیاض ہوگا “۔ میں چند ہفتے کراچی میں رہا اور اپنے صحافی اور تحریکی دوستوں سے خوب ملنا ملانا رہا۔ گھر سے میں صبح دس ، گیارہ بجے نکلتا اور رات کے دس گیارہ بجے واپس پہنچتا تو بلاناغہ ہررات باجی کو اپنا منتظر پاتا اور میرے آنے پر وہ کھانا گرم کرکے مجھے کھلاتیں۔ یہ طورطریقے مجھے پتہ نہیں اب کہاں رائج ہیں، شاید صرف قصے کہانیوں کی کتابوں میںہوں۔

جب ہمارے دولہا بھائی کا تبادلہ اسلام آباد ہوگیا تو وہ وہاں چلی گئیں۔ اس وقت اسلام آباد زیرتعمیر تھا۔ دفاتر زیادہ تر پنڈی میں ہی ہوتے تھے۔ اللہ کی شان میں بھی ایک دن وہاں پہنچ گیا۔ مجھے یاد ہے جب میں چکلالہ ایئرپورٹ پر ایک چھوٹے سے جہاز سے اترا تو میرے بہنوئی وہاں کمبل اوڑھے کھڑے تھے اور ایک کمبل میرے لئے ساتھ لے کر آئے تھے۔ کوہسارمری میں نے اسی سفر میں دیکھا اور باجی جو کئی سال سے وہاں رہ رہی تھیں وہ ہمارے ساتھ مری گئیں۔ 1971ءکی دل خراش حقیقت کے بعد جب ہم اور ہمارے بہت سارے رشتہ دار، دوست احباب ایک بار پھر ہجرت پر مجبور ہوئے اور کراچی آکر بسے تو ایسے میں کوئی شفیق ، دردمند دوست رشتہ دار وہاں نہ ہوتا تو وہ نجانے کس مصیبت میں مبتلا ہوتے۔

پنڈی سے دولہا بھائی کا تبادلہ کراچی ہوگیا اور جہانگیر کوارٹرمیں ان کا قیام ہوا۔ جوکہ اس وقت ڈھاکہ سے آئے ہوئے نئے مہاجرین کے لئے ایک نعمت خداوندی تھا۔ ریٹائرمنٹ کے بعد وہ لوگ پھر اپنے مکان ناظم آباد آگئے اور ابھی تک ان کی ایک بیٹی اور نواسا اسی مکان میں رہتے ہیں۔ میں نے عرض کیا تھا کہ باجی کے جنازے میں ایک اژدھام تھا۔ اور مقامی لوگوں کے مطابق اتنا بڑا جنازہ انہوں نے حالیہ دنوں میں کبھی نہیں دیکھا تھا۔ باجی نہ تو کوئی دولت مند خاتون تھیں نہ ہی ان کے بچے بڑے بڑے سرکاری عہدوں پر فائز تھے کہ لوگ لاجے شرمے شرکت کرنے جنازے پر آجاتے۔ یہاں تو ایک ایسی خاتون کا جنازہ تھا جس کو سارا محلہ اپنا ہمدرد، اپنا غمگسار پاتا تھا اور جو بغیر کسی غرض سے محبت کرنے والی ہستی تھی۔

آج کراچی کی چکا چوند میں ساری اعلیٰ قدریں آہستہ آہستہ معدوم ہوتی جارہی ہیں اور کسی کی عزت واہمیت اس کے عہدے، اس کے مکان کی وسعت اس کی گاڑیوں کی تعداد اور اس کے رعب اور دبدبہ پر ہے۔

باجی جیسی خاتون جنہوں نے اپنے بچوں کی اعلیٰ تربیت کی اور ان میں ایسا کردار پیدا کیا کہ اگر وہ اپنے کسی دفتری کام سے کراچی آتے اور ان کو 5اسٹار ہوٹل میں بھی کمرہ ملتا تو وہ اس کمرے میں نہیں بلکہ اپنی ماں کے سایہ ¿ عاطفت میں ہی رات گزارتے۔ مجھے یاد ہے ان کی بیماری کے آخری مراحل میں میں ان کو دیکھنے جاتا اور جب وہ ہوش میں آتیں اور ان کو بتایا جاتا کہ فیاض آیا ہے تو وہ ایک بات بڑی پابندی سے کہتیں کہ ”کھانا کھا کر جانا“۔ اللہ ان پر اپنی بے پایاں رحمت نچھاور کرے اور ہمارے معاشرے میں اگر کچھ ایسی مثالیں اور ہیں تو ان کو پھیلایا جائے تاکہ زوال پذیر معاشرہ پھر دوبارہ اپنی اعلیٰ قدروں پر اسطوار ہوسکے ۔

مزید :

کالم -