مہنگائی کا خاتمہ کب ہو گا ؟

مہنگائی کا خاتمہ کب ہو گا ؟
 مہنگائی کا خاتمہ کب ہو گا ؟

  




چلئے ایک دروازہ تو ایسا ہے جو دستک دینے پر عوام کے لئے کھلتا اور ان کی مقدور بھر داد رسی کرتا ہے اور وہ ہے عدلیہ کا دروازہ۔ بد ترین مہنگائی میں عوام کا کوئی پرسان حال نہیں ۔پارلیمنٹ میں حکومتی ارکان تو خیر کیوں بولیں گے ،اپوزیشن بھی اس شدت اور شدو مد سے نہیں بولتی کہ جس کی عوام اس سے توقع رکھتے ہیں۔میڈیا اگرچہ کبھی کبھار مہنگائی کو بھی عنوان بناتا ہے لیکن اکثر و بیشتر اس کے بھی مو ضوعات دوسرے ہوتے ہیں ۔ادھر غریب آدمی کو مہنگائی کی کند چھری سے مسلسل ذبح جا رہا ہے وہ دن بدن زندہ درگو ر ہو رہا ہے ۔غریب غریب تر بن چکا ہے اور اب تو نان شبینہ سے بھی محروم طبقات کی تعداد بڑھنے لگی ہے۔غربت کی وجہ سے خود کشیاں ،بچوں کو خود ذبح کرنا،نہروں میں کنبے سمیت چھلانگ لگانا ،اپنے بچوں کو فروخت کرنا وغیرہ کے واقعات بڑھ گئے ہیں ۔

گزشتہ دنوں عدالت عظمیٰ نے بالآخر عوام کے اس سلگتے ہوئے مسئلے کا نوٹس لے لیا۔ جماعت اسلامی پاکستان کے سیکرٹری جنرل لیاقت بلوچ نے آٹے کی مہنگائی اور نایابی پر ایک خط کے ذریعہ عدالت کو توجہ دلائی تو عدالت نے از خود نوٹس لیتے ہوئے تمام صوبائی چیف سیکریٹریز سے رپورٹ طلب کر لی۔ان رپورٹوں میں تو’’ راوی چین لکھتا ہے‘‘اس لئے عدلیہ نے رپورٹوں کو مسترد کرتے ہوئے ڈپٹی اٹارنی جنرل اور جماعت اسلامی کے وکیل جناب توفیق آصف پر مشتمل ایک کمیٹی قائم کر دی کہ وہ تمام صوبائی ہیڈ کوارٹر ز پر خود جائے اور ایک ہفتہ میں حقیقی رپورٹ سامنے لائے،یقیناًیہ ایک بڑی اور اہم پیش رفت ہے ۔حکومتیں تو ہمیشہ ہی اپنی کامیاب پالیسیوں کے چرچے کرتی ہیں۔ جھوٹے اعدادو شمار کے ذریعے عوام کے لئے دودھ اور شہد کی نہریں بہا دینے کے دعوے کرتی ہیں اور از خود سروے کروا کے اپنی مقبولیت کے نقش جمانے کی کوشش کرتی ہیں ،لیکن عوام ہوں یا خواتین خانہ ان کے پاس حکومتی کارکردگی کو جانچنے کا ایک ہی پیمانہ ہے اور وہ ہے اشیائے صرف کی قیمتیں ۔موجودہ حکومت سے عوام نے توقع تو یہ باندھی تھی کہ ان کے آنے سے اور کچھ ہو نہ ہو معاشی استحکام ضرور آئے گااور مہنگائی سے قدرے نجات مل جائے گی لیکن ہوا اس کے بر عکس کہ مہنگائی کا شکنجہ زیادہ سختی سے کس دیا گیا اور بقول شاعر :

جنہیں حسرت تھی کہ نظم گلستاں تبدیل ہو جاتے

وہی کہتے ہیں اب کہ تھے صیاد ہی اچھے

20 روپے من آٹا ہونے پر ایوبی آمریت کے خلاف تحریک چلانے والی قوم اب 55 روپے کلو آٹا خریدنے پر مجبور ہے ۔یہ امر واقع ہے کہ باسمتی چاول 140 روپے کلو ،خوردنی تیل 200 روپے لیٹر،دالیں 120 سے 150 روپے کلو، دودھ 70 سے80 روپے لیٹر اور کوئی بھی سبزی 70 روپے سے 120 روپے کلو تک فروخت ہو رہی ہے۔ لوگ پوچھتے ہیں کہ آخر ہم نے کیا جرم کیا ہے ؟کیا ہمارے ووٹوں کی یہی سزا ہے کہ ہم سے زندہ رہنے کا حق بھی چھینا جا رہا ہے ۔عدالت عظمیٰ نے بجا طور پر حکومت سے سوال کیا ہے کہ وہ چار افراد پر مشتمل کنبہ کہ جس کی آمدن 7 سے 9 ہزار روپے ماہانہ ہے، اس کا بجٹ بنا کر پیش کرے۔ مہنگائی کی اس بڑھتی ہوئی لہر کا ملبہ سابقہ حکومتوں پر ڈالنا یا اسے ایک عالمی مجبوری قرار دینا کسی صورت بھی قرین انصاف نہیں اس لیے کہ موجودہ مہنگائی کے اسباب بالکل واضح اور اظہر من الشمس ہیں،ان میں سے چند حسب ذیل ہیں ۔

جی ایس ٹی میں اضافہ :موجودہ حکومت نے آتے ہی جی ایس ٹی کی شرح میں کم از کم ایک فیصد اضافہ کردیا ۔ ایک فیصد اضافے سے قیمتوں میں 12 فیصد اضافہ نا گزیز ہے چنانچہ قیمتوں میں یہ اضافہ حکومتی پالیسیوں کا شاخسانہ ہے۔ اسی طرح متعدد اشیاء کہ جن پر پہلے جی ایس ٹی نافذ نہیں تھا ،ان پر جی ایس ٹی کا نفاذ کیا گیا اور کئی اشیاء پر جی ایس ٹی کی شرح تبدیل کی گئی ۔

آئی ایم ایف سے قرضہ :کشکول گدائی توڑنے کی دعویدارحکومت نے بڑی کوششوں اور منت ترلوں کے بعد آئی ایم ایف سے 6.7 ارب ڈالر کا قرضہ آئی ایم ایف کی بدترین شرائط پر حاصل کیا۔ ایسی شرائط ماضی میں کسی حکومت نے کبھی قبول نہیں کیں۔ ان شرائط میں بجلی،گیس اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ اور ڈالر کی قیمت کے تعین میں سٹیٹ بنک کی مداخلت کا خاتمہ وغیرہ شامل ہیں۔ یہ قرضہ بھی معیشت میں کسی استحکام کا ذریعہ قطعا نہیں بن سکتا کہ یہ بنیادی طور پر سابقہ قرضوں کے سود کی ادائیگی کے لئے لیا گیاہے۔

قرضوں کی معیشت :قرضوں پر انحصار فرد کرے یا ریاست، وہ ہمیشہ اس کی گردن کا ایک طوق ثابت ہوتا ہے۔ موجودہ حکومت نے بھی ماضی کی حکومتوں کی طرح اپنی حکومت کا مدار قرضوں پر رکھا ہوا ہے۔اس وقت حکومت پاکستان پر کل قرضہ 17356 ارب روپے کا ہے جس کے مطابق ہر پاکستانی شہری ایک لاکھ روپے کا مقروض ہے۔ یہ قرضے ہمارے جی ڈی پی کے 62.7 فیصد کی خطرناک شرح تک پہنچ چکے ہیں ۔موجودہ حکومت نے بھی 3 ماہ میں 1128 ارب روپے کے قرضے لئے ہیں قرضوں کی وجہ سے افراط زر میں اور اس کی وجہ سے مہنگائی میں اضافہ ہو تا ہے ۔

بالواسطہ ٹیکسوں کی بھر مار :دنیا بھر میں امیروں سے ٹیکس لے کر غریبوں پر خرچ کئے جاتے ہیں یہاں غریبوں سے ٹیکس لے کر امیروں کو پالا جاتا ہے۔ ٹیکسوں کی شرح کا فارمولا یہ ہوتا ہے یا ہونا چاہیے کہ 70 فیصد براہ راست اور 30 فیصد بالواسطہ ٹیکس ہوں۔ ہمارے ہاں 70 فیصد بالواسطہ اور 30 فیصد براہ راست ٹیکس ہیں ۔بالواسطہ ٹیکس غریب عوام ادا کرتے ہیں۔ بجلی ، گیس ،پٹرول، ڈیزل ،سی این جی ،ایل پی جی، حتیٰ کہ مو بائل فون و غیرہ پر غریب عوام ٹیکس ادا کر رہے ہیں اور جن کے اربوں روپے کے اثاثے اور وسیع کاروبار ہیں وہ چند ہزار روپے ٹیکس ادا کر کے صاف بچ جاتے ہیں۔ زرعی آمدن پر ٹیکس کی چھوٹ سے ملک و قوم کو اربوں روپے کا نقصان ہو رہا ہے۔ جا گیر دارانہ سیاست کا بڑا سہارا یہی کالا دھن اور ٹیکسوں سے بچائی ہو ئی رقم ہے۔ بالواسط ٹیکسوں کی وجہ سے غریب کے لئے جان اور عزت بچانی بھی مشکل ہو گئی ہے۔

سودی معیشت اور اللہ کے غضب کو دعوت :قرآن پاک میں سود خوروں کے خلاف اللہ و رسولؐ کی طرف سے اعلان جنگ کہا گیا ۔رزق کے خزانے تو خالق کائنات کے پاس ہیں اور اللہ سے بغاوت کا رویہ اختیار کر کے تو معیشت بد تر سے بد تر ین ہی ہو سکتی ہے ،کبھی خوشحالی کی طرف نہیں آسکتی۔ موجودہ حکومت نے سودی معیشت کو ناگزیر سمجھتے ہوئے اس کے خاتمے کو اپنی انا کا مسئلہ بنا لیا ہے اور اس سلسلہ میں وفاقی شرعی عدالت کے تاریخی فیصلے اور سپریم کورٹ کے شریعت ایپلٹ بنچ کے واضح اور دو ٹوک فیصلے پر عملدار آمد کی بجائے اس کے خلاف وفاقی شرعی عدالت میں ہی ایک اپیل کر رکھی ہے جس اپیل کو وفاقی شرعی عدالت سرد خانے میں ڈال کر بھول چکی ہے ۔چند ماہ پہلے اس اپیل کو زندہ کرنے کی کوششیں کی گئیں لیکن اس پر بھی عدالت نے ایسا رویہ اختیار کیاکہ اس اپیل کی سماعت سال ہا سال چلتی رہے یعنی 14 سو الات پر مشتمل ایک سوالنامہ 400 کے لگ بھگ افرا دوا داروں کو روانہ کر دیا کہ اگر آپ سودی معیشت کا خاتمہ چاہتے ہیں تو پہلے ان سوالات کے جوابات دیں۔یہ سوالات کوئی مشکل نہیں، ان کے جوابات پہلے فیصلوں میں موجود ہیں لیکن تاخیر ی حربے کے طور پر پھر ان سوالات کو اٹھا دیا گیا اگرچہ ان سوالات کے جوابات دئیے جا رہے ہیں خود میں نے 38 صفحات پر مشتمل جوابات ارسال کئے ہیں لیکن ظاہری طور پر مقصد جوابات حاصل کرنا نہیں بلکہ اپیل کو معرض التواء میں ڈالنا ہے اسی لیے دو مرتبہ سماعت کی تاریخیں مقرر کرکے ملتوی کی گئی ہیں ۔جس دن حکمرانوں نے محسوس کر لیا کہ سودی معیشت کا راستہ دنیا وی اور اخروی ہلاکت کا راستہ ہے اسی دن انشاء اللہ، اللہ کریم زمین و آسمان کی برکتوں کے دروازے کھول دے گا۔

پرائس کنٹرول سے بے اعتنائی :فری مارکیٹ اکانومی کے اصول کے تحت قیمتوں، ذخیرہ اندوزی ،سٹہ بازی وغیرہ پر کنٹرول کا سرے سے کوئی نظام موجود نہیں ۔کھیت سے صارف کے درمیان 10 منافع خور موجود ہوتے ہیں۔ کاشتکار کو بھی محنت کا صلہ نہیں ملتا اور صارفین کی جیبوں پر بھی روزانہ ڈاکے پڑتے ہیں۔ حکومتیں نہ صرف یہ کہ اس منظم ڈاکے سے غافل ہیں، بلکہ وہ اس میں حصہ دار ہیں۔چند سیاسی خاندانوں کی ملیں ہیں اور وہ اپنے سیاسی اختلافات کے باوجود عوام کے خلاف اکٹھے ہو جاتے ہیں۔ اتوار بازاروں پر مقامی ایم این اے،ایم پی اے اور پارٹی عہد ے داروں کا قبضہ ہے۔چونکہ یہاں سے منظم بھتہ ملتا ہے اس لئے عوام کو یہاں بھی ریلیف نہیں ملتا۔

کرپشن اور شاہانہ اخراجات :وسیع پیمانے پر ہونے والی بدترین کرپشن اور وسعت پذیر شاہانہ اخراجات کی قیمت بالآخر غریب عوام کو دینا پڑتی ہے اور وہ بے لگام مہنگائی اور بڑھتی ہوئی بے روز گاری کی شکل میں یہ قیمت مسلسل ادا کر رہے ہیں۔

مہنگائی اور جماعت اسلامی :ہمیشہ کی طرح اب بھی جماعت اسلامی مہنگائی کے خلاف اور غریب عوام کے حق میں آواز اٹھا رہی ہے۔ ہم عدالتوں کے دروازے کھٹکھٹانے کے علاوہ سڑکوں پر مظاہروں کے ذریعے بھی حکومتوں کو مہنگائی کے خاتمے پر مجبور کرتے رہیں گے۔

مزید : کالم