آرٹیکل 6....آئین کو بازیچہ اطفال نہ بنائیں

آرٹیکل 6....آئین کو بازیچہ اطفال نہ بنائیں

  

تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ سابق چیف جسٹس افتخار محمد چودھری اور جمہوریت چوری کرنے والوں پر آرٹیکل 6لگناچاہئے، 11مئی کو سسٹم ٹھیک کرنے کا چارٹر دیں گے، صرف احتجاج نہیں۔دھاندلی کے خلاف ایک تحریک کا آغاز ہوگا، ہم تمام قانونی راستے آزما چکے ہیں، اب سڑکوں پر احتجاج ہوگا۔مسلم لیگ(ن) خوفزدہ ہو چکی ہے، جس کی وجہ سے الیکشن ٹربیونل کے فیصلوں پر بھی حکم امتناعی لے رہی ہے۔

احتجاج تو ہر سیاستدان اور سیاسی جماعت کا حق ہے، اس لئے تحریک انصاف اور عمران خان اگر اپنا یہ حق استعمال کررہے ہیں تو کچھ غلط نہیں کررہے، وہ تحریک چلانا چاہتے ہیں تو بھی کوئی انہیں اس سے نہیں روک سکتا، احتجاج و تحریک کس طرح ثمر آور ہوں گے یہ وقت آنے پر دنیا دیکھ لے گی اور یہ بھی دیکھ لے گی کہ وہ اس سے کیا کچھ حاصل کر پاتے ہیں اور کیا نہیں۔وہ سسٹم ٹھیک کرنے کا جو چارٹر دیں گے۔یہ بھی دیکھ لیا جائے گا کہ یہ کس حد تک سسٹم کو ٹھیک کرنے میں معاون ثابت ہو سکتا ہے، لیکن وہ سابق چیف جسٹس اور ”جمہوریت چوری کرنے والوں“ پر جس طرح آرٹیکل چھ کا اطلاق چاہتے ہیں، ان سطور میں اس پر کچھ اظہار خیال ضروری ہے۔

جہاں تک آرٹیکل چھ کا تعلق ہے۔یہ 73ءکے اصلی آئین میں شامل کیا گیا تھا، اور اس کا بنیادی مقصد آئین منسوخ کرنے کے ضمن میں طالع آزمائی کا راستہ روکنا تھا، جو رک تو نہ سکا، لیکن یہ آرٹیکل آج تک آئین کا حصہ ہے، بعد میں آئین میں متعدد ترامیم کی گئیں، اسمبلی توڑنے کا صدارتی اختیار کبھی (2)58 بی کے ذریعے (آٹھویں ترمیم) آئین کا حصہ بنایا گیا اور کبھی تیرہویں ترمیم کے ذریعے ختم کیا گیا، پھر سترہویں ترمیم کے ذریعے دوبارہ آئین کا حصہ بنایا گیا اور اٹھارویں ترمیم کے ذریعے ایک بار پھر یہ اختیار ختم کردیا گیا، لیکن آئین کاآرٹیکل چھ آج تک آئین میں اسی طرح موجود ہے جس طرح پہلے دن تھا، کسی نے اس کو آئین سے خارج کرنے کی کبھی بات نہیں کی،نہ اس سلسلے میں کوئی کوشش کی گئی۔ اٹھارھویں ترمیم کے ذریعے آئین کی کوئی ایک سو دفعات میں ردوبدل کیا گیا، لیکن اس آرٹیکل کو کسی نے پھر بھی نہیں چھیڑا، سترہویں ترمیم جنرل پرویز مشرف کی کوششوں سے ہوئی تھی اور ایم ایم اے کے تعاون سے ہوئی تھی۔وہ مہم جوئی کرکے صدر بنے تھے۔وہ چاہتے تو اس آرٹیکل کا خاتمہ کرسکتے تھے،لیکن انہوں نے بھی اس آرٹیکل سے چھیڑ چھاڑ مناسب نہ سمجھی اور آج انہی کے خلاف اس آرٹیکل کے تحت کارروائی ہو رہی ہے۔پہلی مرتبہ اس آرٹیکل کو متحرک کیا گیا ہے۔

اب کارروائی شروع ہوئی ہے تو طرح طرح کی آراءسامنے آنے لگی ہےں، کسی کو لفظ غداری پر اعتراض ہے اور وہ یہ دور کی کوڑی لاتا ہے کہ فوج کا سربراہ غدار کیسے ہوگیا؟ ان اعتراض کرنے والوں میں سیاست دان بھی شامل ہیں اور سابق فوجی بھی، حالانکہ سترہویں ترمیم انہی کے دور حکومت میں ہوئی تھی، ان سے سوال ہو سکتا ہے کہ انہوں نے اس ”بُرے آرٹیکل“ کو آئین سے نکالنے کے بارے میں کبھی سوچا؟ اور اگر نہیں سوچا تو کیوں نہیں؟ آرٹیکل کے اندر لفظ ”سنگین غداری“ بھی پہلے دن سے موجود ہے، کیا کبھی کسی نے کوشش کی کہ اس بُرے لفظ کو کسی بہتر لفظ سے بدل دیا جائے؟ ہمارے علم کی حد تک کسی سیاستدان نے یا کسی سابق فوجی نے جو سیاست میں متحرک ہوگئے کبھی ایسی کوئی کوشش نہیں کی، حالانکہ ان سابق فوجیوں میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جو اپنے دور میں بہت بااختیار تھے، وہ سیاستدانوں سے اپنی مرضی کے اتحاد بنوا لیا کرتے تھے اور اسے عین ملکی مفاد کا تقاضا بنا کر پیش کیا کرتے تھے۔جی چاہتا تو بینکوں سے رقم لے کر سیاستدانوں میں بانٹ دیا کرتے تھے اور سیاستدان خوشی خوشی یہ رقم وصول بھی کرلیتے تھے۔ سیاستدانوں کو اپنی پسند کی کرسیوں پر اور اپنی پسند کی میزوں کے گرد بٹھانا ان کے بائیں ہاتھ کا کھیل تھا، سیاستدان بھی ان کی گیم میں شریک ہو جایا کرتے تھے، ان دنوں جب وہ سیاہ و سفید کے مالک تھے اور ملکی مفاد کی من مانی تشریحات کے سہارے ہر حد عبور کر جایا کرتے تھے، ان کے لئے کیا مشکل تھا کہ وہ ایک آئینی ترمیم کے ذریعے اس ناپسندیدہ آرٹیکل کو آئین سے نکال دیتے، مگر ایسا نہیں ہوا، اب یار لوگوں کو اس آرٹیکل پر نہیں، اسے ”ان ووک“ کرنے پر اعتراض ہے۔

اب عمران خان نے اس آرٹیکل کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے ایک نئی بات کہہ دی وہ چاہتے ہیں کہ اس آرٹیکل کے تحت سابق چیف جسٹس کے خلاف کارروائی ہو اور ”جمہوریت چوری کرنے والوں“ کے خلاف بھی اسے استعمال کیا جائے۔آئین کے اس آرٹیکل کی موجودہ شکل میں ایسا ہو سکتا ہے یا نہیں۔یہ تو ماہرین آئین و قانون ہی بہتر جانتے ہوں گے، جن کی تحریک انصاف میں کوئی کمی نہیں اور عمران خان ان سے مشورہ کرکے اس سلسلے کو آگے بڑھا سکتے ہیں اور اگر آرٹیکل موجودہ شکل میں عمران خان کی خواہش پوری کرنے کے قابل نہ ہو تو دوسرا طریقہ یہ ہے کہ وہ اس میں ایسی ترامیم کرانے کی کوشش کریں کہ یہ آرٹیکل ان کی دونوں خواہشیں پوری کرنے کے قابل ہو سکے۔

آئین بنانا پاکستان میں کبھی کوئی آسان کام نہیں رہا، نو سال تک تو آئین ہی نہ بن سکا اور انگریزوں کے بنائے ہوئے 1935ءکے ایکٹ کو عبوری آئین کا درجہ دے کر اس سے کام چلایا جاتا رہا،پھر 56ءکا آئین بنا تو یہ دو سال سے زیادہ نہ چل سکا،سکندر مرزا نے جو آئین کے تحت صدر بنے تھے اس آئین کو ختم کردیا، ظاہر ہے جب آئین کی طاقت اُن کے ساتھ نہ رہی تو وہ کتنے دن صدر رہ سکتے تھے؟ چنانچہ انہیں جنرل ایوب خان نے جلا وطن کر دیا ، جن کے ساتھ مل کر مرزا حکومت کرنے کے خواب دیکھ رہے تھے، وہ یہ بھول گئے کہ ایک اقلیم میں دو ”بادشاہ“ نہیں رہ سکتے۔جنرل ایوب خان نے آئینی ماہرین سے ایک آئین لکھوایا اور اسے ایک پریس کانفرنس کے دوران 62ءمیں نافذ کر دیا۔یہ آئین صرف اس وقت تک رہا جب تک وہ صدر تھے، جونہی جنرل یحییٰ خان نے انہیں چلتاکیا یہ آئین بھی ان کے ساتھ ہی رخصت ہو گیا۔جنرل یحییٰ خان نے جسٹس کارنیلیس کی نگرانی میں ایک آئین لکھوایا، لیکن قبل اس کے یہ نافذ ہوتا،سقوط ڈھاکہ ہوگیا، اب اس آئین کو کس نے نافذ کرنا تھا۔سقوط کے بعد ذوالفقار علی بھٹو نے صدر اور چیف مارشل لاءایڈمنسٹریٹر کی حیثیت سے اقتدار سنبھالا تو پہلے ایک عبوری آئین نافذ کیا اور پھر اسمبلی سے 73ءکا آئین منظور کرایا جو آج تک ترامیم کے ساتھ کسی نہ کسی انداز میں نافذ ہے۔درمیان درمیان میں اسے سردخانے میں ضرور رکھا گیا۔

عمران خان کی خواہش کو آئین کا حصہ بنانے کے لئے ضروری ہے کہ ترمیم کے ذریعے آرٹیکل چھ میں بعض جملے اور الفاظ شامل کئے جائیں۔ترمیم کا طریقہ بھی آئین میں موجود ہے۔اس کے مطابق ترمیم ہو سکتی ہے لیکن عمران خان کے پاس تو ایسی کوئی سیاسی قوت نہیں کہ وہ آئین میں کوئی مطلوبہ ترمیم کر سکیں۔حکومت بھی اپنے بل بوتے پر کوئی ترمیم کرنے کی پوزیشن میں نہیں۔وہ بھی اگر کوئی ترمیم کرنا چاہے گی تو دوسری سیاسی قوتوں سے بات کرے گی، اٹھارویں ترمیم بھی اسی طرح ممکن تھی، جب تک آئین میں ترمیم نہیں ہوتی، عمران خان کی خواہش، خواہش ہی رہے گی۔وہ آئینی ترمیم کے لئے حکومت سمیت تمام سیاسی قوتوں سے رابطہ کر سکتے ہیں جب تک یہ نہیں ہوتا، انہیں صبر و شکر سے کام لینا ہوگا، آئین میں ردوبدل بہرحال بازیچہءاطفال نہیں ہے اور ترمیم کی طاقت نہ ہو تو اس کھیل سے گریز ہی بہتر ہے۔

مزید :

اداریہ -