سی آئی اے نے افغان لشکروں کا خرچہ پانی بند کر دیا

سی آئی اے نے افغان لشکروں کا خرچہ پانی بند کر دیا
سی آئی اے نے افغان لشکروں کا خرچہ پانی بند کر دیا
کیپشن: Afghan

  

کابل (نیوز ڈسک) سی آئی اے نے افغانستان کے جنوبی اور مشرقی حصہ کو اپنی فورسز سے خالی کروانے کا سلسلہ شروع کر دیا جبکہ امریکی کمانڈرز نے اس اقدام پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ امریکی کمانڈرز نے خدشے کا اظہار کیا ہے کہ اس اقدام سے پیدا ہونے والا خلا طالبان اور القاعدہ پُر کر سکتے ہیں اور پاکستان سے ملحق سرحد کو کھلا چھوڑنے سے یہاں جنگجوﺅں اور اسلحہ کا ایک سیلاب آ جائے گا۔ افغان صدر کرزئی کے ترجمان اجمل فیضی نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ سی آئی اے اپنے عارضی فوجیوں سے معاہدہ ختم کر رہی ہے۔ اس طرح جن مقامی لوگوں کو لڑنے کے لئے رقم ادا کی جاتی تھی، اس کا سلسلہ رک جائے گا. ان غیر روایتی  فوجیوں میں سے کچھ بہت اہم مقامات پر تعینات تھے لیکن سی آئی اے کی طرف سے انہیں ہٹانےکے بعد کرزئی کے ترجمان کے مطابق  ان مقامات پر انھوں نے  اپنے دستے تعینات کرنا شروع کر دیئے ہیں۔ امریکی اور افغان ملٹری کمانڈرز نے امریکی خبررساں ادارے کو بتایا کہ افغان فورسز کو سی آئی اے کے پیراملٹریز کی جگہ پر تعینات کردیا گیا ہے۔ سی آئی اے کے ہزاروں تربیت یافتہ افراد کا ہٹایا جانا ان وعدوں سے انحراف ہے جو لڑائی کے اس سیزن کے لئے کئے گئے تھے، سی آئی اے کا یہ اقدام واشنگٹن کا افغانستان کے ساتھ طویل تعلقات کے قیام کی نفی کر رہا ہے اور اس سے القاعدہ کو دوبارہ منظم اور پھلنے پھولنے کا موقع ملے گا۔ امریکی سینئر حکام کے مطابق سی آئی اے کا اپنی فورسز کو پیچھے ہٹانا امریکی قانون سازوں کے لئے بھی ایک جھٹکا ہے، کیوں کہ ان کے خیال میں ان فورسز نے امریکی فوجی دستوں کے واپس جانے پر القاعدہ اور طالبان سے لڑائی جاری رکھنی تھی۔ لیکن سی آئی اے حکام نے قانون سازوں کو بتایا کہ امریکی فوجی دستوں کی طرف سے اپنے اڈے بند کرنے کے ساتھ انٹیلی جنس ایجنسی بھی خود کو محدود کر رہی ہے۔ اس ضمن میں ایجنسی حکام کےا موقف ہے کہ سی آئی اے لیبیا جیسی خطرناک صورت حال سے دوبارہ دوچار نہیں ہونا چاہتی جہاں جنگجوﺅں نے امریکی سفارت خانے کے عملہ اور سی آئی اے کے اڈے پر حملہ کر دیا تھا، جس میں امریکی سفیر، اس کے سٹاف کا ایک رکن اور سی آئی اے کے دو ملازم ہلاک ہوگئے تھے۔ اوباما انتظامیہ بے دخلی کی ڈیڈ لائن دسمبر 2014ءکے بعد ایک ہزار فوجی دستوں کا انخلاءچاہتی ہے لیکن موجودہ افغان صدر نے سکیورٹی کے حوالے سے طویل المیعاد معاہدہ پر دستخط کرنے سے انکار کر دیا ہے، جس کے باعث امریکی فورسز تیزی سے اپنی چوکیاں ختم کر رہی ہے۔ امریکہ اور افغانستان میں سکیورٹی معاہدہ طے پانے کے باوجود سی آئی اے اس کی پابند نہیں۔

مزید :

بین الاقوامی -