پاکستان علماءکونسل ملک کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش میں شریک نہیں ہو گی،طاہر محمود اشرفی

پاکستان علماءکونسل ملک کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش میں شریک نہیں ہو گی،طاہر ...

  

لاہور(پ ر)پاکستان علماءکونسل ملک کو غیر مستحکم کرنے کی کسی کوشش میں شریک نہیں ہو گی۔مختلف اداروں میں تصادم کروانے کی سازشیں کرنے والے ناکام ہوں گے۔ پاکستان کی مسلح افواج اور سلامتی کے اداروں سے ہر محب وطن پاکستانی محبت کرتا ہے ۔ کسی بھی میڈیا گروپ کوپاکستانی فوج اور سلامتی کے اداروں کے برابر قرار دینا بھی افواج پاکستان اور سلامتی کے اداروں کی توہین ہے۔ جیو اور جنگ گروپ کے معاملات پیمرا اور عدالت کے پاس ہیں پیمرا اور عدلیہ آزادانہ فیصلہ کرے یہ بات پاکستان علماءکونسل کے مرکزی چیئرمین حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے پاکستان علماءکونسل کے دفتر میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہی انہوں نے کہا کہ اگر الیکشن میں دھاندلی ہوئی تھی تو عمران خان خیبر پختونخوا میں حکومت بنانے کی بجائے دھاندلی کے خلاف تحریک چلاتے ، لیکن وہ ایک سال تک خاموش رہے

 اور اب جبکہ قومی یکجہتی کی ضرورت ہے عمران خان اور ڈاکٹر طاہر القادری کی طرف سے تحریک چلانے کا اعلان اہل پاکستان کی سمجھ سے بالا تر ہے۔ آئندہ چند ماہ میں خطے میں بہت سی تبدیلیاں آ رہی ہیں جن پر ملک کی سیاسی و مذہبی جماعتوں کو مل بیٹھنا چاہیے۔ افغانستان اور بھارت کے انتخابات کے بعد کی صورتحال پر متفقہ داخلی و خارجی پالیسی بنانی چاہیے۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ طالبان مذاکرات میں وزیر اعظم پاکستان اور تحریک طالبان پاکستان نے مثبت سمت قدم بڑھائے تھے مگر افسوس کہ بعض رابطہ کاروں نے طالبان مذاکرات کو سیاسی تماشہ بنا کر رکھ دیا ہے۔جس کی وجہ سے مایوسی پیدا ہو رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ مذاکراتی عمل کو سنجیدگی اور سیاست سے بالا تر ہو کر تکمیل کے مراحل تک پہنچانا چاہیے، اگر خدانخواستہ مذاکراتی عمل ناکام ہوا تو یہ کسی بھی صورت ملک و قوم کے لیے مفید نہ ہوگا۔ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ جبر اور طاقت کی بنیاد پر کسی بھی اخبار یا ٹی وی کو بند کیا گیا تو صحافی برادری کے ساتھ کھڑے ہوں گے۔جیو اور جنگ کے معاملے پر عدالت جو فیصلہ کرے گی اسے قبول کیا جائے گا۔

مزید :

میٹروپولیٹن 4 -