وائے ڈی اے کا میچ

وائے ڈی اے کا میچ
 وائے ڈی اے کا میچ
کیپشن: najam wali khan

  


وائے ڈی اے علامہ اقبال میڈیکل کالج کی اوول گراونڈ میں میچ کھیل رہی تھی مگر یہ میچ وہ نہیں تھا جو اپنے حقوق کی ٹرافی چھیننے کے لئے مریضوں کی وکٹ پر حکومت کے ساتھ کھیلا جاتا رہا بلکہ یہاں تو وزیراعلیٰ کے مشیر برائے صحت خواجہ سلمان رفیق مہمان خصوصی تھے اور قہقہوں پر قہقہے لگ رہے تھے، یہ چوتھی وائے ڈی اے پریمئیر لیگ تھی جس میں اس ٹورنامنٹ کو شروع کروانے والے علامہ اقبال میڈیکل کالج کے سابق پرنسپل ڈاکٹر جاوید اکرم بھی تھے اورموجودہ پرنسپل پروفیسر ڈاکٹر محمودشوکت کے ساتھ ساتھ فیکلٹی کے سینئر ممبرا ن بھی موجود تھے۔ یہ وہی وائے ڈی اے ہے جس نے ہڑتالیں کر کے اپنی دھاک بٹھا رکھی تھی مگر رفتہ رفتہ خواجہ سلمان رفیق کے ساتھ ان کے تعلقات اتنے اچھے ہو گئے ہیں کہ اب بہت ساری جگہوں پر نئی صف بندی ہوچکی ہے۔ بہت سارے مقامات پر حکومت اور وائے ڈی اے ایک صفحے پر آ چکے ہیں، مجھے اپنا یہ انکشاف نما تاثر بیان کرنے میں بھی عار نہیں کہ محکمہ صحت کی ایسی تیسی کرنے میں بیوروکریسی کے ہتھکنڈے بے نقاب ہو چکے ہیں، بہت سارے دوستوں کا اب خواجہ سلمان رفیق کو یہی مشورہ ہے کہ وہ کام چوروں اور ہڈ حراموں کو بے جا عزت دینی چھوڑ دیں اورکچھ باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ وہ کسی حد تک اس مشورے کو قبول کرتے ہوئے اس پر عمل بھی شروع کر چکے ہیں۔

یہ لاہور کی بدقسمتی ہے کہ وہ ڈاکٹر جاوید اکرم جیسی شخصیت سے محروم ہو گیا ہے،، ڈاکٹر صاحب اب اسلام آبادکے ہسپتالوں پر قائم بے نظیر بھٹو شہید میڈیکل یونیورسٹی کے وائس چانسلر ہیں۔ انہوں نے علامہ اقبال میڈیکل کالج کے پرنسپل کے طور پر استاد اور طالب علم کے ایک نئے رشتے کی بنیاد رکھی جس میں صرف اور صرف محبت اور خلوص بھرا ہوا تھا۔اوول گراونڈ میں جب ان کے بارے کہا گیا کہ انہوں نے وائے ڈی اے پریمئیر لیگ کی بنیاد رکھی تو خواجہ سلمان رفیق کی طرف سے فقرہ آنے کے بعد ان کا فی البدیہہ جواب تھا کہ وہ وائے ڈی اے کی بنیاد رکھنے کا کریڈٹ لینے کو بھی تیار ہیں، حکومت کو تو اس بات کا بہت پہلے اندازہ ہو چکا تھا کہ اگر اس نے لاہور میں وائے ڈی اے کی کمر توڑنی ہے تو اسے ڈاکٹر جاوید اکرم کو لاہور سے رخصت کرنا ہو گا جن سے صرف علامہ اقبال میڈیکل کالج نہیں بلکہ تقریبا شعبہ طب کے تمام طالب علم والہانہ محبت کرتے ہیں۔ حکومت اپنے مقاصد میں ناکام نہیں رہی مگر اس کے نتیجے میں لاہور ایک ایسے پروفیشنل اور کئیرنگ ڈاکٹر سے محروم ہو گیا جو اپنے پروفیشن اور اپنے مریضوں ، دونوں کے ساتھ محبت کرتا تھا، ان دونوں کی فلاح چاہتا تھا۔ سٹوڈنٹس کے ساتھ تعلق اس طرح کا تھا کہ وائے ڈی اے کے موجودہ صدر ڈاکٹر جاوید آہیر کو اپنی ایک کولیگ ’’ آر‘‘ کے ساتھ محبت ہو گئی،موصوف پرنسپل صاحب کے کمرے بیٹھے تھے، موبائل فون میز پر رکھ کے باہر نکلے تو پیچھے سے ’’آر ‘‘ کے نام کے ساتھ ایک دوسرے ڈاکٹر کا نمبر محفوظ کر دیا گیا۔ اب ڈاکٹر جاوید آہیر کو روزانہ گڈ مارننگ اور گڈ نائیٹ کے ایس ایم ایس ہی نہیں بلکہ ایسے پیغامات بھی موصول ہوتے جس میں ان کی شرٹس کی تعریف ہوتی، ڈاکٹر صاحب جواب میں اوکے ، اوکے اور تھینک یو، تھینک یو کے میسج کر تے نہ تھکتے مگر ایک روز وہ پھٹ پڑے، کہنے لگے پیغامات تو اتنے آتے ہیں مگر سامنے آنے پر لفٹ ذرا نہیں کروائی جاتی ۔۔۔ اس کے بعد ان پر معاملہ کھلا کہ ان کے ساتھ ہاتھ ہو گیا ہے۔ آپ اس کالم کوملک و قوم کے وسیع تر مفاد میں میرے دوست ڈاکٹر جاوید آہیر کے لئے رشتے کا اشتہار بھی سمجھ سکتے ہیں، مجھے پوری امید ہے کہ وہ اپنی شادی کے بعد مزید سست ہوجائیں گے اور ان کے سونے کے اوقات میں بھی مزید اضافہ ہوجائے گا۔

ویسے وائے ڈی اے جتنی گرم تنظیم ہے اس کو ٹھنڈا کرنے کا ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ اس کے نوجوان عہدے داروں کی شادیاں کروا دی جائیں۔میرا مشاہدہ تو یہی بتاتا ہے کہ، ایک ڈاکٹر عامر بندیشہ کے استثنیٰ کے ساتھ ،شادی کے بعد ینگ ڈاکٹرز پھر ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کے ساتھ نہیں رہتے۔مجھے ڈاکٹر عثمان ایوب یاد آ گئے، سروسز ہسپتال میں وائے ڈی اے کے دبنگ لیڈر تھے، ان سے وابستہ آخری یاد یہی ہے کہ میں نے ان کی بارات میں شرکت کی تھی، اس کے بعد وہ کہاں گئے، علم نہیں، بعض دوست کہتے ہیں کہ بیرون ملک چلے گئے اور پھر غالباً واپسی بھی ہوئی تھی۔ اگر آپ میری اس دلیل سے اتفاق نہ کریں تو چلڈرن ہسپتال کے ڈاکٹر خزیمہ کی مثال بھی دی جا سکتی ہے جو اب زیادہ تر ایس ایم ایس پر ہی نظر آتے ہیں اور خود جناح ہسپتال کے ڈاکٹر ابوبکر گوندل کی بھی، جن کے اپنے ہسپتال کی گراونڈ میں میچ ہو رہا تھا مگر وہ وہاں موجود نہیں تھے، ان کی عدم موجودگی کی وجہ یہی بیان کی جارہی تھی کہ اب ان کی شادی ہو چکی ہے۔حکومت ایک طویل عرصے تک وائے ڈی اے کو قابو میں لانے کے لئے پولیس تک کا استعمال کرتی رہی مگر ناکام رہی۔ مجھے پورا یقین ہے کہ معاشرے کے اس سب سے زیادہ پڑھے لکھے طبقے کو محبت کی مار سے ہی مارا جا سکتا ہے۔ ایک تو وہ محبت ہے جس کا ذکر میں نے نوجوان ڈاکٹروں کی شادی کی صورت میں کیا ہے، کیا ہی اچھا ہو کہ اگر ایم بی بی ایس کی حتمی ڈگری اسی وقت جاری کی جائے جب ہمارے ینگ ڈاکٹرز اپنے اپنے نکاح نامے یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز میں جمع کروائیں۔

محبت کی ایک اور مار انہیں حکومت پنجاب نے بھی ماری تھی جب تمام مار، پیٹ ناکام ہو گئی تھی،محبت کی اس مار کا تو میں چشم دید گواہ ہوں جب وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے ماڈل ٹاون میں جوس پلوا کے ڈاکٹر عامر بندیشہ، ڈاکٹر حامد بٹ، ڈاکٹر ناصر عباس اور دیگر کی بھوک ہڑتال ختم کروائی تھی، انہوں نے اس موقعے پر وعدہ کیا تھا کہ وہ وائے ڈی اے کے صوبہ گیر کنونشن میں بھی شرکت کریں گے مگر پھر وہ وعدہ پورا نہیں ہوسکا ،اس کی وجہ میرے علم میں ہے مگر اس کو بیان کرنا میرے خیال میں حکومت اور وائے ڈی اے سمیت کسی کے مفاد میں بھی نہیں، وائے ڈی اے تو اب بھی وزیراعلیٰ پنجاب کوخوش آمدید کہنے کے لئے تیار ہے ، میرا خیال یہی ہے کہ ہمیں ڈاکٹروں اور ریسکیورز کی ہمیشہ عزت کرنی چاہئے کیونکہ ہمیں کسی بھی وقت ان کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔

بات وائے ڈی اے کے کرکٹ میچ کی ہو رہی تھی اور حکومت وائے ڈی اے میچ کی طرف نکل گئی، جس کا ایک چھوٹا موٹا میچ اس وقت بھی چلڈرن ہسپتال میں کھیلا جا رہا ہے ۔ میں چاہتا ہوں کہ حکومت اور وائے ڈی اے کے درمیان کسی صورت بھی ٹیسٹ میچ شروع نہ ہو جس کی قیمت مریضوں کو ادا کرنی پڑے مگر دوسری طرف ہسپتالوں کے معاملات واقعی اتنے خراب ہو چکے ہیں کہ اگر وائے ڈی اے کے گرم جوش نوجوان ڈاکٹر بہتری کے لئے آواز نہیں اٹھائیں گے تو غریبوں کے لئے مفت علاج اور ٹیسٹوں کی سہولت آہستہ آہستہ خواب بنتی چلی جائے گی۔ مجھے یہ کہنے میں آج بھی عار نہیں کہ ینگ ڈاکٹروں نے ہسپتالوں کی ایمرجنسیاں بند کر کے غلطی کی تھی مگریہ بھی حقیقت ہے کہ اب وہ اس ہتھیار کو رکھ چکے ہیں، اُس وقت حکومت اور ینگ ڈاکٹرز کے درمیان ایک خلیج حائل تھی جو آج خود خواجہ سلمان رفیق کے ساتھ ساتھ وائے ڈی اے کے مثبت ذہن رکھنے والے نوجوان ڈاکٹروں اور دونوں کی خیرخواہوں کی مدد سے بہت حد تک عبور کی جا چکی ہے۔ وائے ڈی اے کے دوست یہ تسلیم کرتے ہیں کہ وزیراعلیٰ شہباز شریف کے دور میں انہیں جو کچھ ملا ، وہ قیام پاکستان سے اب تک نہیں مل سکا ۔ اب محض اعلانات پر پوری طرح عمل درآمد نہ ہونے پر غلط فہمیاں پیدا ہوتی ہیں، جن کاازالہ ہوتا رہنا چاہئے۔ اگر کوئی میری گواہی پر یقین کرے تو وہ یہی ہے کہ ہمارے ینگ ڈاکٹرز اپنے پیشے ، ملک اور عوام کے ساتھ کسی بھی دوسرے محب وطن پاکستانی کی طرح مخلص ہیں اور دوسری طرف خواجہ سلمان رفیق بھی ہیلتھ کئیر سسٹم میں عشروں سے پیدا شدہ خامیوں کوجلد از جلد دور کرتے ہوئے اسے مثالی بنانا چاہتے ہیں، شائد یہی وجہ ہے کہ وہ ایڈہاک ڈاکٹروں کی مدت ملازمت میں توسیع کی سفارش پر مجھ سے پوچھتے ہیں کہ کیا ہم ہمیشہ یہ نظام ایڈہاک ازم پر ہی چلاتے رہیں اور میرے پاس اس کا جواب نہیں ہوتا ۔میں علامہ اقبال میڈیکل کالج کی اوول گراونڈ میں جاری وائے ڈی اے کے میچ میں خواجہ سلمان رفیق ،ڈاکٹر جاوید اکرم، پروفیسر محمود شوکت ، ڈاکٹر جاوید آہیر، ڈاکٹر عامر بندیشہ ، ڈاکٹر طارق رحمانی ،ڈاکٹر شبیر سمیت سب کو قہقہے لگاتا ہوا دیکھ کر دعا کر رہا ہوں ، اللہ کرے کہ ہر سطح پرتمام میچ اسی طرح دوستانہ انداز میں کھیلے جاتے رہیں۔

مزید :

کالم -