شادی شدہ لڑکی کو بازیاب نہ کروانے پرپولیس کے خلاف احتجاجی مظاہرہ

شادی شدہ لڑکی کو بازیاب نہ کروانے پرپولیس کے خلاف احتجاجی مظاہرہ

  

لاہور(کرائم سیل ) ریس کورس کے علاقے میں چند روز قبل اغوا ہونے والی 18سالہ شادی شدہ لڑکی کو بازیاب نہ کروانے پر مغویہ کے اہل خانہ اور عزیز و اقارب کی بڑی تعداد نے انویسٹی گیشن پولیس ریس کورس کے خلاف پریس کلب کے باہر شدید احتجاج کیا جس کے باعث ٹریفک جام ہو گئی، اعلیٰ پولیس افسران نے مغویہ کی بازیابی کی یقین دہانی کروائی جس پر مظاہرین نے احتجاج ختم کر دیا ۔بتایا گیا ہے کہ فیصل آباد کی رہائشی شمائلہ بی بی نے اپنی بیٹی ماہ نور کی شادی دو ماہ قبل حبیب اللہ روڈ کے رہائشی متین شیخ سے کی تھی ۔ شمائلہ بی بی کے مطابق اس کے داماد متین شیخ نے اس کی بیٹی ماہ نور سے دوسری شادی کی تھی ۔چند روز قبل شمائلہ بی بی کو اس کے داماد کا فون آیا کہ ان کی بیٹی گھر سے لاپتہ ہو گئی ہے جس پر خاتون نے فوری طور پر لاہور پہنچ کر اپنی بیٹی کی تلاش شروع کر دی اور تھانہ ریس کورس میں اغواءکا مقدمہ اپنے داماد متین شیخ اور اس کے بہنوئی قیصر شیخ کے خلاف درج کروادیا ۔شمائلہ بی بی نے درخواست میں موقف اختیار کیا ہے کہ اس کی بیٹی ماہ نور کو اس کے داماد نے اپنے بہنوئی سے ملکر اغواءکرکے اس کے لاپتہ ہونے کا ڈرامہ رچایا ہے ،مقدمہ ہونے کے باوجود بھی پولیس تاحال پولیس مغویہ کو بازیاب نہ کروا سکی ہے ۔انویسٹی گیشن پولیس نے مغویہ کے شوہر اور اس کے بہنوئی کو گرفتار کرلیا ہے۔ مذکورہ خاتون نے الزام عائد کیا ہے کہ پولیس ملزمان سے اس کی بیٹی کو برآمد کروانے کی بجائے صلح کرنے کےلئے دباﺅ ڈال رہی ہے ۔ گزشتہ روز مغویہ کی والدہ نے اپنی بیٹی کی بازیابی نہ ہونے پر اپنے عزیز واقارب کے ہمراہ پولیس کے خلاف پریس کلب کے باہر احتجاجی مظاہرہ کیا ۔

مزید :

علاقائی -