ناقص تفتیش کرنے والے پولیس افسروں کے خلاف پولیس آرڈر 2002کے تحت مقدمات اور گرفتاری کا حکم

ناقص تفتیش کرنے والے پولیس افسروں کے خلاف پولیس آرڈر 2002کے تحت مقدمات اور ...

  

                                                 لاہور(لیاقت کھرل) ناقص تفتیش کرنے ، مثل نامکمل چھوڑنے، ضمنیاں دانستہ غائب کرنے، چالان ادھورے چھوڑنے پر تفتیشی افسران کے خلاف پولیس آرڈر 2002ءکے تحت مقدمات اور گرفتاری کا حکم دیدیا گیا ہے”پاکستان“ کو محکمہ پولیس کے انتہائی باوثوق ذرائع نے بتایا ہے کہ وزیر اعلیٰ پنجاب کو رپورٹ پیش کی گئی ہے کہ تھانہ کلچر کی تبدیلی میں صرف آپریشن پولیس پر زور دیا جا رہا ہے، جبکہ اس میں انوسٹی گیشن ونگ کو بھی دھارے میں لایا جائے تو تھانہ کلچر کے مکمل خواب کی تعبیر ہو سکتی ہے۔ذرائع نے بتایا ہے کہ وزیر اعلیٰ کے حکم پر آپریشن ونگ کے ساتھ انوسٹی گیشن ونگ میں پائی جانے والی خامیوں کو بھی مکمل طورپر دور کرنے کا اصولی فیصلہ کر لیا گیا ہے اور اس میں پولیس افسران کو پولیس آرڈر 2002ءکے تحت دیئے گئے اختیارات کو مکمل طور پر استعمال کرنے کیلئے ”فری ہینڈ“ دے دیا گیا ہے، ذرائع نے بتایا ہے کہ اس میں پہلے مرحلہ میں لاہور کے 85تھانوں میں تعینات انچارج انوسٹی گیشن اور تفتیشی افسران کی کارکردگی خفیہ مانیٹرنگ کی جائے گی، جبکہ دوسرے نمبر پر فیصل آباد، راولپنڈی گوجرانوالہ اورتیسرے مرحلہ میں ملتان ریجن اور سائیوال ریجن کے تفتیشی افسران کی کارکردگی کی خفیہ نگرانی کی جائے گی، جس کیلئے سی سی پی او لاہور ، آر پی اوز، ڈی آئی جیز اور ایس ایس پیز کو خصوصی ٹاسک دیا گیا ہے، جس میں روزانہ کی بنیاد پر ایکشن لیکر رپورٹ بھجوانے کا حکم دیا گیا ہے، ذرائع نے بتایا ہے کہ اس پالیسی کے تحت کہ تفتیشی افسران کو تفتیشی امور پر مکمل طور پر عملدرآمد کا پابند بنایا جائے گا جسم ےں وقوعہ کے رو پزےر ہونے پر کرائم سےل مکمل طور پر جائزہ لےکر شواہد اکٹھے کئے جائےں گے اور اس مےںفرانزک سائنس لےبارٹری،فےنگرپرےنٹس حکام ،متعلقہ سی آئی اے کی رائے سمےت تمام شواہد کو مسل کا حصہ بنانے کا حکم دےا گےا ہے اور مقدمات کے اندراج ،ملزمان کی گرفتاری ،مقدمات کے چالان اور پراسےکےوشن کے مراحل سمےت مقدمات کے فےصلہ تک تفتےشی افسران کو مکمل پابند بنادےا جائے گااور مقدمات کی ناقص تفتیش، مقدمات کی مثل نامکمل چھوڑنے اور مثل سے ضمنیاں غائب کرنے سمیت مقدمات کے چالان کی تیاری میں تاخیری حربے اور بے گناہ شہرےوں کو بلاوجہ مقدمات مےں ملوث کرنے والے تفتیشی افسران کا قبلہ درست کیاجائے گا جس میں پولیس افسران پولیس آرڈر 2002ءکے تحت کارروائی کومزید تیز کریں گے۔ جس میں مقدمات کی تفتیش کو ادھورا چھوڑنے اور مثل سے ضمنیاں غائب کرنے پر سروس ضبط اور معطلی کی سزا کی بجائے مقدمات درج کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جبکہ ناقص تفتیش اور بے گناہ شہریوں کو بلاوجہ گرفتار کرکے مقدمات میں ملوث کرنے پر پولیس آرڈر 2002ءکے تحت تفتیشی افسر کو موقع پر گرفتار کر کے اسی تھانے کی حوالات میں بند کیا جائے گا ۔ذرائع نے بتایا ہے کہ سی سی پی او لاہور کی نگرانی میں تفتیشی افسران کی خفیہ کارکردگی کو چیک اورمانیٹر کے لئے خصوصی ٹیمیں تشکیل دے دی گئی ہیں ۔ اور ان ٹیموں کو ڈویژن کی سطح پر ٹاسک دیا گیا ہے ۔ ذرائع کے مطابق خفیہ ٹیمیں رپورٹ پر تفتیشی افسران کے خلاف موقع پر بھی ایکشن لیا جائے گا۔ اور اس میں سائلین کی شکایات کا بھی جائزہ لیا جائے۔ اس حوالے سے ایس ایس پی انوسٹی گیشن چوہدری عبدالرب نے ”پاکستان“ کو بتایا کہ انوسٹی گیشن ونگ کارکردگی کو بہتر بنانے کیلئے ہنگامی فیصلے کئے گئے ہیں، اس میں تفتیشی افسران کی خفیہ نگرانی اور ماینٹرنگ ہو گی اور ناقص تفتیش اور تفتیشی مراحل میں کی قسم کی خامی کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا۔ جس میں پولیس آرڈر 2002ءکے تحت کارروائی کو مزید تیز کیا جائے گا۔ اس میں ایس پیز کو بھی الگ سے احکامات جاری کر دیئے گئے ہیں۔

مزید :

صفحہ آخر -