سنٹرل جیل ایک لاکھ 40 ہزار کے عوض چکیوں سے باہر نکالا گیا 7 قیدیوں نے حلف دےدیا

سنٹرل جیل ایک لاکھ 40 ہزار کے عوض چکیوں سے باہر نکالا گیا 7 قیدیوں نے حلف دےدیا

  

لاہور(کرا ئم سیل ) سنٹرل جیل کوٹ لکھپت میں سات قیدیوں کو چکیوں سے باہر نکا لنے کے عو ض ایک لاکھ چالیس ہزار روپے وصول کرنے کا کیس منظرعام پر آگیا ،مذکورہ قیدیوں نے سپر نٹنڈنٹ جیل کے سامنے ملک قیصر نامی اہلکار کو پیسے دینے کا حلف دے دیا ،جیل انتظامیہ نے اعلی ٰافسران کو آگا ہ کئے بغیر ہی معا ملہ رفع دفع کر دیا ۔ جیل سپر نٹنڈنٹ کے کار خاص اہلکاروں نے سزا کے طور پر چکیوں میں بند ہو نے والوں کو باہر نکا لنے کے ریٹس مقرر کر رکھے ہیں، انتظامیہ نے صورتحال سے واقف ہو نے کے باوجود خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔معتبر ذرائع نے بتا یا ہے کہ سنٹرل جیل کوٹ لکھپت میں قید قتل، اغواء، ڈکیتی اور منشیات کے مقد مات میں ملوث ملزمان جیل اہلکاروں کی ملی بھگت سے موبائل فونز استعمال کر تے ہیں جس کے عوض ہزاروں روپے بیرکوں پر تعینات اہلکاروں کو دئیے جا تے ہیں ۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ جیل میں قید ایسے ملزمان جو موبائل فونز استعمال کر نے کے باوجود اہلکاروں کو پیسے نہیں دیتے، ان کو سزا کے طور پر چکیوں میں بند کر دیا جا تا ہے ۔ جیل اہلکاروں نے ملزمان کو چکیوں سے باہر نکا لنے کے لئے ریٹس مقرر کر رکھے ہیں ۔ معلوم ہوا ہے کہ سنٹرل جیل کوٹ لکھپت میں تعینات ایس جی وارڈر ملک قیصر سپر نٹنڈنٹ جیل کا کار خاص بتا یا جا تا ہے ،اس نے جیل میں قید ظہیر خان سمیت 7قیدیوں کو موبائل فونز استعمال کر نے کے عوض سزاکے طور پر چکیوں میں بند کر دیا تھا ۔ بعد ازاں فی کس 20ہزار روپے وصول کر کے تما م قیدیوں کو چکیوں سے باہر نکال دیا ۔ذرائع کا کہنا ہے کہ ظہیر خان سمیت ساتوں قیدیوں نے جیل سپر نٹنڈنٹ اسدوڑائچ کے سامنے حلف دے دیا کہ ملک قیصر نے ان سے ایک لاکھ چالیس ہزار روپے چکیوں سے باہر نکا لنے کے عوض وصول کئے ہیں مگر جیل سپر نٹنڈنٹ نے ملک قیصر کی ڈیوٹی تبدیل کر کے معاملہ رفع دفع کردیا ور محکمہ کے اعلیٰ افسران کو بھی صورتحال سے آگا ہ نہ کیا ۔ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ ملک قیصر کو سزا دینے کی بجائے جیل سپر نٹنڈنٹ نے ڈیوٹی منشی کی پر کشش سیٹ پر تعینات کر دیا ہے۔

مزید :

علاقائی -