پرویز مشرف کا نام ای سی ایل سے نہیں نکال سکتے،وفاق کا سندھ ہائیکورٹ میں جواب

پرویز مشرف کا نام ای سی ایل سے نہیں نکال سکتے،وفاق کا سندھ ہائیکورٹ میں جواب ...

  

     کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک) وفاقی حکومت نے سابق صدر پرویز مشرف کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) سے نکالنے سے انکار کر دیا ہے اور اس ضمن میں سندھ ہائیکورٹ میں جواب جمع کرا دیا ہے، وفاق نے اپنے جواب میں کہا ہے کہ پرویز مشرف کا نام ای سی ایل میں سپریم کورٹ کے احکامات پر شامل کیا گیا، اس فیصلے سے متعلق ہائیکورٹ میں اپیل نہیں کی جا سکتی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق ڈپٹی اٹارنی جنرل نے وفاقی حکومت کی جانب سے سندھ ہائیکورٹ میں جواب داخل کرایا جس میں کہا گیا ہے کہ سندھ ہائیکورٹ کو پرویز مشرف ای سی ایل کیس سننے کا اختیار نہیں، مشرف کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کے احکامات سپریم کورٹ نے دیئے اور اس فیصلے کے خلاف ہائیکورٹ میں اپیل نہیں کی جا سکتی، ای سی ایل سے نام نکالنے اور بیرون ملک جانے کی اجازت سپریم کورٹ کا اختیار ہے، پرویز مشرف کی درخواست مسترد کی جائے۔ جواب میں کہا گیا ہے کہ مشرف کے خلاف سنگین غداری کا مقدمہ زیر سماعت ہے ، آرٹیکل 199 کے تحت ریلیف نہیں دیا جا سکتا، پرویز مشرف نے اپنی درخواست میں حقائق چھپائے، پرویز مشرف چار اہم مقدمات میں نامزد اور ضمانت پر ہیں اور ان پر سنگین نوعیت کے الزامات ہیں اس لئے انہیں ملک چھوڑنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔پرویز مشرف پر سنگین غداری کا مقدمہ بھی درج ہے جس کی سزا موت ہے اور پرویز مشرف سزا ملنے کے امکانات کے پیش نظر ملک سے باہر جانا چاہتے ہیں، خصوصی عدالت اس مقدمے میں فردجرم بھی عائد کی جا چکی ہے۔ رپورٹ کے مطابق وفاقی حکومت کی جانب سے کہا گیا ہے کہ بیماری کا عذر بنا کر بیرون ملک جانے کی اجازت دینا آئین کی خلاف ورزی ہے، وفاقی حکومت نے علاج کیلئے ان کی والدہ کو ملک لانے کی پیشکش کی ہے۔ رپورٹ کے مطابق وفاق کی جانب سے سندھ ہائیکورٹ میں جمع کرائے گئے جواب کی کاپی پرویز مشرف کے وکیل فروغ نسیم کو بھی دے دی گئی ہے۔

مزید :

صفحہ اول -