تعلیمی بورڈ لاہور میں مارکنگ کے مسائل

تعلیمی بورڈ لاہور میں مارکنگ کے مسائل
تعلیمی بورڈ لاہور میں مارکنگ کے مسائل
کیپشن: nasir basheer

  

تعلیمی بورڈ لاہور چونکہ ایک پبلک ڈیلنگ کا ادارہ ہے، اس لئے اس سے لوگوں کو ہمیشہ شکایات رہی ہیں۔میڈیا بھی اس کی کمزوریوں کی تلاش میں رہتا ہے،چنانچہ اس کے افسر اور اہل کار ہمیشہ سہمے سہمے رہتے ہیں، بقول حزیں صدیقی:

اب گری جیسے اب گری دیوار

تعلیمی بورڈ میں کلیدی عہدوں پر زیادہ تر پروفیسروں اور کبھی کبھار سکول اساتذہ کو لگایا جاتا ہے۔ہر آدمی کو یہاں یہ سوچ کر لگایا جاتا ہے کہ شاید یہ شخص بورڈ کے معاملات کو درست کر لے گا، لیکن یہ اونٹ جس کروٹ بھی بیٹھ جائے، ہمیشہ مشکوک نظروں سے دیکھا جاتا ہے۔ طلبہ و طالبات اور والدین اس سے کبھی خوش دکھائی نہیں دیئے۔ دو تین برس پہلے اس کے میٹرک اور انٹر کے نتائج نے طلبہ اور والدین کو اس قدر پریشان کیا کہ وہ سب جوق در جوق تعلیمی بورڈ کی مزنگ روڈ پر واقع پُرشکوہ اور عالی شان عمارت کی طرف عازمِ سفر ہوئے۔بیش تر احتجاج کی نیت سے نکلے تھے۔احتجاج میں شدت آئی۔نعرے لگے۔سڑکوں پر ٹریفک روکا گیا تو عام لوگ بھی پریشان ہوئے۔میڈیا کے کیمروں کی آنکھ کھلی تو محو خواب، بورڈ حکام جاگے۔محکمہ تعلیم نے بھی نوٹس لیا۔ وزیراعلیٰ تک خبر پہنچی تو غلط نتائج مرتب کرنے والے صاحب کا کنٹریکٹ منسوخ کر دیا گیا، حالانکہ ان دنوں دبے لفظوں میں یہ بھی کہا گیا کہ یہ صاحب جو غلط نتائج دینے کے ذمہ دار ہیں، ایک اہم ترین وفاقی وزیر کے بھانجے بھتیجے ہیں، لیکن وزیراعلیٰ نے جرات مندانہ فیصلہ کرتے ہوئے ان صاحب کو فوراً ہٹا دیا۔

آج جب بہت سا پانی پُلوں کے نیچے سے گزر چکا ہے تو معلوم ہوا ہے کہ غلط نتائج کے سلسلے میں ایک ہی شخص ذمہ دار نہیں تھا،بلکہ اس میں بہت سے پردہ نشینوں کے نام شامل تھے۔کمپیوٹر کے ساتھ ساتھ بہت سے اعلیٰ دماغوں کی پھرتیاں اور آنیاں جانیاں بھی غلط نتائج کا باعث تھیں، چنانچہ انہی دنوں جانچے گئے پرچوں کی دوبارہ پرکھ پرچول کی روایت ڈالی گئی، تاکہ خرابیوں کو نتائج کے اعلان سے پہلے ہی دور کرلیا جائے۔اس کا بہت فائدہ ہوا۔اس کے بعد جب نتائج کا اعلان ہوا تو طلبہ و طالبات اور والدین کی شکایات سکڑ کر رہ گئی تھیں۔احتجاجی صدائیں اور نعرے بھی دم توڑ گئے۔تب بورڈ کے چیئرمین پروفیسر نصراللہ ورک نے سکون کا سانس لیا تھا کہ اب ان کی کرسی پکی ہو گئی ہے، کیونکہ وہ پنجاب حکومت کی کڑی نگرانی میں تھے اور ان کی کارکردگی کو بغور دیکھا جا رہا تھا۔

اب جبکہ ورک صاحب کو احساس ہو گیا ہے کہ وہ بورڈ کے منہ زور گھوڑے کو لگام ڈالنے میں کامیاب ہو گئے ہیں تو اس سال انہوں نے میٹرک اور انٹر کے پرچے جانچنے والے ایگزامینرز اور ہیڈ ایگزامینرز کے لئے ایک روزہ تربیتی ورکشاپ کا اہتمام کیا۔ہیڈایگزامینر کے طور پر مَیں بھی اس میں شریک تھا۔بقول ورک صاحب کے ورکشاپ خواہ کتنی ہی کمزور کیوں نہ ہو، شرکاءکو بہت کچھ سکھا جاتی ہے۔مَیں اردو کی ورکشاپ میں شریک ہوا۔میرے خیال میں یہ ورکشاپ بس ٹھیک ہی تھی۔طرفہ تماشا دیکھئے کہ اردو کے بارے میں ورکشاپ ، انگریزی میں ہو رہی تھی۔میرے حساب سے یہ ورکشاپ منتظمین کی خاصی توجہ کی متقاضی تھی، لیکن اس کے باوجود میرے پرانے مہربان محمد علی شاہد نے فرمایا کہ باقی مضامین کی نسبت اردو کی ورکشاپ زیادہ بہتر رہی۔سبب اس کا انہوں نے یہ بتایا کہ اس میں زیادہ اساتذہ شریک ہوئے ہیں۔ نہ صرف شریک ہوئے ہیں، بلکہ مکالمے، گفتگو اور بحث و تمحیص میں بھی حصہ لے رہے ہیں، تجاویز دے رہے ہیں۔

ورکشاپ کے آغاز میں چیئرمین صاحب کے افتتاحی اور استقبالیہ کلمات نے اس کی اہمیت بتلا دی تھی۔ڈپٹی کنٹرولر شمس الرحمن اور پروفیسر حمیدہ الطاف بھی یہاں آخر تک موجود رہیں۔ حمیدہ الطاف کو مارکنگ کے نظام کو مزید بہتر بنانے کے لئے بورڈ حکام نے کوآرڈی نیٹر مقرر کیا ہے۔حمیدہ الطاف گریڈ بیس میں اردو کی پروفیسر ہیں اور میری طرح وہ بھی اپنے مضمون سے درد مندی اور خلوص کا تعلق رکھتی ہیں، جس طرح میری ہمیشہ سے یہ خواہش رہی ہے کہ تعلیمی بورڈ مارکنگ کے نظام کو بہتر سے بہتر کرنے کے لئے سرگرم رہے، اسی طرح حمیدہ الطاف صاحبہ بھی مارکنگ کے کام میں کسی سمجھوتے کی قائل نہیں۔مَیں نے انہیں بطور ہیڈ ایگزامینر کام کرتے دیکھا ہے۔غلط مارکنگ کرنے والے ایگزامینرز کو وہ کھڑے پیر گھر واپس بھیج دیتی ہیں۔کہتی ہیں کہ قوم کے مستقبل سے مذاق کرنے کی کسی کو اجازت نہیں دی جا سکتی۔ مَیں بھی ایسی ہی سوچ رکھتا ہوں، لیکن میرا مزاج یہ ہے کہ جس شخص کو کام نہیں آتا، اسے کام یوں سکھا دیا جائے کہ پھر وہ بھی دوسروں کو سکھانے کے لئے تیار ہو جائے، تاکہ چراغ سے چراغ جلتا رہے۔

پچھلے سال مجھے تعلیمی بورڈ لاہور نے گورنمنٹ کالج شاہدرہ میں ہیڈایگزامینر لگایا تو میرے ساتھ کام کرنے والے بیشتر سب ایگزامینر، اس شعبے میں نووارد تھے، مَیں نے سب کی یوں تربیت کی کہ اب وہ اپنے کام میں طاق ہیں۔یوں بھی یہ ایک حقیقت ہے کہ کالجوں میں پڑھانے والے اچھے اساتذہ بورڈ کے دفتر میں مارکنگ کرنا پسند نہیں کرتے۔اگر تعلیمی بورڈ کے چیئرمین جناب نصراللہ ورک مارکنگ سینٹرز میں اچھا اور پُرسکون ماحول فراہم کریں تو کالجوں کے تمام پروفیسر شاید مارکنگ کے لئے تیار ہو جائیں۔اگر مارکنگ کے لئے تعلیمی بورڈ ہر سال دو ماہ کے لئے کسی بڑے ہوٹل کے دو تین ائر کنڈیشنڈ ہال کرایہ پر لے لیا کرے تو اساتذہ صبح آٹھ بجے سے رات بارہ بجے تک بھی مارکنگ کر سکتے ہیں۔ بیسویں گریڈ کے چیئرمین صاحب سے مجھے یہ کہنا ہے کہ آپ گریڈ اٹھارہ، انیس اور بیس کے پروفیسروں کو تندوری کمروں میں بٹھا کر مارکنگ کراتے ہیں اور آپ کے تعلیمی بورڈ کے اٹھارہ گریڈ کے سیکرٹری صاحب ، کنٹرولر صاحب اور خود آپ ٹھنڈے کمروں میں بیٹھتے ہیں، جس روز آپ نے یہ تفاوت ختم کردیا، اس روز آپ مارکنگ کے مطلوبہ معیار کو حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔اس طرح کی ورکشاپیں تو نشستند، گفتند، برخاستند کی ذیل میں آتی ہیں۔آپ سے بہتر کون جانتا ہوگا، چیئرمین صاحب!

مزید :

کالم -