عالمی ادراہ صحت سے،اربوں روپے کے فنڈز لینے کے باوجود پاکستان 30سال میں پولیو فری ملک نہ بن سکا

عالمی ادراہ صحت سے،اربوں روپے کے فنڈز لینے کے باوجود پاکستان 30سال میں پولیو ...

  

                          لاہور(جاوید اقبال) عالمی ادارہ صحت نے دنیا کے 125ممالک سے پولیو وائرس کے خاتمے کا پروگرام 1984ءمیں شروع کیا وائرس زدہ ممالک کو کھربوں روپے کے فنڈز سالانہ بنیادوں پر دیئے گئے دنیا کے 125ممالک میں سے 122نے اپنے ممالک کو پولیو وائرس فری 2000ءتک کر کے پولیوفری ممالک ہونے کے سرٹیفکیٹ حاصل کر لئے مگر پاکستان ٹاسک کے 9سال بعد بھی پولیو فری ملک نہ بن سکا۔پاکستان نے عالمی ادارہ صحت سے 2000ءکے بعد 2005ءمیں ملک کو پولیو فری کرنے کے وعدے کئے جو 2014ءمیں بھی وفاءنہ ہو سکے۔ آخر کار عالمی ادارہ صحت نے پاکستان کے شہریوں پر پولیو سرٹیفکیٹ کے بغیر سفری سہولیات پر پابندی عائد کر کے پوری پاکستانی قوم کے سرشرم سے جھکا دیئے، جو کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں میں صحت کی وزارتوں اور محکموں میں تعینات رہنے والے افسر شاہی اور پاپو شاہی کی سیاہ کاریوں کا نتیجہ ہے، جنہوں نے ا س پروگرام کی آڑ میں فنڈز اپنی عیاشیوں پر اڑائے اور پاکستان کے عوام پر سفری پابندیاں لگا کر پاکستان کی عزت کا جنازہ نکلوا دیا اس امر کا اظہار مختلف ڈاکٹرز تنظیموں ماہرین صحت نے ”پاکستان“ سے اپنی گفتگو کے دوران کیا۔پی ایم اے کے راہنماﺅں ڈاکٹر شاہد ملک پرویز یاسمین راشد، ڈاکٹر اظہار چوہدری، وائی ڈی اے کے راہنماﺅں ڈاکٹر سلیمان کاظمی ڈاکٹر عامر بندیشہ نے کہا کہ پولیو وائرس کا خاتمہ کرنے کے لئے مستقل نظام بنانا ”ریاست“ کی ذمہ داری تھی جس میں عوام کی شمولیت بھی ضروری تھی مگر نہ حکومتوں نے پولیو کا خاتمہ اپنی ترجیح رکھی نہ عوام نے اپنی ذمہ داری پوری کی پولیو کی ویکسین کے لئے چاروں صوبائی حکومتو ںنے بھی 18ویں ترمیم کے بعد خودمختاری ملنے پر بھی ذمہ داری پوری نہ کی۔ ویکسین عام لوگوں تک آ کر پہنچی بھی ہے تو مناسب درجہ حرارت نہ ملنے کی وجہ سے بے اثر ہی پہنچی ہے کولڈ چینی سسٹم کا نہ ہونا بھی آڑھے آ گیا پولیو کی گاڑیاں افسروں کے ڈیروں پر چلتی رہی ہیں۔ حکومتوں کو چاہئے کہ وہ مستقل پابندی سے اپنے شہریوں کو بچانے کے لئے پولیو ایمرجنسی نافذ کریں اور فوری طور پر ایک گھنٹے کی عمر کے بچے سے لیکر ہر عمر کے مرد و عورت کو پولیو کے قطرے پلائیں اگر 3ماہ کے اندر ہر کام مکمل کر لیا جائے اور 3سال تک بار بار ایسا کیا جائے تو پھر جا کر 3سالوں بعد یہ مرض ختم ہو سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ 1984ءسے اب تک جو افسر سیکرٹری صحت رہا ڈی جی ہیلتھ رہا EPIڈائریکٹر رہا اس کی کارکردگی سامنے لا کر اسے لٹکا دیا جائے تاکہ آئندہ کوئی افسر پاکستان کی عزت کو دنیا میں رسوا نہ کر سکے۔

مزید :

صفحہ اول -