پولیو کی روک تھام میں ناکامی ،پاکستان سمیت 10ممالک پر سفری پابندیوں کی سفارش

پولیو کی روک تھام میں ناکامی ،پاکستان سمیت 10ممالک پر سفری پابندیوں کی سفارش

  

جنیوا(مانٹیرنگ ڈیسک،اے این این ،خصوصی رپورٹ)عالمی ادار صحت نے پاکستان، کیمرون اور شام کو دنیا میں پولیو کے وائرس کے پھیلا ؤکے حوالے سے سب سے بڑا خطرہ دیتے ہوئے ان ممالک کے شہریوں پرسفری پابندیاں عائد کرنے کی سفارش کی ہے اورکہاہے کہ ان ممالک کو سرکاری طور پر اس مرض کے بیرونِ ملک پھیلا ؤکی روک تھام کے لیے ہنگامی حالت کا اعلان کرنا چاہیے۔ عالمی ادار صحت نے جنیوا میں چار دن تک جاری رہنے والے اجلاس میں پولیو کی روک تھام کے لیے نئی گائیڈ لائنز جا ر ی کر د ؁یں۔ میڈیارپورٹ کے مطابق ڈبلیو ایچ او نے پولیو کے مرض کے پھیلا ؤکو صحت عامہ کے معاملے میں عالمی ایمرجنسی قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ پولیو کے مرض کے پھیلاؤ کا باعث بننے والے پاکستان سمیت تینوں ممالک کے شہریوں پر بیرونِ ملک سفر سے قبل پولیو سے بچا ؤکی ویکسین پینا لازم قرار دیا جائے۔ ادارے کی جانب سے پیر کو پولیو سے نمٹنے کے لیے جاری ہونے والی نئی ہدایات کے مطابق ان ممالک سے بیرونِ ملک سفر کرنے والے افراد پر سفر سے کم از کم چار ہفتے اور زیادہ سے زیادہ ایک برس قبل انسدادِ پولیو کی ویکسین پینا لازمی ہوگا جبکہ ہنگامی حالات میں سفر کرنے والوں کو سفر کے آغاز پر یہ ویکسین پینا ہوگی۔ہدایات میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ان مسافروں کو ویکسین پلائے جانے کا تصدیقی سرٹیفیکیٹ بھی حاصل کرنا ہوگا۔ واضح رہے کہ پولیو کچھ عرصہ پہلے تک صرف دنیا کے تین ممالک پاکستان، افغانستان اور نائیجیریا میں عام طور پر پایا جاتا تھا مگر حال ہی میں اس بیماری نے عرب ملکوں شام اور عراق سمیت دنیا کے کئی ملکوں میں دوبارہ سر اٹھایا ہے۔ پاکستان میں پولیو کیسوں کی تعداد میں اس سال اب تک 600 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ 2013میں اپریل تک پاکستان میں پولیو کے آٹھ کیس سامنے آئے تھے جبکہ اس سال 56 کیس منظرعام پر آئے ہیں۔ عالمی ادارہ صحت کو پاکستان میں اس سال کے ابتدائی چار مہینوں میں پولیو کے کیسوں میں تیزی سے اضافے پر تشویش ہے حالانکہ عام طور پر ان مہینوں میں اس وائرس کے پھیلنے کی رفتار سست ہوتی ہے۔ بھارت نے، جسے پولیو سے پاک قرار دیا جا چکا ہے، پاکستانی مسافروں پر انسدادِ پولیو ویکسینیشن پہلے ہی لازمی کر دی ہے۔ صحت کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اس بیماری کو دوسرے ملکوں میں پھیلنے سے روکنے کا شاید یہی واحد راستہ ہو سکتا ہے۔ حکومت پاکستان اور عالمی ادار صحت کی یہی کوشش رہی ہے کہ پاکستان میں بچوں کو پولیو سے بچا ؤکے قطرے پلانے کی مہم مکمل ہو لیکن اس مہم میں حصہ لینے والے صحت کے کارکنوں اور ان کی حفاظت پر مامور سیکیورٹی اہلکاروں پر حملوں کی وجہ سے یہ مہم مشکلات کا شکار رہی ہے۔ پاکستان میں عالمی ادارہ صحت کی ویکسینیشن ٹیموں پر متعدد حملے ہوچکے ہیں جہاں طالبان دعوی کرتے ہیں کہ اس مہم کی آڑ میں مغربی ملک جاسوسی کرتے ہیں۔ ان حملوں میں اب تک اس مہم میں حصہ لینے والے کم سے کم 59 افراد کو ہلاک کیا گیا ہے۔ اس سے قبل پاکستانی میڈیارپورٹ کے مطابق عالمی ادار صحت کی جانب سے ممکنہ سفری پابندیوں کے خدشے کے پیش نظر حکومت پاکستان پہلے ہی حرکت میں آگئی اور صورتحال پر غور کے لیے وفاقی وزارت صحت نے جلد ہی ایک اجلاس بلانے کا بھی فیصلہ کیا ہے جس میں چاروں صوبوں کے صحت کے حکام شرکت کریں گے

مزید :

صفحہ اول -