طالبان کی شوریٰ کے رکن کا صاحبزادہ جاں بحق،حکومت حتمی بات چیت چاہتی تھی کہ حادثہ ہوگیا

طالبان کی شوریٰ کے رکن کا صاحبزادہ جاں بحق،حکومت حتمی بات چیت چاہتی تھی کہ ...
 طالبان کی شوریٰ کے رکن کا صاحبزادہ جاں بحق،حکومت حتمی بات چیت چاہتی تھی کہ حادثہ ہوگیا
کیپشن: ch khadim hussain

  

تجزیہ : چودھری خادم حسین

وزیرستان اور خیبر ایجنسی کے علاقوں میں ہونے والی نئی جھڑپوں اور تبدیلیوں سے حکومت طالبان مذاکرات پھر سے دشواری اور مشکل میں پڑ گئے ہیں، اب حکومت بھی اس سلسلے کو آرپار لگانا چاہتی ہے اسی لئے کالعدم تحریک طالبان کی رابطہ کمیٹی سے کہا گیا ہے کہ تحریک والوں سے رابطہ کرکے حتمی جواب حاصل کریں کہ کیا مذاکرات سنجیدہ ہوں گے یا اسی طرح مطالبات پر مطالبات سامنے آتے رہیں گے حکومت اس کنفیوژن کو ختم کرنے کے لئے کوشاں ہے اور اسی کے تحت حتمی بات چیت کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

دوسری طرف صورت حال یہ ہے کہ جنوبی وزیرستان میں سیکیورٹی فورسز اور کالعدم تحریک طالبان کے سجنا گروپ کے درمیان جھڑپ ہوگئی، اس شدید نوعیت کی لڑائی میں سجنا گروپ کے جو لوگ مارے گئے ان میں دو کمانڈر بھی جاں بحق ہوئے ہیں، ایک کمانڈر عرفان محسود کالعدم تحریک طالبان کی مجلس شوریٰ کے رکن اعظم طارق کا بیٹا ہے، اعظم طارق طالبان شوریٰ کی طرف سے اس کمیٹی کے رکن ہیں۔ جس نے حکومتی وفد سے مذاکرات کرنا ہیں، بیٹے کی موت ان کے لئے صدمے کا باعث ہے اور طالبان کی طرف سے شدیدردعمل کا اظہار بھی کردیا گیا ہے اس لئے فوری طورپر مذاکرات کی بحالی کا معاملہ بھی کھٹائی میں پڑ گیا ہے، طالبان رابطہ کمیٹی کا بھی رابطہ نہیں ہوپارہا کہ اگلی میٹنگ کا طے کیا جائے جبکہ حکومت کا اصرار ہے کہ جو کچھ کہنا اور جن نکات پر بات کرنا ہے وہ ایک ہی وقت میں بتادی جائے، اس کے علاوہ حکومت نے اپنی طرف سے اس مو¿قف کو دہرایا ہے کہ طالبان شدت پسندی ترک کریں اور مذاکرات کے حتمی نتیجے تک سیز فائر برقراررکھی جائے، حکومت کی طرف سے کوئی خاص علاقہ مخصوص کرنے سے پہلے ہی انکار کردیا گیا ہے لہٰذا اب اگر حکومتی اور طالبان کمیٹی میں براہ راست مذاکرات ہونا ہیں تو پھر جگہ کا تعین اور طریق کار نئے سرے سے طے ہوگا۔

جہاں تک سیکیورٹی فورسز کا تعلق ہے تو اس نے سوات اور جنوبی وزیرستان کلیئر کرانے کے بعد خیبر ایجنسی میں کام شروع کیا تھا اور اب وادی تیراہ کو کلیئر قرار دے دیا گیا، نقل مکانی کرنے والوں سے کہا گیا ہے کہ وہ اپنے گھروں کو واپس آسکتے ہیں، یہ واپسی تین سال کے بعد ہوگی اور واپس جانے والے خاندان کو پانچ پانچ ماہ کا راشن دیا جائے گا یہ بڑی کامیابی ہے۔

ایک طرف یہ حالات ہیں تو دوسری طرف سوات میں شرپسندوں کے ساتھ جھڑپ ہوئی اور ان کو بھاگنا پڑا، حالات کے تحت ہی ضروری ہے کہ وادی سوات اور وزیرستان میں بھی ”منی کینٹ“ بنا کر فوجی دستے رکھے جائیں جو کسی بھی شدت پسندی کا جواب دینے کی اہلیت کے حامل ہوں اور حکومت ایسا کرے گی اگرچہ کالعدم تحریک طالبان یہ چھاﺅنیاں ختم کرانا چاہتی ہے۔

اب سیاسی اور عسکری قیادت کو نئی صورت حال میں نئے سرے سے تجزیہ کرکے فیصلے کرنا ہوں گے اور یہ جو طے ہوا تھا کہ مذاکرات والوں سے بات چیت اور شدت پسندی پر آمادہ حضرات سے مسلسل نمٹا جائے، بعض مبصر اعظم طارق کے بیٹے کی موت کے باعث مذاکرات ختم کرنے کی بھی توقع کررہے ہیں تاہم کالعدم تحریک طالبان ضرور مذاکرات کرے گی۔ اس کے لئے عام معافی کا اعلان بھی ہوسکتا ہے، بشرطیکہ معاملات طے پاجائیں، اور یہ ممکن ہے۔

حادثہ ہو گیا

مزید :

تجزیہ -