شام میں تربیت یافتہ جنگجو واپس آ کر انتہا پسند ی پھیلائیں گے

شام میں تربیت یافتہ جنگجو واپس آ کر انتہا پسند ی پھیلائیں گے

  

                        واشنگٹن(اظہر زمان، بیوروچیف) دنیا بھر سے جہادی جنگجو شام پہنچ کر عسکری تربیت حاصل کرکے وہاں خانہ جنگی میں شریک ہیں۔ جب یہ افراد جنگ سے فارغ ہو کر اپنے اپنے ملکوں میں واپس جائیں گے تو یہ وہاں جا کر بھی انتہا پسندی پھیلائیں گے۔ اس تشویش کا اظہار ایف بی آئی کے ڈائریکٹر جیمز کومی نے یہاں ایک راﺅنڈ ٹیبل مذاکراے میں کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکی انٹیلی جنس ایجنسیاں جہادیوں کے اس سیلاب پر گہری نظر رکھے گی جو شام کی جنگ سے برآمدہ ہوگا۔ انہوں نے بتایا دوسرے ممالک کی طرح درجنوں امریکی مسلمان بھی شام کی مزحمت میں شریک ہیں۔ایف بی آئی کے ڈائریکٹر نے شام کی موجودہ صورتحال کا افغانستان سے تقابل کرتے ہوئے یاد دلایا کہ 1980ءکے عشرے میں وہاں کویت یونین کے دس سالہ قبضے کے دوران القاعدہ نے افغانستان میں اپنا مرکز تشکیل دیا۔ اس جنگ کے خاتمے کے بعد بہت سے مسلمان جہادی ذہن کے ساتھ اپنے ملکوں کو واپس گئے۔ اب شام میں بھی وہی ہونے جارہا ہے، لیکن یہاں صورتحال افغانستان سے بھی زیادہ خراب ہے ۔ انہوں نے کہا کہ جیسے روسی جنگ سے فارغ ہونے والوں نے نائن الیون کا سانحہ کیا ہم ان جنگجو گروہوں پر نظر رکھ رہے ہیں کہ وہ کوئی نیا نائن الیون نہ کردیں۔

مزید :

صفحہ اول -