عدم ادائیگیوں پر شاہین ایئرلائن کی پروازوں کی بندش کا امکان

عدم ادائیگیوں پر شاہین ایئرلائن کی پروازوں کی بندش کا امکان

غریب کیلئے ڈسپرین میسر نہیں ، قوم پر رحم کرناچاہیے ، مال بنانے کیلئے ایئرپورٹ منصوبہ بنا: پی اے سی

Shaheen Airline
کیپشن: PAC

  

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) قومی اسمبلی کی پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی میں انکشاف کیا گیا ہے کہ شاہین ایئر لائنز کے ذمہ 1 ارب 12 کروڑ روپے کے بقایا جات ہیں جس پر کمیٹی نے واجبات کی وصولی تک ایئرلائن کی پروازیں روکنے کی ہدایت کردی جبکہ کمیٹی کے چیئرمین سید خورشید شاہ نے کہا ہے کہ آج غریبوں کو دو وقت کی روٹی اورڈسپرین بھی میسر نہیں اور ایئرپورٹ کو آئندہ تیس برس کو سامنے رکھ کر اربوں روپے سے بنایا جارہا ہے، قوم پر رحم کرنا چاہیے۔چیئرمین خورشید شاہ کی زیرصدارت ہونیوالے پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی کے اجلاس کے دوران بتایا گیا کہ ایئرپورٹ کی رابطہ سڑکوں پر 30 ارب روپے خرچ ہوں گے جس پر کمیٹی نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ منصوبہ سرے سے ہی غلط بنایا گیا، سڑکیں اور پانی دستیاب نہ ہونے پر بھی ایئرپورٹ مکمل کرلیا گیا، سارا چکر زمینوں کی خریداری میں تھا جس میں مال بنایا گیا اور آئندہ اجلاس میں زمینوں کی خریداری ومالکان کی تفصیلات طلب کرلیں، ایف آئی اے کو ہدایت کی گئی کہ ایئرپورٹ کے معاملے کی تحقیقات جلد مکمل کرکے رپورٹ کمیٹی کو پیش کی جائے۔ کمیٹی نے اضافی رن وے پر کام روکنے اور سڑکوں کی تعمیرات پر نیشنل ہائی ویز اتھارٹی (این ایچ اے) سے بریفنگ لینے کا فیصلہ کیا۔ اجلاس میں اراکین کمیٹی کے علاوہ سول ایوی ایشن، این ایچ اے، منصوبہ بندی ڈویژن، آڈٹ حکام، نیب، ایف آئی اے کے نمائندوں نے شرکت کی۔ چیئرمین کمیٹی نے نقطہ اٹھایا کہ شاہین ایئر نے 1 ارب 12 کروڑ روپے کے بقایا جات کی ادائیگی کرنا تھی تاہم نہیں کی جس پر سول ایوی ایشن حکام نے بتایا کہ انہیں خط دیر سے موصول ہوا جس کی بناءپر وہ جواب نہیں دے سکے تاہم انہوں نے کمیٹی کو بتایا کہ یہ دوسری مرتبہ ہے کہ شاہین ایئر کے واجبات بڑھے ہیں اور اس مرتبہ 1 ارب روپے کی حد بھی تجاوز کرسکتے ہیں پہلی مرتبہ وارننگ کے باعث 6 ماہ میں واجبات ادا کردئیے گئے تھے تاہم اس مرتبہ ان کو کہا گیا ہے کہ وہ اس رقم پر 11-5 فیصد زائد سود کی مد میں ادائیگی کریں گے، سٹیٹ بینک کے مطابق 164 ملین جو کہ سرچارج ہے شاہین ائیر حکام نے معاف کرنے کی درخواست کی تھی تاہم اس کو معاف نہیں کیا گیا ۔خورشید شاہ نے کہا کہ یہ حکومتی پیسہ ہے اور کمیٹی کا کام اس پیسہ کو واپسی حکومتی خزانہ میں پہنچانا ہے، اگر شاہین ایئراپنی ادائیگیاں مکمل نہیں کرتی تو ان کی تمام پروازیں روک دی جائیں تا وقت یہ کہ ان کی وصولیاں مکمل ہوجائیں۔ اجلاس میں کمیٹی کے شرکاءکو بریفنگ دیتے ہوئے نیشنل ہائی ویز اتھارٹی کے حکام نے بتایا کہ نئے ایئرپورٹ نیو بے نظیر ایئر پورٹ میں 700 ایکڑ کا رقبہ کمرشل سہولیات مثلاً ریسٹورنٹس اور ہوٹل کے لئے مختص کیا جائے گا۔ ایئرپورٹ پر 2 رن ویز بنائے جارہے ہیں تاہم ایک اضافی ٹیکسی وے کی تعمیر اضافی طور پر کرلی گئی جس کی کوئی خاص ضرورت نہیں تھی جبکہ ایئر پورٹ پر لائٹس کا کام 95 فیصد مکمل ہوچکا ہے۔ چیئرمین پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی سید خورشید احمد شاہ نے کہا کہ منصوبہ کا تخمینہ 100 ارب روپے لگایا گیا ہے جس میں سے 30 ارب روپے تو صرف متعلقہ شاہراﺅں پر لگایا جائے گا۔ اس سے تو منصوبہ کی لاگت 150 ارب روپے سے تجاوز کرجائے گی، یہ عوام کا پیسہ ہے لوٹ کا مال نہیں تھوڑا سا اس قوم پر رحم کرنا چاہیے، کیسے فی 1 کلو میٹر شاہراہ کی تعمیر پر سوا ارب روپے کی لاگت آسکتی ہے، اتنی لاگت تو شاید موجودہ دور میں موٹروے کے ایک کلومیٹر کی تعمیر پر بھی نہیں آئے گی، کمیٹی نے ہدایت جاری کی کہ نئے ایئرپورٹ سے منسلکہ شاہراﺅں کی تعمیر کیلئے جن جن مالکان سے زمین خریدی جارہی ہے ان کے ناموں و دیگر تفصیلات کی ایک فہرست کمیٹی کے شرکاءکو فراہم کی جائے۔ ایم ڈی سول ایوی ایشن نے کمیٹی کو مطلع کیا کہ ابتدائی طور پر تین تجاویز زیر غور آئیں جس میں کشمیر ہائی وے کو براہ راست ایئرپورٹ تک لے جانے کا منصوبہ تھا ۔ نیشنل ہائی ویز اتھارٹی کے کرنل (ر) مصدق نے شرکاءکو بتایا کہ مارچ 2015ءتک ڈیزائن کو مکمل کرکے ٹینڈر جاری کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔ این ایچ اے حکام نے بتایا کہ نئے ایئر پورٹ کو ملانے والی شاہراﺅں پر 60 ہزار ٹریفک لوڈ ہوگا جس پر چیئرمین پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی نے ان کو ٹوک دیا اور کہا کہ موٹروے کی چھ لینز پر بھی کل ٹریفک لوڈ 17-16 ہزار سے زائد نہیں ہے تو کیسے ایئرپورٹ پر ٹریفک لوڈ 60 ہزار سے تجاوز کرجائے گا، نئے ایئرپورٹ پر ٹریفک لوڈ 60 ہزار سے تجاوز کرجائے گا۔

مزید :

اسلام آباد -اہم خبریں -