رائے ونڈ ہاﺅس، اسلام آباد ریڈ زون میں اہم عمارات کو لوڈشیڈنگ سے استثنیٰ دیئے جانے کاانکشاف

رائے ونڈ ہاﺅس، اسلام آباد ریڈ زون میں اہم عمارات کو لوڈشیڈنگ سے استثنیٰ دیئے ...
رائے ونڈ ہاﺅس، اسلام آباد ریڈ زون میں اہم عمارات کو لوڈشیڈنگ سے استثنیٰ دیئے جانے کاانکشاف

  

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے پانی وبجلی کے اجلاس کے دوران انکشاف ہواہے کہ اسلام آباد ریڈ زون میں اہم عمارات لوڈشیڈنگ سے مستثنیٰ ہیں جبکہ رائیونڈ میں بجلی جاتی تو ہے تاہم دو فیڈر نصب ہونے کے باعث بجلی کا مسئلہ نہیں ہوتا اگر ہو بھی تو جنریٹر فراہم کردئیے جاتے ہیں کیونکہ وہاں پر وزیراعظم اور وزیراعلیٰ کی رہائشگاہیں ہیں، کمیٹی نے فیول ایڈجسٹمنٹ اور وصولیوں سے متعلق وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کو تحریری درخواست کرکے معاملے کو مشترکہ مفادات کونسل میں حل کرنے، ملک بھر کی سٹریٹ لائٹس کو شمسی توانائی پر لانے کی سفارش کردی۔ چیئرمین زاہد خان کی زیر صدارت ہونیوالے اجلاس میں چیئرمین نے کہا کہ وزارت بجلی نے ہمیشہ غلط اعدادوشمار پیش کئے ہیں، اگر ملک میں صرف 3 ہزارمیگا واٹ بجلی کا شارٹ فال ہے تو بار بارہ گھنٹے کیسے لوڈشیڈنگ کی جارہی ہے؟ وزارت کے حکام نے بتایا کہ جن فیڈرز پر بجلی کے نقصانات 70 فیصد سے زائد ہوں وہاں زیادہ لوڈشیڈنگ کی جارہی ہے، بڑے سرکاری ادارے نادہندہ ہیں جس کی وجہ سے مسائل کا سامنا ہے، کمیٹی نے ادائیگیاں نہ ہونے پر سی ڈی اے سمیت تمام اداروں کی بجلی منقطع کرنے کی ہدایت کی۔ خبررساں ایجنسی کے مطابق رائےونڈ ہاﺅس لاہور، وزیراعظم ہاﺅس و سیکرٹریٹ، پاک سیکرٹریٹ، منسٹرزکالونی، پارلیمنٹ ہاﺅس، پنجاب، سندھ ہاﺅس اور سپریم کورٹ سمیت ریڈ زون میں موجود دیگر عمارات کے لوڈشیڈنگ سے مستثنیٰ ہونیکا انکشاف ہوا ہے جبکہ کمیٹی نے سفارش کی کہ رات کو لوڈشیڈنگ کم کی جائے اور صوبوں میں لوڈشیڈنگ، بجلی کی پیداوار، سرکلر ڈیٹ اور تقسیم کے حوالے سے اعدادوشمار طلب کرلئے ہیں۔

مزید :

اسلام آباد -اہم خبریں -