برسوں کی روایت، جموں وکشمیر کا گرمائی دارلحکومت جموں سے سری نگر منتقل ہوگیا 142

برسوں کی روایت، جموں وکشمیر کا گرمائی دارلحکومت جموں سے سری نگر منتقل ہوگیا ...

سری نگر(کے پی آئی(مقبوضہ کشمیر کے گرمائی سیکرٹریٹ نے سری نگر میں کام شروع کر دیا ہے ۔اس موقع پرشہر میں چپے چپے پر سیکورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے تھے اورسیکرٹریٹ کے گردنواح کے علاقوں میں دفعہ 144نافذ کیا گیا تھا۔ وزیر اعلی مفتی محمد سعید اقتدار سنبھالنے کے بعد پہلی بار سرینگر میں اپنے دفتر کا کام کاج سنبھا لا اور گرمائی دارلخلافہ سرینگر میں اپنے دفتر کا کام کاج سنبھالتے وقت وزیر اعلی کو گارڈ آف آنر بھی پیش کیا گیا ۔

سیکرٹریٹ کھلنے کے پیش نظر کسی بھی طرح کی صورتحال سے نمٹنے کیلئے فورسز اور پولیس کو الرٹ کردیا گیا تھا۔ سیکریٹریٹ اور ملحقہ سڑکوں ، وزراکی کوٹھیوں پر رنگ روغن کے ساتھ ساتھ لالچوک اور ائرپورٹ روڑ کو بھی سجایا گیا ہے جبکہ ٹرانسپورٹ کا نیا نظام بھی ہنگامی بنیادوں پرترتیب دیا گیا تھا۔ واضح رہے سرمائی دارلحکومت جموں میں 25اپریل کو دربار مو کے تحت سیول سیکرٹریٹ کے تمام دفاتر بند کردئے گئے تھے جبکہ ان دفاتر کے ریکارڈ اور دیگر کاغذات کو ہنگامی بنیادوں پر سرینگر پہنچایا گیا ۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ 1872میں اس وقت کے ڈوگرہ مہاراج گلاب سنگھ نے شاہانہ آسائش کے تحت دربار مو کو باری باری ہر چھ ماہ کیلئے سرینگر اور جموں میں رکھنے کی روایت شروع کی تھی اور گذشتہ 142برسوں سے دربار مو کا یہ انوکھا اور انتہائی خرچیلا رواج یا روایت ریاست میں رائج ہے اور ہر سال موسم سرما کے آتے ہی سیول سیکرٹریٹ کے دفاتر جموں منتقل کئے جاتے ہیں اور موسم گرما یا بہار کی آمد کے ساتھ ہی ؂ ماہ مئی میں یہ دفاتر سرینگر میں کھل جاتے ہیں۔ جبکہ دربار مو کی آواجاہی پر ہر سال کروڑوں روپے کی رقم مختلف طریقوں سے صرف کی جاتی ہے۔

مزید : عالمی منظر