بیورو کریسی حکومت کا مغز ہے

بیورو کریسی حکومت کا مغز ہے
بیورو کریسی حکومت کا مغز ہے

  

کسی نے سچ کہا ہے کہ بیورو کریسی حکومت کا مغز ہے۔ وزراء آتے جاتے رہتے ہیں، لیکن بیورو کریٹس اپنی اپنی سیٹوں پر طویل عرصہ تک متمکن رہتے ہیں۔ اعلیٰ تعلیم یافتہ ہونے اور اپنی اعلیٰ پیشہ ورانہ تربیت اور باہمی تعاون کی وجہ سے جس طرح چاہتے ہیں، کام کرتے ہیں اور اکثر وزراء کو ان کا ہمنوا بننا پڑتا ہے اور بعض وزیر جو اعلیٰ تعلیم یافتہ ہوتے ہیں اور اپنے محکمہ کا تجربہ بھی رکھتے ہیں، وہ اپنے محکمہ کے بیورو کریٹس سے اپنی مرضی کے مطابق کام لیتے ہیں۔بہت سے لوگ نوکرشاہی کی مخالفت کرتے ہیں، لیکن وہ یہ نہیں دیکھتے کہ وہ ملک کے لئے کیا خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔گاڑیاں چل رہی ہیں، دفاتر چل رہے ہیں۔ ان افسران کی زیر رہنمائی ملک کے لئے ریونیو اکٹھا ہوتا ہے۔ یہ اپنے ماتحت عملے اور اپنے علاقے کے لوگوں کے مسائل حل کرتے ہیں۔ سینئر بیورو کریٹس پالیسی ساز پوزیشن میں بھی کام کرتے ہیں۔ حکومت ان پالیسیوں پر عملدرآمد بھی ان ہی کے ذریعے کراتی ہے۔

سول سرونٹس ہمارے معاشرہ کا حصہ ہیں۔ وہ ہم میں سے ہیں، وہ مسائل حل کرتے ہیں۔ بحران کے دنوں میں خصوصاً قدرتی آفات یعنی سیلاب، زلزلے وغیرہ یا امن و امان کا مسئلہ ہو، جہاں دوسرے طبقات مثلاً افواج پاکستان، اساتذہ، صحافی اور دانشوروں نے گراں قدر خدمات سرانجام دی ہیں، وہاں اِکا دکا مثالوں کو چھوڑ کر سول سرونٹس نے بھی اپنا کردارادا کیا ہے۔ یہ افسران قاعدے قانون کے پابند ہیں۔ انہوں نے ملکی ترقی میں اہم کردار ادا کیا ہے اور حکومت کا ہاتھ بٹایا ہے۔

پبلک سرونٹس اپنے کام میں بہت دلچسپی لیتے ہیں اور بڑی دلجمعی اور شوق و ولولہ سے اپنے فرائض سرانجام دیتے ہیں اور اپنے ماتحتوں کے فلاح و بہبود کے کاموں میں بھی دلچسپی لیتے ہیں۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ یہ افسران لوگوں کے کام کرنے میں تاخیر کر دیتے ہیں۔ یہ بات کافی حد تک صحیح نہیں ہے۔ اس لئے کہ ایک تو کام بہت ہوتا ہے۔ دوسرا ہر کام کا ایک طریق کار ہوتا ہے اور پھر پبلک سرونٹس نے رولز اینڈ ریگولیشنز کو بھی دیکھا ہوتا ہے۔ فائلیں جب ماتحت عملہ کے پاس رپورٹس لینے کے لئے بھیج دی جاتی ہیں، وہاں بھی کچھ وقت لگتا ہے۔

سپرئیر سول سروس اقتدار کی زیریں سطح ہے، جس طرح اقتدار کے حصول کے لئے سیاستدان بڑی منصوبہ بندی اور جدوجہد کرتے ہیں، اسی طرح نچلی سطح پر عہدے حاصل کرنے کے لئے بڑی دوڑیں لگتی ہیں اور امیدوار اپنی شدید محنت، انہماک اور سرتوڑ کوششوں سے اپنی مرضی کا محکمہ حاصل کر لیتے ہیں اور پھر اپنی مرضی چلاتے ہیں، چونکہ اکثر اوقات وزراء کو اپنے محکموں کا تجربہ نہیں ہوتا اوربیورو کریٹس کو اپنے محکموں کا کافی تجربہ ہوتا ہے کہ وہ اپنی سیٹوں(عہدوں) پر ایک طویل عرصہ سے متمکن ہوتے ہیں۔کم ایسا ہوتا ہے کہ کوئی وزیر جسے اپنے محکمہ کا تجربہ ہو اور وہ اعلیٰ تعلیم یافتہ بھی ہو تو وہ بیورو کریٹس کے ہاتھوں میں نہیں کھیلتا، وگرنہ تو اپنی اعلیٰ تعلیم، تجربے اور اپنی اعلیٰ پیشہ ورانہ تربیت کی وجہ سے بیورو کریسی وزارتوں پر چھائی ہوئی ہے۔ بیورو کریٹس ملک عزیز کے طول و عرض میں ہوتے ہیں اور انہیں ایڈمنسٹریشن کی اعلیٰ تربیت بھی دی جاتی ہے اور ان میں باہمی تعاون بھی ہوتا ہے اور یہ ایک انسٹی ٹیوشن (ادارہ) کے طور پر سامنے آئے ہیں اور کبھی تو لگتا ہے، جیسے بیورو کریٹس ایک سیاسی قوت ہیں، تبھی تو انہیں حکومت کا مغز کہا گیا ہے۔

مزید :

کالم -