سکولز سطح پر پلے گراؤنڈز میں کھیلوں کا فروغ

سکولز سطح پر پلے گراؤنڈز میں کھیلوں کا فروغ
سکولز سطح پر پلے گراؤنڈز میں کھیلوں کا فروغ

  

بالکل صحیح کہاوت ہے، جس ملک میں کھیل کے میدان آباد ہوتے ہیں وہاں کے ہسپتال ویران ہوتے ہیں۔ہماری حکومتیں اور سرکاری ادارے مصروفیات اور مسائل میں اس قدر اُلجھے ہوئے ہیں کہ انہیں نوجوان نسل کو صحت مند ،قوت بخش تفریح کے مواقع دینے کی فرصت ہی نہیں ہے۔ کبھی کھیل کے میدان آباد تھے اب نوجوان نسل انٹرنیٹ،فیس بُک، ٹویٹ، کمپیوٹر، ایک دوسرے کو موبائلز سے میسجز کرتے دکھائی دیتی ہے یوں یہ قوت ریزہ ریزہ ہوتی دکھائی دے رہی ہے، لیکن ’’ملت کے ساتھ رابطہ استوار رکھ،پیوستہ رہ شجر سے امید بہار رکھ‘‘ ۔کمشنر لاہور ڈویثرن محمد عبداللہ خان سنبل نے کھیلوں کے میدان کو نوجوانوں کی غیر نصابی سرگرمیوں کے فروغ دینے کے لئے ٹھان لی ہے۔انہوں نے گزشتہ دنوں اپنے دفتر میں گورنمنٹ سطح کے سکولز کی گراؤنڈز بارے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے ضلعی انتظامیہ، سپورٹس آفیسرز کو ہدایت جاری کی کہ وہ اپنے اپنے علاقوں میں سکولز کی گراؤنڈز ان میں مندرجہ سہولیا ت کے موجودہونے اور مزید کن سہولیات کی ضرورت ہے۔

ان گراؤنڈز کی مکمل فزیبلیٹی رپورٹس جلد ازجمع کروائیں تاکہ حکومت پنجاب کے ’’صحت مند پنجاب‘‘ کے ویثرن کے فروغ کے لئے حکومت سے مطلوبہ فنڈز حاصل کرکے سکولز کی سطح پر کھیلوں کو فروغ دے کر نہ صرف پاکستان بلکہ عالمی سطح پر کرکٹ،ہاکی،کبڈی،والی بال،باسکٹ بال، ٹینس،ہینڈ بال،باکسنگ و دیگرکھیلوں میں کھلاڑی پیدا کئے جائیں تاکہ سبز ہلالی پرچم دنیا بھر میں گولڈمیڈلز حاصل کرکے سربلند ہو۔میری حکومت پنجاب ،وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف، ڈی جی سپورٹس محمد عثمان۔کمشنر لاہور محمد عبداللہ خان سنبل کو تجویز ہے کہ آئندہ مالی سال بجٹ میں لاہور ڈویژن خاص طور پر ضلع شیخوپورہ،ننکانہ ،قصور اور لاہور کے اضلاع میں ہائی سکولزکی گراؤنڈز میں آؤٹ ڈور،ان ڈور گیمز کے جمنیزیم کی تعمیر کے لئے فنڈز مختص کریں۔پنجاب میں ہر ڈویژن،ضلع اور سکولز ٹو سکولز کے درمیاں کھیلوں کے مقابلے کروانے کا اہتمام کریں تاکہ سکولز سطح پر کرکٹ ،ہاکی،والی بال،باکسنگ،ایتھلیٹس،و دیگر کھلاڑیوں کی سکروئنگ ہواور ان کا ریکارڈ محفوظ کیا جائے۔ جب یہ بچے سکولز کے بعد کالجز اور یوینورسٹریز میں جائیں چاہے وہ سرکاری و نجی تعلیمی ادارے ہوں۔

ان کھلاڑیوں کو سپورٹس بورڈ پنجاب کے تحت ٹرینگ دی جائے۔تاکہ یہ کھلاڑی ایشن ،ورلڈ،اولمپکس،کامن و ہیلتھ گیمز میں کوالیفائی کر سکیں۔پنجاب یوتھ سپورٹس فیسٹول کا دو سال سے انعقاد خو ش آئند ہے دو سال سے کروڑوں روپے کھیلوں اور کھلاڑیوں کی فلاح و بہبود پر خرچ کئے گئے ہیں۔کئی عالمی ریکارڈ ’’گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ‘‘ پاکستان کے نام ہوئے ہیں، لیکن اصل ہدف تو تب مکمل ہو گا جب ورلڈ ریکارڈ بنانے والے کھلاڑی عالمی سطح کے مقابلوں کے لئے کوالیفائی کریں، لہٰذا حکومت پنجاب ان کھلاڑیوں کی ٹرینگ شروع کر دے تاکہ 3سال بعد آنے والے اولمپکس مقابلوں میں کھلاڑی کوالیفائی کر سکیں اگر ان کھلاڑیوں کو عالمی سطح پر کوالیفائی کے لئے تیار نہ کیا گیا تو یہ سب مہم جوئی بیکار ہو گی۔میری کمشنر لاہور محمد عبداللہ خان سنبل سے گزارش ہے کہ وہ لاہور میں گورنمنٹ اسلامیہ ہائی سکول سنت نگرگورنمنٹ ہائی سکول مانگا منڈی،گورنمنٹ ہائی سکول نارنگ ضلع شیخوپورہ،گورنمنٹ ہائی سکول کا لا خطائی ضلع شیخوپورہ تحصیل مرید کے ،گورنمنٹ ہائی سکول شامکے بھٹیاں ضلع لاہور،گورنمنٹ ہائی سکول جلو واہگہ ٹاؤن کی گراؤنڈز میں کھیلوں کے فروغ کے لئے ہر قسم کی سہولیات فراہم کروائیں۔

پاکستانیوں کے لئے یہ خوش آئند پر مسرت لمحہ ہے کہ سری لنکن کرکٹ ٹیم پر حملہ کے بعد پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ کا باب جو بند ہو گیا تھا ۔ زمبابوین کرکٹ بورڈ اور زمبایوین حکومت نے زمبابوے کرکٹ ٹیم کو پاکستان بھجوانے کی کلیئرنس دے دی ہے۔انشااللہ اس بین الاقوامی کرکٹ سریز کے انعقادسے پاکستان میں بین الاقوامی کرکٹ کے دروازے کھل جا ئیں گے۔ پاکستان اور زمبابوے کے درمیان 3ون ڈے اور ایک ٹی 20میچ قذافی سٹیڈیم لاہور میں کھیلے جائیں گے۔ میری اہلِ لاہور سے گزارش ہے کہ جوق در جوق شریک ہوں اور پاکستان کرکٹ بورڈ اورضلعی انتظامیہ لاہور کے اہم پوائنٹس مینارِ پاکستان اور دیگر جگہوں پر بڑی اسکرینیں نصب کرے، کیونکہ قذافی سٹیڈیم میں 35ہزار افراد بھرنے کی گنجائش ہے۔میری قومی میڈیا سے بھی گزارش ہے کہ پاکستان کے دشمنوں ،حاسدین کے پیٹ میں مروڑ اُٹھ رہے ہیں۔اللہ تعالیٰ ہم سب کو حفظ و امان میں رکھے۔

خدانخوستہ اگر کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش آجائے کسی اور حوالے سے توخبر نشر کرتے وقت اس کو بین الاقوامی کرکٹ میچزاور کھلاڑیوں میں خوف و ہراس پھیلانے کا موجب نہ بنیں،کیونکہ اکثر یہ ہوتا ہے کہ کسی بھی ناخوشگوار واقع پر تبصروں اس کی فوٹیج کو بار بار دکھانے سے منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں، لہٰذا ہمارے میڈیا کے بھائی ملکی قومی مفاد کو مدنظر رکھیں۔پولیس و ضلعی انتظامیہ کھلاڑیوں کے ٹھہر نے کے مقام انہیں آنے لے جانے اور اس طر ح قرب و جوار اور لاہور کے اہم مقامات پر سیکیورٹی کے فول پرف انتظامات کریں عوام الناس سے بھی گزارش ہے کہ وہ بھی حالات اور ارد گرد ہونے والی سرگرمیوں پر نظر رکھیں یہ سب کے لئے جاگنے کا وقت ہے۔آخر میں ارباب اقتدار اور پی ٹی وی انتظامیہ ، وفاقی وزیراطلاعات و نشریات سے قومی مفاد عامہ میں مطالبہ کرتا ہوں کی پی ٹی وی سپورٹس پر یہ میچز براہ راست دکھائے جائیں گے، لیکن ان میچز کی کمنٹری اُردو میں بھی نشر کریں۔

اب ساری کی ساری کمنٹری انگلش زبان میں ہوتی ہے ۔اُردو میں کمنٹری کا اپنا مزہ ہے، لہٰذا حکومت پی ٹی وی کرکٹ ہو یا ہاکی یا دوسرے کھیل ان کی کمنٹری اُردو میں نشر کرے۔ایک وقت تھا جب حسن جلیل اُردو میں کمنٹری کرتے تھے تو ایسا محسوس ہوتا تھا اس کمنٹری کی بدولت ہی پاکستان کے کھلاڑیوں اور عوام میں جوش و جذبہ الگ سے پیدا ہو گیا ہے۔قومی کھیل ہاکی جو زوال پذیر ہو رہا ہے دل خون کے آنسو روتا ہے۔ چار دفعہ ورلڈ چیمپئن ، دو مرتبہ اولمپکس، تین مرتبہ چیمپئن ٹرافی اور لا تعداد بین الاقوامی ٹورنامنٹس کی فاتح ہاکی فیڈریشن اور کھلاڑی مفلوس الحال ہو گئے ہیں۔ کرکٹ کے لئے قومی و ملٹی نیشنلز کمپنیاں سپانسرز کرکٹ کھلاڑیوں کے لئے سینٹرل کنٹریکٹ ،ملازمتیں ،بونس اور ہاکی کھلاڑیوں کے لئے صرف طفل تسلیاں کتنے دکھ کی بات ہے کی بھارتی ہاکی فیڈریشن نے پاکستان ہاکی فیڈریشن کی مالی امداد کرنے کا اعلان کرکے پاکستان کی جگ ہنسائی کی ہے،لیکن ہماری حکومت ابھی تک سوئی ہوئی ہے۔قومی ہاکی ٹیم کے تمام کھلاڑیوں کو سنٹرل کنٹریکٹ انہیں قومی اداروں میں ملازمتیں ان کے لئے سپانسرز حکومت فراہم کرے۔

مزید : کالم