مسئلہ

مسئلہ

پاکستان میں کچھ بھی نیا نہیں ہے۔ الزامات اور سلوک سب کی ایک تاریخ ہے۔ سوال یہ ہے کہ ایک ہی نوع کے الزامات میں ریاست کا رویہ الگ الگ لوگوں سے الگ الگ کیوں ہوتا ہے؟ بنیادی مسئلہ ریاست کے طریقۂ کار کا ہے، جوتباہ کن طور پر جانبدارانہ اور متعصبانہ ہے۔ صرف اتنا ہی نہیں ریاست اپنا طریقۂ کار طے کرنے میں بھی کسی تسلیم شدہ راستے کو اختیار نہیں کرتی۔ انسانی اکٹھ کی ارتقا پذیر تمام شکلوں میں سے آج ہم جس قومی ریاست کے تصور سے بندھے ہیں۔ علم سیاسیات نے اپنی بنیادی تعریفوں میں ہی اس کی متزلزل اخلاقیات کو واضح کررکھا ہے۔ افسوس علم اور تجربے میں سے کوئی ایک بھی چیز ایسی نہیں جسے ہم ریاست کا طریقۂ کار طے کرتے ہوئے اپنے پیشِ نظر رکھنا چاہتے ہوں۔ ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین کے متعلق کوئی چیز بھی ایسی نہیں جس پر ابہام کا پردہ ہو، مگر ریاست کا بنیادی روّیہ الطاف حسین کے بارے میں بار بار بدلتا کیوں رہا؟ پھر الطاف حسین ایسی کوئی چیز بھی نہیں کر رہے جو اس سے پہلے کبھی کسی نے نہ کی ہو، مگر ریاست کا روّیہ الطاف حسین اور ماضی کے اُن کر داروں کے درمیان مختلف کیوں دکھائی دیتا ہے؟ ہمارے حافظوں میں باچا خان سرحدی گاندھی کے روپ میں موجود ہیں۔ اُن کے صاحبزادے ولی خان پر کس کس طرح کے الزامات عائد نہ کئے گئے۔ بلوچستان کا معاملہ بھی ایسے ہی الزامات کی بھٹی میں سلگ رہا ہے۔ ایک وقت تھا کہ متحدہ پنجاب کی بھی باتیں اِسی سرزمین پر ہوتی تھیں۔دور کیوں جائیں، سندھ کی زمین پر جی ایم سید کی روح آج بھی بھٹک رہی ہے۔ اُن کی کتابیں واضح طور پر ایک الگ ریاست کا خواب بیچتی ہیں۔ جنرل ضیاء الحق نے اُن کی براہِ راست عیادت کرتے ہوئے ایک گلدستے سے تعلق کی نئی بِنا رکھی۔ دانشوروں نے اِسے جنرل ضیاء الحق کی مدّبرانہ قیادت کا شاہکار قرار دیا۔

تاریخ کے اس بہاؤ میں یہ پھلجھڑی ، حُب الوطنی کی آئینہ داری میں ایک نکتے کے طور پر چھوڑی گئی کہ اس طرح انتہا پسندوں اور علیحدگی پسندوں کو قومی دھارے میں لایا جا سکے گا۔ اس نکتے کو بیلتے بیلتے دانشور جرنیلی عزائم کے مطابق اپنی دُکانِ دانش بڑھاتے رہے، مگر یہ سب ایک کھلا فراڈ تھا۔ جی ایم سید نے 1984ء میں ایک انٹرویو میں کہا کہ میرے اپنے مقاصد کے لئے جرنیلی سیاست سازگار ہے۔ ہر علیحدگی پسند کے لئے جمہوری عمل موت کا چہرہ ہوتاہے۔ جی ایم سید یہ بہت اچھی طرح جانتے تھے۔ پاکستان میں علیحدگی پسند اگر ناکام ہوئے ہیں تو وہ اس مملکت کی اپنی فطری قوت سے ہوئے ہیں۔ اس میں جرنیلی حکمت ِ عملی کا کوئی چورن موثر نہیں رہا۔ جنرل ضیاء کو جی ایم سید نہیں خود جی ایم سید کو بھی جنرل ضیاء ہی راس آسکتے تھے۔ الطاف حسین کا معاملہ بھی یہی تھا۔ ایم کیو ایم نے تاریخ میں اُسی مقصد کی کوکھ سے جنم لیا تھا، جس سے جی ایم سید کوبھی تقویت ملی تھی۔

جنرل ضیاء الحق صرف پیپلز پارٹی،جماعتِ اسلامی اور جمعیت العلمائے پاکستان کے اثرورسوخ کو محدود کرنا چاہتے تھے۔ اس لئے وہ علاقائی رجحانات کو شعوری طور پر فروغ دینے لگے۔ یہ وہ رجحانات ہیں جو آگے جا کر ’’را‘‘، ’’موساد‘‘ اور سی آئی اے سمیت کسی کی بھی مدد کو طلب کرنے کا راستا ہی نہیں سجھاتے، بلکہ اِسے اپنی محرومیوں سے باجواز بنانے کا ذہن بھی پید اکرتے ہیں۔ افسوس جرنیلی دانش نزدیک کے فائدے میں دور کے نقصانات کا اندازا نہ کر سکی۔ جنرل ضیاء کے اُسی دور میں کراچی میں ایم کیو ایم اور سندھ میں علیحدگی پسندوں کو توانائی دی گئی۔ پھر ایم کیو ایم کو سب سے زیادہ طاقت اور توانائی بھی دوسرے جرنیلی دور میں ملی۔ یہ مشرف کے منظم استبداد کا دور تھا۔ ایم کیو ایم 2002ء کے انتخابات میں عوامی سطح پر مسترد ہونے کے مرحلے میں داخل ہوگئی تھی۔ ایم کیو ایم مخالف ووٹ ایک پلڑے میں رکھنے کا موقع عوام کو مل گیا تھا، مگر تب کیا ہوا؟ پاکستان کے سب سے طاقت ور ادارے نے جنرل پرویز مشرف کے حکم پر ان کے راستے کی رکاوٹیں دور کیں۔ یہاں تک کہ سندھ میں حکومت سازی کے لئے جماعتِ اسلامی کو آمادہ کرنے کوشش کی گئی کہ وہ ایم کیو ایم کے ساتھ اتحادی حکومت کا حصہ بن جائے۔ ایم کیو ایم نے اس دور میں ایک نئی طاقت ہی نہیں نئی زندگی بھی حاصل کی۔ اب ایک نیا مرحلہ ہے۔

ایم کیو ایم کے خلاف ایک آپریشن (جراحت) جاری ہے، جس کی قیادت اعلانیہ اور خفیہ دونوں ہی سطح سے قانون نافذ کرنے والے ادارے کر رہے ہیں۔یہ جراحت دہشت گردی اور قتل وغارت گری کے خاتمے کے لئے جاری ہے، مگر الطاف حسین کو ایک دوسری چکی میں بھی پیساجارہا ہے،جس کا مقصد اُن کی حُب الوطنی کی چھوی کوچھلنی کرنا ہے۔ اگر اس طرح کے الزامات کی تاریخ دیکھی جائے تو بدقسمتی سے یہ قانون نافذ کرنے والے ادارے ہی ہیں، جنہوں نے اس الزام کی حساسیت کو تہس نہس کر دیا ہے۔ بدقسمتی سے اس الزام کو بوقتِ ضرورت اور بقدرِ حساب استعمال کیا جاتا ہے، جس سے یہ الزام عوامی نظروں میں بھی اپنی افادیت کھو بیٹھا ہے۔ کسی کی حب الوطنی پر سوال اُٹھنے کے بعد ریاست کا پہلا فریضہ اس کی قانونی جانچ پڑتال ہونی چاہئے۔ ملزم کی زندگی کی کوئی سویر اس الزام کے جائزے سے پہلے ہونی ہی نہیں چاہئے، مگر ریاست کا رویہ اس معاملے میں افسوس ناک حد تک تاجرانہ اور متعصبانہ ہے۔ کیا اتنے حساس الزام کے لئے راؤ انوار کی سطح کافی تھی؟ کیا اتنے حساس الزام کے بعد ریاست کواس طرح بروئے کار آنا چاہئے جیسا کہ وہ آرہی ہے؟ ایسے الزامات اگر فیصل نہ ہوں تو وہ ریاست کو نقصان اور ملزم کو فائدہ پہنچاتے ہیں۔ الطاف حسین کے ساتھ ہمیشہ سے یہی ہوا اور اب بھی یہی ہو رہا ہے۔ اس کا آخری فائدہ بالآخرالطاف حسین کو ہی پہنچے گا۔

ریاست کے لئے یہ سوال سب سے زیادہ اہم ہے کہ کسی کی حب الوطنی پر سوال اُٹھنے کے بعد وہ خاموش کیسے رہ سکتی ہے؟ پھر وہ بروئے کار آنے کے لئے انتظار کیوں کرتی ہے؟ کیا پاکستان کے اندر کچھ چیزیں ماورائے سیاست نہیں ہو سکتیں؟یہ سارا تناظر دراصل جرنیلی دماغوں پر ایک بنیادی سوال اُٹھا تا ہے کہ وہ ایک جرنیل کے عہد میں کسی کو طاقت کیوں دے رہے ہوتے ہیں اور دوسرے دور میں اس کے احتساب پر کیوں تُل جاتے ہیں؟ کیا جرائم ریاست کی سرپرستی میں جرائم نہیں رہتے؟ یہی وہ وقت ہے جب فوج کے عالی دماغ اپنے کردار کے بنیادی خدوخال پر غور کریں۔ جب تک جرنیلوں کو ریاست میں اپنی طاقت کی حفاظت کے لئے سیاسی جتھوں کی انتخابی قوت کی ضرورت باقی رہے گی۔ ریاست میں جرائم پیشہ عناصر سر اُٹھا تے رہیں گے۔ ایک بے لاگ احتساب کی روایت جڑ نہیں پکڑ سکے گی۔ ایک غیر ریاستی بندوق کہیں نہ کہیں نشانا سادھے رہے گی اور ’’را‘‘ کی مدد لینے کی آرزو مختلف سینوں میں پلتی رہی گی۔ یہ وقت ہے کہ جرنیل کمال اتاترک بننے کی آرزو نہ پالیں اور سیاست دان اپنے سیاسی کوائف کو جرم اور بدعنوانیوں سے پاک کریں۔ ایک حقیقی جمہوریت مسلم لیگ(ن) اور پیپلز پارٹی کی موجودہ بناوٹ سے پاکستان میں پنپ ہی نہیں سکتی، چنانچہ یہ ساری قوتیں اپنے کرتوتوں کے جواز دوسرے کے کرتوتوں سے دیتی ہیں۔ پاکستان کے عوام ان سب سے ماورا وطنِ عزیز کو کچھ مستقل اصولوں اور رہنما ضابطوں میں پھلتا پھولتا دیکھنا چاہتے ہیں، جس میں ایک دور کی مجبوریاں جرائم کی حفاظت اور دوسرے دور کی مجبوریاں جرائم کے احتساب پر نہ اُکساتی ہوں، بلکہ کسی بھی دور کے کسی بھی کام کا ایک مستقل نظام رکھتی ہوں۔اگر یہ نہ کیا گیا تو پھر اِن الزامات سے بھی کچھ نہ ہو گا اور یہ سلوک بھی مفید ثابت نہ ہو گا۔ بس ہم ایک بار پھر دائروں میں گھوم رہے ہوں گے۔

مزید : کالم