کولہو کے بیل

کولہو کے بیل

ایک باخبر دوست نے بتایا کہ ذوالفقار مرزا نے صولت مرزا کی طرح ایک وڈیو پیغام ریکارڈ کرایا ہے، جس میں سنسنی خیز انکشافات کئے ہیں۔یہ وڈیو پیغام اس صورت میں منظر عام پر لایا جائے گا، اگر انہیں گرفتار کر لیا جاتا ہے۔ صولت مرزا تو ایم کیو ایم کے لئے خودکش حملہ آور ثابت ہوئے تھے۔ ذوالفقار مرزا پیپلزپارٹی خصوصاً آصف علی زرداسری کے لئے خطرناک ثابت ہوں گے۔ مرزا صاحب نے بدین کے تھانے میں جو کھڑاک کیا ہے، وہ مرزا جٹ کے کھڑاک سے بھی بڑا کھڑاک ہے۔ ظاہر ہے اس موقع سے آصف علی زرداری بھرپور فائدہ اٹھانا چاہیں گے۔ سنا ہے انہوں نے راؤ انوار کو بدین کا ایس ایس پی تعینات کر دیا ہے، اگر ایسا ہے تو پھر راؤ انوار کے لئے بھی بہت اچھا موقع ہے کہ وہ مرزا صاحب سے ان سب باتوں کا بدلہ لیں جو وہ ان کے جعلی پولیس مقابلوں، زمینوں پر قبضوں اور بھتہ خوری کے حوالے سے کرتے رہے ہیں۔ سندھ کو اس وقت مقتدر قوتوں نے مکمل طور پر فوکس کیا ہوا ہے۔ اگر کوئی سمجھتا ہے کہ وہاں صرف ایم کیو ایم کو ہدف بنایا جا رہا ہے تو یہ اس کی غلط فہمی ہے۔ اس کے برعکس صورت حال یہ ہے کہ سندھ میں تمام ایسے کرداروں کو قانون کی گرفت میں لانے کا فیصلہ کیا گیا ہے، جو قانون شکنی کے مرتکب ہوئے ہیں۔ یہ قانون شکنی کرپشن کی شکل میں بھی ہو سکتی ہے، زمینوں پر قبضے اور بھتہ خوری کی شکل میں بھی۔ دہشت گردی اور ٹارگٹ کلنگ کے خلاف پہلے ہی ایک بڑا آپریشن جاری ہے۔ یوں کہا جا سکتا ہے کہ آپریشن کلین اپ کی تیاریاں ہو رہی ہیں، جبکہ صوبائی وزیر شرجیل میمن کے آبائی حلقے سے ان کے سیکرٹری کو حراست میں لیا گیا ہے، وہ بھی منظر سے غائب دکھائی دے رہے ہیں اور پیپلزپارٹی کی وکالت خواتین کر رہی ہیں۔

امریکہ سے ایک دوست کا فون آیا، وہ پوچھنے لگے کہ پاکستان میں ہروقت ایک ہلچل سی کیوں مچی رہتی ہے۔ معاملات میں ٹھہراؤ کیوں پیدا نہیں ہوتا؟۔۔۔ مَیں نے کہا کہ ملک سے باہر بیٹھ کے ایسا لگتا ہے،وگرنہ ملک کے اندر تو راوی چین ہی چین لکھتا ہے۔ انہوں نے ایک بلند آہنگ قہقہہ لگایا اور کہا لگتا ہے راوی نے بھنگ پی رکھی ہے۔ ملک میں ہر طرف بے چینی ہے اور وہ چین ہی چین لکھ رہا ہے،اندر سے تو مَیں بھی ان کی بات کی تائید کررہا تھا، مگر اوپر سے میرا دل نہیں چاہتا تھا کہ مَیں ملک کے باہر بیٹھے ہوئے پاکستانیوں کو مزید پریشان کروں۔ وہ کہنے لگے، یہ اسمبلیوں میں الطاف حسین کے خلاف جو قراردادیں منظور کرنے کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے، اس کا مقصد کیا ہے اور اس سے ہوگا کیا؟ خوامخواہ کشیدگی کو ہوا دی جا رہی ہے۔ بقول ان کے الطاف حسین اپنی ساکھ کھو چکے ہیں، اس لئے ان کے کسی بیان کو اتنی زیادہ اہمیت دینا سمجھ سے بالاتر ہے، اس طرح تو ان کے حامیوں کو یہ پیغام دیا جا رہا ہے کہ وہ ایک طرف ہیں اور باقی سارا ملک دوسری طرف ہے۔ یہ تاثر دینے کی کیا ضرورت ہے۔ اس سے الطاف حسین کی اپنے حلقہ ء اثر میں حمایت مزید بڑھ رہی ہے۔ مَیں نے کہا آپ شائد ٹھیک کہتے ہوں گے، مگر الطاف حسین نے فوج اور ملک کے خلاف جو بیان دیا تھا، اسے بھی تو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، پاکستانی قوم نے اسے بالکل پسند نہیں کیا، اس لئے یہ سب کچھ ردعمل میں ہو رہا ہے۔ میری اس بات پر وہ تھوڑا سا سیخ پا ہوئے۔ انہوں نے کہا یہ بچگانہ سوچ ہے کہ ردعمل میں تمام حدیں پار کر لی جائیں۔ اسمبلیوں کی قراردادوں سے آپ صوبائیت کو ہوا دے رہے ہیں۔ ایم کیو ایم کی سیاسی حیثیت کو نظر انداز نہیں کیا سکتا۔ یہ ایک حقیقت ہے ، اس لئے خود عوام کو یہ فیصلہ کرنے دیا جائے کہ الطاف حسین نے جو کچھ کہا ہے، وہ قابل گرفت ہے یا نہیں؟

اصل میں جو پاکستانی بیرون ملک رہتے ہیں، ان کے ذہن کشادہ ہو جاتے ہیں۔ وہ واقعات کو ایک کھلے تناظر میں دیکھتے ہیں۔ ان کے نزدیک چھوٹی موٹی باتوں سے درگزر کرنا چاہیے۔ وہ اس جبر کو، اس سیاسی ہلچل کو محسوس ہی نہیں کر پاتے جو ہمارے ہاں ہمہ وقت موجود رہتی ہے۔ اب مَیں انہیں کیسے سمجھاتا کہ کراچی میں جو آپریشن ہو رہا ہے، اس کی پاکستانیوں کے نزدیک بہت اہمیت ہے۔ اس میں رینجرز کلیدی کردار ادا کررہی ہے۔ اس کے کردار کو متنازعہ بنانے کے لئے جو کوشش بھی کی جائے گی، وہ ملک دشمنی تصور ہوگی، کیونکہ کراچی میں امن کے سوا اب کوئی دوسرا آپشن رہ ہی نہیں گیا۔شکر یہ ہوا کہ انہوں نے خود ہی موضوع بدل دیا۔ کہنے لگے خواجہ سعد رفیق کے حلقے میں دوبارہ انتخاب کا حکم دے کر ٹربیونل نے کیا درست فیصلہ کیا ہے؟ مَیں نے کہا ہم کون ہوتے ہیں درست یا غلط کا فیصلہ کرنے والے، یہ تو اب سپریم کورٹ ہی قرار دے سکتی ہے، اگر خواجہ سعد رفیق اس فیصلے کے خلاف اپیل کریں۔ پوچھنے لگے وزیر اطلاعات پرویز رشید نے یہ کیوں کہا کہ فیصلے پر تحفظات ہیں، لیکن ہم نے اسے قبول کرلیا ہے۔ کیا ان کے پاس یہ اختیار بھی تھا کہ وہ فیصلہ قبول نہ کرتے۔ یہ لوگ آخر سیاست سے کب باہر نکلیں گے اور کب حقیقت کا سامنا کرنے کی ہمت پیدا کریں گے؟ مَیں نے کہا پرویز رشید کو تو آپ چھوڑیں، یہ دیکھیں کہ خواجہ سعد رفیق کیا کہہ رہے ہیں۔ ان کا مسلسل زور اس نکتے پر ہے کہ ٹربیونل نے مضحکہ خیز فیصلہ دیا ہے۔ ان کے بقول دھاندلی تو ہوئی ہی نہیں، یہ تو صرف بے ضابطگیاں ہوئی ہیں، جن کی سزا عملے کو ملنی چاہیے، نہ کہ ان ووٹرز کو جنہوں نے مجھے منتخب کیا تھا۔ گویا وہ ایسی بے ضابطگیوں کو سرے سے دھاندلی ہی نہیں سمجھتے۔ جن کے باعث الیکشن کا نتیجہ تبدیل ہو کر رہ گیا۔

میری یہ بات سن کر وہ کہنے لگے کہ پاکستان میں ڈھٹائی کی آخری حدیں نظر آتی ہیں۔ جب عدالت کا فیصلہ آ گیا ہے تو اسے کھلے دل سے قبول کرنا چاہیے۔ الٹی سیدھی تاویلیں دے کر عوام کو بے وقوف بنانے کی کوشش کا کوئی فائدہ نہیں۔وجہ چاہے ایک رہی ہو یا دوسری، یہ بات واضح ہو گئی کہ انتخابات شفاف نہیں تھے۔ شفاف انتخابات اگر نہیں ہوتے تو جمہوریت کیسے مستحکم ہو سکتی ہے؟ امریکہ میں تو کوئی دھاندلی کا سوچ بھی نہیں سکتا۔ اس قدر شفاف اور فول پروف نظام ہے کہ دھاندلی کرنے والا بچ ہی نہیں سکتا، اسے فوراً قانون کے سامنے جوابدہ ہونا پڑتا ہے۔ مَیں نے کہا ہمارا اصل المیہ یہی ہے ۔انتخابات جمہوریت کا بنیادی ستون ہوتے ہیں، ہم گزرے 68برسوں میں اپنے انتخابی نظام کو ہی شفاف نہیں بنا سکے۔ اب جہاں انتخابات ہی جعلی ثابت ہو جائیں، وہاں عوامی نمائندے کیسے عوام کی توقعات پر پورا اتر سکتے ہیں؟ میری یہ بات سن کر فوراً بولے: کیا جوڈیشل کمیشن کے قیام سے پاکستان میں دھاندلی کا راستہ رک جائے گا، کیا آئندہ دھاندلی نہیں ہوگی؟ مَیں ان کی خوشی غارت نہیں کرنا چاہتا تھا۔ نہ ہی میری یہ کوشش تھی کہ انہیں مایوس کروں، اس لئے مَیں نے کہا امید تو بڑی ہے کہ جوڈیشل کمیشن کے فیصلے سے مستقبل میں دھاندلی کے امکانات کم ہو جائیں گے، لوگ دھاندلی سے پہلے سو بار سوچیں گے ۔۔۔مگر سچی بات ہے مَیں اندر سے ڈانوا ڈول تھا۔ مَیں جانتا ہوں کہ دھاندلی کرنے والے اور ہمارا الیکشن کمیشن بہت منظم اور طاقتور ہیں، انہیں راہ راست پر لانا آسان کام نہیں، مثلا یہ غور طلب نکتہ ہے کہ مئی 2013ء کے انتخابات میں ایک نئی طرز کی دھاندلی کی گئی۔ پہلے دھاندلی ووٹ کاسٹ کرواتے ہوئے کی جاتی تھی، اس الیکشن میں پریذائیڈنگ آفیسرز اور ریٹرننگ آفیسرز کی سطح پر کی گئی۔ تھیلوں کی سیلیں کھلیں، ان میں کئی پرچیاں ڈالی گئیں اور جیتنے والے کو ہار اور ہارنے والے کو جیت کے خانے میں ڈال دیا گیا۔ اگلے انتخابات میں حالات کو دیکھ کر کوئی نئی ترکیب ڈھونڈ نکالی جائے گی، پھر شور اٹھے گا، پھر ٹربیونل بنیں گے اور جمہوریت اسی طرح تنازعات کا شکار رہے گی، مگر مَیں نے انہیں کچھ بھی نہیں کہا اور اچھے دنوں کی امید دلا کر فون بند کر دیا۔

مَیں اکثر یہ سوچتا ہوں کہ سیاستدان جب بہت سی باتوں پر اتفاق کر سکتے ہیں تو شفاف انتخابات کے یک نکاتی ایجنڈے پر کیوں متفق نہیں ہوتے؟ اگر سیاستدان یہ تہیہ کر لیں کہ انہوں نے نہ تو انتخابات میں دھاندلی کرنی ہے اور نہ ہونے دینی ہے تو بہتری آ سکتی ہے۔ پاکستان شاید واحد جمہوری ملک ہے، جہاں انتخابات کا سلسلہ مسلسل متنازعہ چلا آ رہا ہے۔ شاید ہی کوئی انتخابات ایسے ہوئے ہوں ، جن پر انگلی نہ اٹھائی گئی ہو۔ دوسری طرف انتخابی اصلاحات پر کبھی اتفاق رائے نہیں ہو سکا، حالانکہ یہ کوئی مشکل تو ہے نہیں، بشرطیکہ نیت صاف ہو۔انتخابی نظام کو شفاف بنانا بھی جمہوریت کو مضبوط کرنے کے مترادف ہے۔ حیرت ہے کہ تمام بڑی سیاسی جماعتوں کے قائدین جمہوریت کا راگ تو ضرور الاپتے ہیں، لیکن انتخابات شفاف بنانے، الیکشن کمیشن کو آزاد و خودمختار کرنے اور دھاندلی کو ایک بڑافوجداری قانون بنوانے کے نکات پر کبھی اتفاق رائے پیدا نہیں کرتے، یہی وجہ ہے کہ ہم کولہو کے بیل کی طرح ایک ہی دائرے میں گھوم رہے ہیں اور اس سے نکلنا بھی نہیں چاہتے۔

مزید : کالم