آپریشن خیبر ٹو کب ختم ہو گا؟ (2)

آپریشن خیبر ٹو کب ختم ہو گا؟ (2)
آپریشن خیبر ٹو کب ختم ہو گا؟ (2)

  

اس آپریشن کے بارے میں ہمیں دو باتیں ذہن نشین رکھنی چاہئے۔ ایک یہ کہ یہ کشت و خون بجھتے ہوئے دیئے کی آخری لَو ہے اس لئے زیادہ شعلہ فشاں ہے اور دوسرے اس میں پاک فوج کا جانی نقصان اِسی شعلہ افشانی میں جھلس جانے کا منطقی نتیجہ ہے۔طالبان نے خواہ وہ درانڈ لائن کے پار رہنے والے ہوں یا پاکستان کی طرف، ان کو معلوم ہو چکا ہے کہ ان کا سب سے کامیاب حربہ وہ ہتھیار ہے جو اصطلاح میں IED کہلاتا ہے۔ یعنیIndigenious Explosive Device یا ’’خانہ ساز بارودی ہتھیار‘‘ ۔۔۔ یہ ہتھیار خانہ ساز اس لئے کہلاتا ہے کہ اس کا بنانا کوئی زیادہ مشکل کام نہیں۔ اس کے اجزائے ترکیبی بڑی آسانی سے ہر جگہ دستیاب ہیں۔ ان کو دساور سے درآمد کرنے کی ضرورت نہیں اور یہ صد در صد جان لیوا ہتھیار ہے۔ امریکہ اور ناٹو فورسز کے جو ہزاروں جانی نقصانات 2001ء سے لے کر 2014ء تک ہوئے اور آج بھی بچی کھچی امریکی فورس کے ہو رہے ہیں ان میں 70فیصد سے زیادہ حصہ اِسی ہتھیار کا ہے۔ گزشتہ 14برسوں میں طالبان نے ان کو بنانے اور لگانے میں مہارتِ تامہ حاصل کی ہوئی ہے۔

بنائے تویہ ہر جگہ جا رہے ہیں، ان کو لگانے کے لئے البتہ پاک آرمی کی کوششوں اور قربانیوں نے جگہ (Space) محدود اور تنگ کر دی ہے۔ اب دو قبائلی علاقوں میں تنگ سی دو پٹیاں ایسی رہ گئی ہیں جو اس بجھتے چراغ کی لَو بن رہی ہیں۔ ان میں سے ایک پٹی وہ ہے جو شمالی وزیرستان کے انتہائی مغرب اور جنوب مغرب کے اس علاقے میں ہے کہ جو افغانستان کے صوبے خوست کی سرحد پر ہے۔(نقشہ دیکھئے) اور دوسری پٹی وہ ہے جو خیبر ایجنسی میں افغانستان کے صوبہ ننگر ہار کی سرحد پر ہے(نقشہ دیکھئے) یہ دو محدود سے مقامات ایسے رہ گئے ہیں جہاں کی زمین دشوار گزار اور سنگلاخ (Rugged) ہے۔ یہاں جگہ جگہ یہ IEDs لگا دی گئی ہیں۔ خیبر ایجنسی میں درانڈ لائن پر ہماری جو سرحد ہے اس میں ایک سے زیادہ ایسی سرنگیں بنی ہوئی ہیں جو ایک طرف خیبر ایجنسی میں واقع ہیں تو دوسری طرف ننگر ہار میں جا نکلتی ہیں۔ ان سرنگوں کو زیر قبضہ رکھنے کے لئے ہی ان کے آگے اور اطراف میں IEDsکی کھیتیاں (Minefields) بچھا دی گئی ہیں۔ پاک آرمی کے افسروں اور جوانوں کی شہادتوں کی غالب وجہ یہی کھیتیاں ہیں۔ جب بھی ہمارے جوان / آفیسرز ان مقامات کی طرف بڑھتے ہیں تو IEDsکی کثرت کی وجہ سے ان میں کوئی ایک پھٹ جاتی ہے۔ وہ گویا ایسے چراغ بن چکے ہیں جن کی آخری لَو بھڑک کر پاک آرمی کو جھلسا رہی ہے۔ ہماری فضائیہ جب یہاں بمباری کرتی ہے تو اس کا اثر بھی اس لئے خاطر خواہ نہیں ہوتا کہ خیبر اور ننگر ہار کے درمیان بنی یہ سرنگیں (Tunnels) بم پروف ہیں۔ ان پر فضائی بمباری کا کچھ اثر نہیں ہوتا۔ جن اموات کی خبریں آئے روز میڈیا کو دی جاتی ہیں، وہ ان طالبان حمایتیوں کی ہیں جو ان سرنگوں (Tunnels) کی رکھوالی کر رہے ہیں۔ یہاں جا بجا لگی ہوئی یہ IEDs آرمی کی پیش قدمی کو روک رہی ہیں۔ پہاڑی علاقوں میں اگر آپ نے کبھی پیدل سفر کیا ہو تو آپ کو معلوم ہو گا کہ وہاں کا ایک میل کا سفر، میدانی علاقوں کے دس میل کے سفر کے برابر ہوتا ہے۔ راستے کے نشیب و فراز اور پیچ و خم، فاصلوں کو بڑھا دیتے ہیں۔ یہی حال اس تنگ سرحدی پٹی کا ہے جو ایک طرف خیبر اور ننگر ہار کے درمیان بنی ہوئی ہے اور دوسری طرف دتہ خیل/شوال اور خوست کے درمیان ہے اور جن میں جگہ جگہ IEDs لگی ہوئی ہیں۔ ہم کو اس حقیقت کا ادراک بھی کرنا چاہئے کہ اگر ناٹو فورسز کے 70فیصد جانی نقصانات انہی IEDs کی وجہ سے ہو چکے ہیں تو پاکستان کے پاس بھی وہ گاڑیاں نہیں جو ان بارودی سرنگوں کی مزاحمت کر سکتی ہیں اورMine Resisting گاڑیاں کہلاتی ہیں۔ پاکستان آرمی کے حصے میں جو ایسی چند گاڑیاں آئی بھی ہیں وہ علاقے کی دشوار گزاری کے باعث یہاں نہیں پہنچائی جا سکتیں۔

اس کا مطلب یہ بھی نہیں لینا چاہئے کہ آرمی کو ان مقامات کا صفایا کرنے کے لئے ایک تعطل کا سامنا ہے۔ ایسا ہر گز نہیں۔ اگر ایسا ہوتا تو آئے روز جو ہماری فوج کی شہادتیں ہو رہی ہیں، وہ نہ ہوتیں۔ تاہم یہ ضرور ہے کہ ان علاقوں میں ایڈوانس کرنے اور ان کو زیر قبضہ لانے کی رفتار انتہائی سست ہے۔

اگر آپ عالمی تاریخ جنگ سے کچھ آگاہ ہیں تو آپ کو معلوم ہو گا کہ پہلی عالمی جنگ کو ’’خندقی جنگ و جدل‘‘ کا نام بھی دیا جاتا تھا۔ وجہ یہ تھی کہ فریقینِ جنگ نو مین لینڈ کے نزدیک آ کر خندقیں (Trenches) کھود لیتے تھے اور ان میں مورچہ زن ہو کر بیٹھ جاتے تھے۔ دونوں اطراف سے مشین گنوں کی تڑ تڑ ہوتی رہتی تھی، لیکن کوئی فریق نو مین لینڈ کراس کر کے دوسرے فریق پر حملہ آور نہیں ہو سکتا تھا۔ اس زمانے میں (1914-18ء) ابھی ٹینک یونٹیں ایجاد/ تشکیل نہیں ہوئی تھیں۔ طیارے بھی برائے نام تھے۔ صرف توپخانہ تھا جو اگلے مورچوں پر بمباری کرتا رہتا تھا، لیکن ان مورچوں کو کنکریٹ کی سلوں سے چَھت دیا جاتا تھا اور اس طرح بالائے سر (Over head) گولہ باری بے اثر ہو جاتی تھی۔ 1914ء سے لے کر 1917ء تک متعدد لڑائیوں میں صرف چند میل ٹکڑے کی پیش قدمی کے لئے لاکھوں سپاہیوں کی جانیں چلی جاتی تھیں۔

میجر جنرل جے ایف سی فلر (JFC Fuller) اپنی کتابConduct of War میں ’’سومے کی لڑائی‘‘ کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھتا ہے: ’’یکم جولائی 1916ء کو وردون (ایک شہر کا نام) پر دباؤ کم کرنے کے لئے موسم گرما کی اس یلغار کا آغاز ہوا جو فرانس اور برطانیہ نے جرمنی کے خلاف مل لانچ کی۔ تاریخ میں اس لڑائی کو سومے(Somme) کی لڑائی کہا جاتا ہے۔ یہ حملہ25میل کے محاذ پر کیا گیا۔ حملے سے پہلے آٹھ روز تک مسلسل گولہ باری کی گئی اور جرمنی کے دفاعی مورچوں پر 18لاکھ گولے برسائے گئے۔ اس گولہ باری کی چھاؤں میں انفنٹری، ایک ہدف سے دوسرے ہدف تک ایڈوانس کرتی رہی۔ 14نومبر1916ء تک اس لڑائی نے طول کھینچا۔ان ساڑھے چار مہینوں میں برطانیہ کے 419654 اور فرانس کے 194451 ٹروپس مارے گئے۔ جرمنی کے نقصانات کا اندازہ5لاکھ ٹروپس تھا۔ یعنی فریقین کے کل ملا کر11لاکھ سے زیادہ افسروں اور جوانوں کی جانوں کے بدلے جو علاقہ حاصل ہوا وہ صرف30 میل لمبا اور 7میل چوڑا (گہرا) تھا!‘‘

اگرچہ پہلی عالمی جنگ میں نہ ٹینک تھا نہ طیارے اور آج پاک آرمی کے پاس توپخانہ، آرمر،ائر فورس اور انفنٹری سب کچھ ہے لیکن اس کے باوجود ٹیرین کی سنگلاخی اور ایک سادہ سے(IED) نے مل کر افواج پاکستان کو جس مشکل سے دوچار کر رکھا ہے وہ کوئی ایسی انہونی بات نہیں۔ اگر آج نہیں تو انشا اللہ کل بچے کھچے عسکریت پسندوں کو ختم کر دیا جائے گا۔

قارئین کی توجہ ایک اور پہلو کی جانب دلانے کی بھی ضرورت ہے۔۔۔۔ جدید مواصلاتی سہولتوں نے گوریلا جنگ و جدل کو انقلاب انگیز (Revolutionize) کر کے رکھ دیا ہے۔ دہشت گردوں نے اس ٹیکنالوجی سے سب سے زیادہ فائدہ اٹھایا ہے۔ سابق صدر پرویز مشرف اور صوبہ سرحد میں ایم ایم اے(متحدہ مجلس عمل) کے دورِ حکومت نے آج کے خیبرپختونخوا اور اُس وقت کے NWFP میں دہشت گردوں کو محفوظ ٹھکانے بنانے اور پھر سارے مُلک میں دہشت گردی کا ایک مربوط نیٹ ورک تشکیل دینے کی جو مہلت دی تھی، اس کا بڑی حد تک خاتمہ کر دیا گیا ہے، وہ نیٹ ورک اب منہدم (Smash) کیا جا چکا ہے اور یہ کامیابی افواجِ پاکستان کی ایک بڑی کامیابی ہے۔خدا وندِ کریم نے پاکستان کی تاریخ کے ایک انتہائی اہم اور نازک (Defining) موڑ پر جنرل راحیل شریف کو پاک فوج کا چیف بنا دیا۔ مَیں ان کی عسکری اور سیاسی بصیرت کی داد دیئے بغیر نہیں رہ سکتا کہ انہوں نے اپنے تمام پیش روؤں کے برعکس عسکری اور سیاسی قیادت کو ایک ہی صفحے پر یکجا کرنے میں ایک کلیدی کردار ادا کیا۔ وگرنہ دہشت گردوں کی کمر اس طرح نہ ٹوٹتی جو آج توڑ دی گئی ہے۔

آپ نے شائد یہ بھی محسوس کیا ہو گا کہ جو دہشت گرد فوج نے پکڑے ہیں اور ان سے جو معلومات حاصل کی ہیں ان کی چھان بین کر کے مُلک کے چاروں صوبوں میں پھیلے ہوئے دہشت گردوں کو ڈھونڈ نکالا جا رہا ہے، ان کا نیٹ ورک توڑ دیا گیا ہے اور ان کو ٹھکانے لگانے میں کسی تذبذب یا تاخیر کا مظاہرہ نہیں کیا گیا۔ یہ عمل ابھی جاری ہے۔ اس کا ایک حصہ (Segment) تو وہ ہے جو ہمیں نظر آ رہا ہے۔ اس حصے کی جن جڑوں کو کاٹنے کا بندوبست کیا جا رہا ہے وہ پاکستان کے شجر سایہ دار کو امر بیل کی طرح کھا کھا کر بے برگ دبار کر رہی تھیں۔ اور ایک حصہ وہ ہے جو نگاہوں سے اوجھل ہے۔ یہ حصہ اول الذکر حصے سے بھی زیادہ زہر ناک تھا جس کی ’’خبر گیری‘‘ کی جا رہی ہے۔۔۔۔ ادلے کے بدلے کے نقیب یہ دونوں Segments جان بوجھ کر میڈیا پر نہیں دکھائے جا رہے۔ اگر ایسا کیا جاتا تو سارا کھیل بگڑ جاتا اور ہم وہیں رہتے جہاں آرمی پبلک سکول والے سانحے سے پہلے تھے۔

مزید برآں آپ نے یہ بھی محسوس کیا ہو گا کہ وطنِ عزیز کے سیاسی اُفق پر ایک عرصے سے جو سیاہِ بادل چھائے ہوئے تھے، وہ اب آہستہ آہستہ چھٹ رہے ہیں۔ ہر روز ایک پرانا ستارہ ٹوٹتا ہے اور نیا آفتاب ابھرتا ہے۔ اندھیرا اتنا زیادہ ہو گیا تھا کہ روشنی اور دھوپ دیکھنے کو آنکھیں ترس گئی تھیں۔ الحمد للہ مستقبل کے موسموں کا حال بتانے والے اب بتاتے ہیں کہ:

خزاں چمن سے ہے جاتی بہار راہ میں ہے

(ختم شد)

مزید : کالم