مقبوضہ کشمیر میں نوجوانوں کی جمہوری جدوجہد!

مقبوضہ کشمیر میں نوجوانوں کی جمہوری جدوجہد!

مقبوضہ کشمیر میں کشمیریوں کی طرف سے بھارتیہ جنتا پارٹی کی مسلمان دشمن پالیسیوں کے خلاف مسلسل احتجاج ہو رہا ہے، ہزاروں کشمیری بھارتی فوج اور پولیس کا تشدد برداشت کر رہے ہیں۔ ابھی گزشتہ روز کشمیر لبریشن فرنٹ کی طرف سے احتجاج ہوا تو مظاہرین کی تعداد ہزاروں میں تھی، اس میں بھی ’’پاکستان زندہ باد‘‘ کے نعرے لگے اور مظاہرین نے پاکستانی پرچم بھی لہرائے۔کشمیریوں میں اپنے حقوق کے لئے جدوجہد کا یہ شعور ایک دو روز کا نہیں، نسلوں کی محنت اور کاوش کا نتیجہ ہے جو کشمیری بزرگوں نے کی۔ ابتدا میں کشمیری دب کر مار کھاتے رہے، پھر جو شیلے جوانوں نے بندوق بھی اٹھائی، لیکن ایک وقت آیا جب کشمیری رہنماؤں نے پُرامن جمہوری جدوجہد کا راستہ اپنا لیا اور بھارتی تشدد کے مقابلے میں زخم سہنے لگے۔ اس میں ان کے ساتھ ان نوجوانوں اور کشمیری خاندانوں نے بہت تعاون کیا جو بیرون مُلک جا کر بس گئے تھے۔اب مقبوضہ کشمیر میں جماعتی اختلاف کے باوجود یہ طے ہے کہ پُرامن اور جمہوری جدوجہد ہو گی، اس سے وہ تمام جماعتیں اتفاق کرتی ہیں جو پاکستان کے استحکام یا خود مختاری کی قائل ہیں، ان اختلافات سے ان کی جدوجہد متاثر نہیں ہو رہی، بلکہ زور پکڑ رہی ہے اور اب اثرات یہ ہیں کہ ایک کال پر پورا کشمیر بند ہو جاتا ہے۔ آج کی نوجوان نسل جدید تعلیم کی حامل ہے اور اسے اپنی بات کہنے کا ڈھنگ ہی نہیں آتا، بلکہ دوسروں تک پہنچانے کے لئے جدید ٹیکنالوجی کی تربیت بھی ہے۔ یوں یہ جدوجہد موثر ثابت ہونے لگی ہے۔ بھارتی قبضہ گروپ اِسی سے گھبرا کر پنڈتوں کی واپسی کے نام پر ایک ہندو بستی بسانے جیسے غیر مناسب منصوبے پر عمل کرنا چاہ رہا ہے اور آج کی یہ جدوجہد زیادہ موثر ہے اور دُنیا میں آواز سُنی جانے لگی ہے۔اس تمام تر صورت حال کے باوجود دُنیا کے بااثر ممالک کی اپنی اپنی مصلحتیں ہیں اور وہ انہی کے تحت کشمیریوں پر تشدد سے اغماض برت رہے ہیں، حالانکہ یہ انسانی حقوق کا بھی مسئلہ ہے۔ ضروری ہے کہ کشمیری بیرونی ممالک میں بھی اپنی تحریک کو تیز کریں کہ وہاں پاکستانی بھی ان کے ساتھ تعاون کر سکیں گے۔ کشمیر کے حالات اس امر کی غمازی کرتے ہیں کہ ’’فتح کشمیریوں کا مقدر ہے‘‘۔

مزید : اداریہ