وارثتی انتقال کی تصدیق کا فارمولا سائلوں کیلئے عذاب بن گیا ‘ رشوت میں دوگنا اضافہ

وارثتی انتقال کی تصدیق کا فارمولا سائلوں کیلئے عذاب بن گیا ‘ رشوت میں دوگنا ...

 لاہور(عامر بٹ سے)بورڈ آف ریونیو پنجاب کے شعبہ (پی ایم یو)کی جانب سے وراثتی انتقال کے اندراج کیلئے تخلیق کردہ فارمولا پنجاب کی عوام کیلئے عذاب بن گیا ،قیمتی ٹائم کے ضائع ہونے کے ساتھ ساتھ کرپشن اور رشوت وصولی میں دوگنا اضافہ ہو گیا ،ہزاروں کی تعداد میں خواتین نوجوان اور بزرگ شہری وراثت انتقال کے حصول کیلئے کمپیوٹرائزڈ سروس سنٹر اور بعد میں فیلڈ میں قائم کردہ پٹوارخانوں کے چکر کاٹنے پر مجبور ہو گئے ،در در کی ٹھوکریں کھانے اور ذلالت سے بچانے کیلئے شہریوں کی کثیر تعداد منہ مانگی رشوت دے کر پٹواریوں کے منشیوں اور سروس سنٹر پر تعینات کار خاص سٹاف کی خدمات حاصل کرنے لگے ۔شہریوں کا شدید احتجاج،سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو پنجاب اور پی ڈی پنجاب عرفان الہی سے فوری نوٹس لینے کی اپیل کی گئی ہے ،روزنامہ پاکستان کو ملنے والی معلومات کے مطابق لینڈ ریونیو ایکٹ 1967کی شق نمبر 42Aاور 37Cرولز کے مطابق پنجاب بھر میں زمینوں کے مالکان اراضی کی وراثت انتقال کرنے کا طریقہ کار نافذ کیاگیا تھا جس کے تحت پنجاب بھر میں وراثت کے انتقالات کی منظور ی کی جارہی تھی تاہم بورڈ آف ریونیو کے شعبہ پی ایم یو کی جانب سے گزشتہ چند سالوں کے دوران قانون میں ترمیم کرنے کی بجائے طریقہ کار میں واضح تبدیلی کر دی گئی جس کے باعث پنجاب کی عوام خواری،ذلالت ،دھکے اور در بدر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہوچکے ہیں،قبل ازیں پٹواری حلقہ انتقال وراثت اندراج کرتا ،قانگوپڑتال ڈالتااور ریونیو آفیسر تصدیق کرکے شہریوں کو انتقال کی کاپی مہیا کر رہے تھے تاہم تبدیلی کے مطابق اب وراثت انتقال کا طریقہ کار ہے کہ پہلے سروس سنٹر پر وراثت انتقال اندراج کی درخواست جمع کروائی جائے پھر بنک میں فیس جمع کروانے کے بعد رسید مہیا کرنے کی صورت میں انتقال کا اندراج کیا جائے گا پھر آپ کو پٹوار سرکل میں دوبارہ پٹواریوں کے حوالے کیا جاتا ہے جہاں پر شجرہ نسب مرتب کیا جاتا ہے جس کے عوض بھی منہ مانگی رشو ت وصولی کی جارہی ہے اور شجرہ نسب کی تیاری کے بعد کمپوٹرائزڈ سروس سنٹر پر بلوایا جاتا ہے جہاں پر اسسٹنٹ ڈائریکٹر لینڈ ریکارڈ دوبارہ شہریوں کے بیان ریکارڈکرواتا ہے گواہوں کی تصدیق کی جاتی ہے ،اخباری اشتہار دے کر اشتہار کی مقرر کردہ تاریخ تک انتقال پینڈنگ کر دیا جاتا ہے اور پھر مقررہ تاریخ ختم ہونے کے بعد انتقال وراثت کی تصدیق کی جاتی ہے دوران سروے شہری محمد ارسلان ڈوگر ،خرم علی ،وقاص احمد،عمر علی ڈوگر،شفیق جٹ ،تنویر گجر نے بتایا کہ اب وراثت کے حصول کے لئے 2-2ماہ تک انتظار کرنا پڑرہا ہے طریقہ کار انتہائی مشکل کر دیا گیا ہے پٹواری کو الگ سے رشوت دیناپڑتی ہے اور کمپیوٹر سروس سنٹر میں الگ سے نذرانہ پیش کرنا پڑتا ہے، محمد عاقل،محمد عمر،جاوید محمود،خرم شہزاد وغیرہ نے بتایا کہ معمولی سے معمولی سے اعتراض جان بوجھ کر لگائے جاتے ہیں تاکہ فیملیز خوار ہوں جبکہ رشوت وصولی کے بغیر کوئی وراثت انتقال درج نہیں کیا جاتا،خواری ،دھکے اور اضافی اخراجات برداشت کرنے سے کمر ٹوٹ چکی ہے انہوں نے مزید کہا کہ پی ایم یو کی وراثت انتقال کے دوران پی ڈی پنجاب عرفان الہی اور سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو پنجاب ایک خفیہ سروے اور کمیٹی تشکیل دے کر سروے کروا لیں کہ پنجاب بھر کی عوام کو آن لائن موضع جات میں وراثت کے انتقال اندراج کروانے میں کتنی اذیت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے تو وہ فوری طور پر اس طریقہ کا ر کو تبدیل کروا دیں ،ریونیو ذرائع نے مزید بتایا کہ بورڈ آف ریونیو پنجاب اور پی ایم یو کے ایئر کنڈیشنر دفاتروں میں فائز مانیٹرنگ کرنے والے سٹاف اور افسران کو تو یہ بھی معلوم نہیں کہ وراثت انتقال کی تصدیق کے دوران کتنے کتنے ماہ شہریوں کو خواری اور چکر کاٹنے پڑرہے ہیں جس کے باعث پنجاب کی عوام میں لینڈ ریکارڈ انفارمیشن سسٹم ادارے کے تحت چلنے والے اس کمپیوٹرائزڈ سسٹم کے خلاف ناصرف نفرت ،غصے ،اکتاہت کی لہر دوڑ چکی ہے بلکہ عوام کی کثیر تعداد اس طریقہ کار سے بددل ہوتی چلی جارہی ہے۔

مزید : میٹروپولیٹن 1