چین کی پاکستان میں تاریخی سرمایہ کاری نے بھارت کو بے چین کر دیا

چین کی پاکستان میں تاریخی سرمایہ کاری نے بھارت کو بے چین کر دیا

 نئی دہلی(اے این این) چین کی پاکستان میں تاریخی سرمایہ کاری نے بھارت کو بے چین کردیا،مودی حکومت گوادر پورٹ کے مقابلے میں چاہ بہار پورٹ کی اپ گریڈیشن کیلئے ( آج) بدھ کو ایران کے ساتھ مفاہمت کی یاداشت پر دستخط کرے گی، بھارتی وزیر جہاز رانی تہران پہنچنے کیلئے بے تاب، بھارت گوادر کے مقابلے میں چاہ بہار کوسٹرٹیجک پورٹ بنانے کیلئے میدان کارزار میں آگیا، بھارتی حکومت نے ایران کو آزاد تجارتی معاہدے کی بھی تجویز دے دی،30 جون کے ممکنہ عالمی ایٹمی معاہدے کے بعد چاہ بہار پورٹ پر دن رات کام شروع کرنے کا فیصلہ، بھارت نے افغانستان کی چاہ بہار پورٹ تک براہ راست رسائی کیلئے 10کروڑ ڈالر کی سڑک بھی تعمیر کردی۔ برطانوی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق بھارت کے وزیر جہاز رانی نتن گد کری آج بدھ کو ایک روزہ دورے پر ایران جائیں گے اور بھارت کی طرف سے چاہ بہار بندر گاہ کی تعمیر و ترقی اور اپ گریڈیشن کیلئے مفاہمت کی یاداشت پر دستخط کرینگے۔ چین کے صدر شی چن پنگ کے حالیہ دورہ پاکستان اور 46 ارب ڈالر کے معاہدوں پر دستخطوں کے بعد بھارت کی طرف سے گوادر پورٹ کا مقابلہ کرنے کیلئے یہ پہلا عملی قدم ہے۔ معلوم ہوا ہے کہ وزیر جہاز رانی کے تہران جانے سے پہلے بھارت کا ایک تکنیکی وفد ایران بھیجا گیا تھا جس نے چاہ بہار پورٹ کی اپ گریڈیشن سمیت تجارت اور توانائی کے دیگر منصوبوں پر ایرانی حکام سے تفصیلی بات چیت کی ہے جس کے نتیجے میں آج بدھ کو باقاعدہ دوطرفہ مفاہمتی یاداشت پر دستخط کیے جائیں گے۔ بھارتی وزارت جہاز رانی و بندرگاہ کے ذرائع نے بتایا ہے کہ بھارتی کابینہ نے گزشتہ سال ہی چاہ بہار پورٹ کو بہتر بنانے کیلئے ایک منصوبے کی منظوری دے دی تھی اور ہم اب اس موقع کو ضائع نہیں کرنا چاہتے اور انتہائی تیزی سے کم سے کم وقت میں چاہ بہار پورٹ کو اپ گریڈ کریں گے۔ بھارت ایران کے ساتھ علاوہ ازیں آزاد تجارتی معاہدے پر بھی دستخط کرنا چاہتا ہے۔ گزشتہ دوسال میں ایران کو بھارتی برآمدات میں دگنا اضافہ ہوا ہے جو بڑھ کر چار ارب ڈالر ہوگئیں ہیں۔ ایران پر عالمی پابندیوں کے باعث بھارت ایران سے تجارت میں کچھ گریزاں تھا لیکن 2012 ء میں اس نے باضابطہ طورپر باہمی تجارت میں اضافہ شروع کیا ۔ اب بھارت کو قوی ا مید ہے کہ چھ عالمی طاقتوں اور ایران کے درمیان ہونے والے 30 جون کے معاہدے کے بعد ایران پر عالمی پابندیاں ختم ہو جائیں گی اور وہ اس سے آزادانہ تجارت کرسکے گا۔ بھارتی برآمد کنندگان چاہ بہار پورٹ کے ذریعے ایران ، افغانستان اور وسط ایشیائی ریاستوں تک اپنا تجارتی سامان بجھوانے کیلئے تیار ہیں۔ فیڈریشن آف انڈیا ایکسپورٹ آرگنائزیشن کے سربراہ خالد خان کا کہنا ہے کہ ہم کب سے بھارت ایران فری ٹریڈ زون کا انتظار کررہے ہیں اور یہ مودی حکومت کی طرف سے بھارتی تاجروں کیلئے بہت بڑا تحفہ ہوگا جس سے ایرانی تاجر بھی فائدہ اٹھا سکیں گے۔ ماضی میں امریکہ بھارت پر ایران سے تجارت نہ کرنے کا دباؤ ڈالتا رہا ہے تاہم ایٹمی پروگرام پر حالیہ عالمی مذاکرات کی کامیابی کے بعد یہ دباؤ کم ہوگیا ہے اور بھارت ایران سے نئے تجارتی معاہدے کرنے کیلئے پرعزم ہے

مزید : علاقائی