عازم حج کو اپنا مسلک یافرقہ متعین کرنے کے لئے نہیں کہا ،سعودی وزارت حج

عازم حج کو اپنا مسلک یافرقہ متعین کرنے کے لئے نہیں کہا ،سعودی وزارت حج

جدہ (نمائندہ خصوصی) سعودی وزارت حج نے واضح کیا ہے کہ حجاج کے ساتھ فرقہ و مسلک کی بنیاد پر معاملہ نہیں کیا جا تا مناسک حج کی ادائیگی کے لئے ارض مقدس آنے سے قبل کسی بھی عازم حج کو اپنا مسلک یا اپنا فرقہ متعین کرنے کے لئے نہیں کہا جاتا، فرقہ اور مسلک کی بنیاد پرحجاج کے ساتھ نہ کبھی تفرقہ کیا گیا اور نہ آئندہ کبھی کیا جائیگا نہ ان سے اس حوالے سے کبھی پوچھا جائیگا وزارت حج نے سماجی ویب سائٹس پر اس حوالے سے گردش کرنے والی ان من گھڑت دعوؤں کی تردید کی ہے جن میں کہا جا رہا ہے کہ سعودی عرب نے باقاعدہ ایک فارم تیار کیا ہے جس میں عازم حج سے دریافت کیا جاتا ہے کہ آپ کا تعلق کس فرقے یا مسلک سے ہے۔ وزارت حج نے کہا کہ اس قسم کے من گھڑت دعوے سعودی عرب کی تصویر مسخ کرنے کے لئے کئے جا رہے ہیں۔ سماجی ویب سائٹس پر نظر رکھنے والے سعودی یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ عازمین حج کے لئے کوئی نیا فارم جاری کیا گیا ہے اور اس میں فرقہ مسلک کے خانے بڑھائے گئے ہیں ۔ حالانکہ یہ موسم حج کا نہیں ہے اس کے باوجود اس طرح کی باتیں محض تفرقہ و انتشار پھیلانے کی غرض سے کی جا رہی ہیں بعض ویب سائٹس پر یہ دعویٰ بھی کر دیا گیا ہے کہ مذکورہ پابندی جو نہ صرف یہ کہ خارجی حجاج پر لگائی جا رہی ہے ، داخلی عازمین کو بھی اسی قسم کے فارم پر کرنا ہونگے، ایک دعویٰ یہ بھی کیا جا رہا ہے کہ مشاعرہ مقدسہ میں حجاج کو ان کے فرقہ، مسلک کی بنیاد پر علیحدہ علیحدہ ٹھہرایا جائیگا، دلیل یہ بتلائی جا رہی ہے کہ یہ سب کچھ عرب دنیا میں علاقائی جھگڑوں اور کشمکشوں کے پیش نظر کیا جا رہا ہے۔ یہاں ملنے والی اطلاع کے مطابق پاکستان کے حج اداروں نے انتظامی اسباب کے تحت کوئی فارم تقسیم کیا ہے جس میں فرقہ کا خانہ رکھا گیا ہے جبکہ یہ خانہ برسہا برس سے ہے اور سعودی عرب کا اس سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ سعودی وزارت حج نے اس طرح کا فارم نہ کبھی جاری کیا اور نہ آئندہ کبھی جاری کریگا۔

مزید : علاقائی