توہین آمیز خاکوں کی نمائش پر فائرنگ پاکستانی شہری اور اسکے دوست نے کی ‘ امریکی پولیس

توہین آمیز خاکوں کی نمائش پر فائرنگ پاکستانی شہری اور اسکے دوست نے کی ‘ ...

 واشنگٹن(اے این این) امریکی پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ توہین آمیز خاکوں کی نمائش کے باہر فائرنگ پاکستانی شخص اور اس کے دوست نے کی ہے جبکہ دولت اسلامیہ(داعش) نے فائرنگ کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔امریکی میڈیا کے مطابق امریکی ریاست ٹیکساس کی پولیس نے دعوی کیا ہے گزشتہ روز توہین آمیز خاکوں کی نمائش کے باہر فائرنگ کرنے والا ایک شخص پاکستانی تھا۔ ٹیکساس کے شہر گارلینڈ کے کرٹس کلویل سینٹر میں توہین آمیز خاکوں کی نمائش کے باہر فائرنگ کرنے والوں کی شناخت نادر صوفی اور ایلٹن سمپسن کے نام سے ظاہر کی گئی ہے، نادر صوفی پاکستانی نژاد شہری ہے جو ایلٹن سمپسن کے ہمراہ ریاست ایری زونا میں رہتا تھا۔حکام کی جانب سے جاری کئے گئے عدالتی دستاویزات سے معلوم ہوا ہے کہ ایلٹن سمپسن سے 2006 میں بھی تفتیش ہوئی تھی اور 2010 میں ان پر صومالیہ جانے کے منصوبے پر غلط بیانی کرنے کا جرم ثابت ہوا تھا۔ جس پر انہیں 600 ڈالر جرمانہ بھی ہوا تھا۔دوسری جانب داعش نے اپنے ریڈیو البیان میں واقعے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا کہ داعش کے 2 سپاہیوں نے اس نمائش پر حملہ کیا کیونکہ وہاں اسلام کی منفی شبیہہ پیش کر رہے تھے۔البیان ریڈیو اسٹیشن پر ایک آڈیو نے پیغام میں داعش کی طرف سے دعوی کیا گیا کہ اس کے دو جنگجوں نے اتوار کو نمائش پر حملہ کیا۔لیکن بیان میں اس بارے میں مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔ شام اور عراق میں سرگرم شدت پسند تنظیم داعش نے اس سے قبل مغرب میں تو دہشت گرد حملوں کی ذمہ داری قبول کی لیکن یہ پہلا موقع ہے کہ اس تنظیم نے امریکہ میں کسی حملہ کی ذمہ داری قبول کی۔ادھر حکام ٹیکساس میں ایک تقریب کے باہر سکیورٹی گاڑد پر گولی چلانے پر ہلاک کیے گئے دو مشتبہ افراد کے بارے میں تحقیقات کر رہے ہیں۔فائرنگ کا نشانہ بننے والے سکیورٹی گارڈ کی حالت خطرے سے باہر بتائی جاتی ہے۔مبینہ حملہ آوروں کو پولیس نے فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا تھا۔گارلینڈ پولیس کے ترجمان جوئی ہارن کا کہنا ہے کہ گو کہ حملے کے محرکات تاحال غیر واضح ہیں لیکن "یقیناًیہ لوگوں پر فائرنگ کرنے کے لیے وہاں آئے تھے۔"پولیس کو حملہ آوروں کو اسلحہ اور دیگر سامان ملا ہے لیکن اس میں سے کوئی بم برآمد نہیں ہوا جس کے بارے میں اولا شبہ ظاہر کیا جا رہا تھا۔صدر براک اوباما کو اس واقعے کے بارے میں آگاہ کر دیا گیا ہے اور وائٹ ہاوس کے ترجمان جوش ارنسٹ کا کہنا تھا کہ " ہم نے دیکھا کہ انتہا پسند اپنے تشدد کی توجیہہ کے لیے جارحیت کو استعمال کر رہے ہیں، نہ صرف اس ملک میں بلکہ پوری دنیا میں۔ صدر کے ذہن میں ایسی کوئی جواز موجود نہیں جو تشدد کا جواز پیدا کرے۔واضح رہے کہ گزشتہ روز گستاخانہ خاکوں کی نمائش کے باہر فائرنگ کے نتیجے میں ایک پولیس اہلکار زخمی جب کہ جوابی کارروائی میں 2 حملہ آور ہلاک ہوگئے تھے۔

مزید : علاقائی