بھارت نے داؤد ابراہیم کی پاکستان میں موجودگی کی خود ہی تردید کر دی

بھارت نے داؤد ابراہیم کی پاکستان میں موجودگی کی خود ہی تردید کر دی

 نئی دہلی(اے این این) بھارت نے داؤد ابراہیم کی پاکستان میں موجودگی کی خود ہی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ گرفتاری تب ہو گی جب ان کے ٹھکانے کا علم ہو،ہمارے خفیہ ادارے داؤد ابراہیم کا سراغ لگانے میں ناکام رہے ہیں۔بھارتی میڈیا کے مطابق بھارتی وزارت داخلہ نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ انہیں انڈرورلڈ ڈان داؤد ابراہیم ٹھکانے بارے میں کسی قسم کی معلومات دستیاب نہیں۔ یہ اعتراف وزارت داخلہ نے منگل کو پارلیمنٹ میں جمع کرائے جانے والے تحریری جواب میں دیا۔ بھارتی وزیر مملکت برائے امور داخلہ ہری بھائی چوہدری نے بھی اس بات کا اعتراف کیا کہ انٹیلی جنس ایجنسیز داؤد ابراہیم کا سراغ لگانے میں ناکام رہیں۔ انہوں نے کہاکہ داؤد ابراہیم کی گرفتاری اس وقت ممکن ہے جب ایجنسیز کو ان کے ٹھکانے کا علم ہو یا پھر انڈر ڈان کے بارے میں کوئی معلومات ہوں۔ ہری بھائی چوہدری نے کہاکہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے بھی داؤد ابراہیم کے نوٹس جاری کررکھے ہیں لیکن ہمیں ان کی رہائش سے متعلق کوئی معلومات نہیں ہے۔1993 ء کے بم دھماکوں کے حوالے سے بھارتی عدالت نے بھی داؤد ابراہیم کے ریڈ وارنٹ جاری کررکھے ہیں۔ ان کا یہ بیان وفاقی وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ کی جانب سے 2014ء میں پاکستان پر لگائے گئے الزامات کی تردید ہے۔ واضح رہے کہ راج ناتھ سنگھ نے الزام تراشی کرتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان نے داؤد ابراہیم کو پناہ دے رکھی ہے اور بھارتی وزیراعظم نریندر مودی اپنے پاکستانی ہم منصب سے ان کے دورہ بھارت کے موقع پر داؤد ابراہیم کی حوالگی کا مطالبہ کریں گے۔ اس کے علاوہ بھارتی وزیراعظم انتخابات میں کامیابی کیلئے داؤد ابراہیم کووطن واپس لاکر انصاف کے کٹہرے میں کھڑا کرنے کا نعرہ لگاتے رہے ہیں۔ واضح رہے کہ پاکستان نے ہمیشہ داؤد ابراہیم سے متعلق بھارتی حکومت کے الزامات مسترد کیے ہیں۔ داؤد ابراہیم پر بھارت کے شہر ممبئی میں بابری مسجد کو شہید کرنے کے جواب میں بم دھماکوں کا الزام ہے ، ان دھماکوں میں 250 افراد ہلاک ہوئے تھے جبکہ بھارتی عدالت انڈر ورلڈ ڈان کی غیر موجودگی میں انہیں اس مقدمے میں سزائے موت سناچکی ہے۔ اس سے پہلے بھارتی حکومت پاکستان سے مسلسل مطالبہ کرتی رہی ہے کہ داؤد ابراہیم کو بھارت کے حوالے کیا جائے ، بھارت نے وزارت خارجہ کے ذریعے کئی ڈوزیئر بھی پاکستانی حکومت کے سپرد کیے جن میں داؤد ابراہیم کی حوالگی کا مطالبہ کیا جاتا رہا لیکن پاکستان نے ہمیشہ بھارت سے ٹھوس معلومات کا مطالبہ کیا ہے جو بھارتی حکومت فراہم کرنے میں ناکام رہی ہے۔ بھارتی وزیر مملکت کے تازہ بیان پر بھارت کے میڈیا نے اپنی حکومت کو آڑے ہاتھوں لیا ہے اور سوال اٹھایا گیا کہ اگر داؤد ابراہیم کی موجودگی سے متعلق کوئی معلومات نہیں تھیں تو پاکستان سے کس بنیاد پر حوالگی کا مطالبہ کیا جاتا رہا ۔ اس تازہ صورتحال کے بعد ہری بھائی پرتھی بھائی چوہدری نے ایک اعلیٰ سطح کا اجلاس بلا لیا ہے جس میں بھارت کے سیکرٹری داخلہ کو بھی طلب کیا گیا ہے ۔ آج بدھ کو پارلیمنٹ میں وضاحت پیش کی جائے گی جس میں ممکنوعہ طورپر ہری بھائی کے بیان کو بیوروکریسی کی غلطی کے ساتھ جوڑے جانے کا امکان ہے ۔ بھارت

مزید : صفحہ آخر