جوڈیشل کمیشن نے مسلم لیگ (ن) اور الیکشن کمیشن کو اعتراضات جمع کرانے کی اجازت دیدی

جوڈیشل کمیشن نے مسلم لیگ (ن) اور الیکشن کمیشن کو اعتراضات جمع کرانے کی اجازت ...

 اسلام آباد(اے این این) عام الیکشن میں مبینہ دھاندلی کی تحقیقات کرنے والی 3رکنی جوڈیشل کمیشن نے مسلم لیگ اورالیکشن کمیشن کو تحریک انصاف کی دستاویزات پر اعتراضات جمع کرنے اجازت دے دی جبکہ حکمران جماعت کے وکیل شاہد حامد پٹ آئی رہنما اسحاق خاکوانی کو بطور گواہ پیش کرنے پر اعتراض کرتے ہوئے کہا ہے کہ حلقے کھولنے ہیں تو پورے ملک سے کھولے جائیں،اس کا فیصلہ اعتزاز احسن نہیں جوڈیشل کمیشن خود کرے۔منگل کو چیف جسٹس ناصر الملک کی سربراہی میں 3رکنی کمیشن کا اجلاس سیک بار پھر سپریم کورٹ کی عمارت میں ہوا۔اجلاس کے دوران حکمران جماعت مسلم لیگ نون کی لیگل ٹیم کے سربراہ شاہد حامد نے جوڈیشل کمیشن سے استدعا کی ہے کہ اگر حلقے کھولنے ہیں تو پورے ملک سے کھولے جائیں، کون سے حلقے کھولیں جائیں، اس کا فیصلہ اعتزاز احسن نہیں خود جوڈیشل کمیشن کرے۔ شاہد حامد نے تحریک انصاف کی پیش کردہ دستاویزات پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ یہ تصدیق شدہ نہیں۔ جوڈیشل کمیشن کے رکن جسٹس اعجاز افضل کے استفسار پر تحریک انصاف کی لیگل ٹیم کے سربراہ کاکہناتھاکہ ا کثر دستاویزات تصدیق شدہ ہیں۔ شاہد حامد نے کہا کہ پیش کی جانے والی دستاویزات وہی ہیں جوتحریک انصاف نے 73حلقوں کے نتائج چیلنج کرتے ہوئے الیکشن ٹربیونل میں جمع کرائیں اورمقدمات ہارگئے ۔جسٹس امیر ہانی مسلم نے کہا کہ یہ انکوائری کمیشن ہے، یہاں قانون شہادت کا اطلاق نہیں ہوتا۔ جس پر چیف جسٹس ناصر الملک نے کہا کہ ہرکسی کو شہادت پر سوال کرنے کا حق حاصل ہے،الیکشن کمیشن اور شاہد حامد دستاویزات پر تحریری اعتراضات جمع کرائیں۔ جسٹس ناصر الملک نے کہا کہ ان اعتراضات کی روشنی میں جانچ ہوگی کہ دستاویزات قابل قبول ہیں یا نہیں۔ پی ٹی آئی کے رہنما اسحاق خان خاکوانی بطور گواہ پیش ہوئے توان کے بیان حلفی پرشاہد حامد نے پانچ اعتراضات کیے۔جوڈیشل کمیشن کاکہناتھاکہ تمام اعتراضات نوٹ کرلیے ہیں ، ہر سیاسی جماعت کو گواہوں سے سوال کا حق حاصل ہوگا کیونکہ گواہ کو دوبارہ نہیں بلایا جائیگا۔ چیف سیکرٹری پنجاب جاویداقبال، راؤ افتخار اور صوبائی الیکشن کمشنر پنجاب(آج) پیش ہوں گے۔ جوڈیشل کمیشن

مزید : صفحہ آخر