مجاہد کامران کی اہلیہ شازیہ قریشی کی بطور پرنسپل پنجاب یونیورسٹی لاء کالج تعیناتی کالعدم

مجاہد کامران کی اہلیہ شازیہ قریشی کی بطور پرنسپل پنجاب یونیورسٹی لاء کالج ...

 لاہور (نامہ نگار خصوصی) لاہور ہائیکورٹ نے وائس چانسلر پنجاب یونیورسٹی ڈاکٹر مجاہد کامران کی اہلیہ ڈاکٹر شازیہ قریشی کی بطور پرنسپل پنجاب یونیورسٹی لاء کالج تعیناتی کالعدم قرار دیتے ہوئے اسسٹنٹ پروفیسر کے عہدے پر تنزلی کا حکم دے دیا۔مسٹر جسٹس سید منصور علی شاہ نے یہ حکم پنجاب یونیورسٹی کے پروفیسر جاوید سمیع اور اسسٹنٹ پروفیسر شمائلہ گل کی درخواست پر جاری کیا ،درخواست گزار کے وکیل سعد رسول نے موقف اختیار کیاکہ پنجاب یونیورسٹی ایکٹ کی دفعہ 15کے تحت وائس چانسلر کو متعدد صوابدیدی اختیارات حاصل ہیں جن کے تحت ان کے اقدامات ک باعث پوری یورنیوسٹی میں بدانتظامی اور کرپشن عروج پر ہے، انہی اختیارات کے تحت وائس چانسلر نے اپنی بیوی شازیہ قریشی کو بطور پروفیسر ترقی دے کر لاء کالج کی پرنسپل تعینات کیا ہے جبکہ سینڈیکیٹ نے شازیہ قریشی کو ترقی دینے کی منظوری نہیں دی اور نہ ہی تجربے کی بناء پر شازیہ قریشی پروفیسر بننے کی اہل تھیں، انہوں نے استدعا کہ پنجاب یونیورسٹی کے الیکشن کروانے کا حکم دیا جائے اور وائس چانسلر کے ایمرجنسی اختیارات ختم کر کے ڈاکٹر شازیہ قریشی کی بطور پرنسپل لاء کالج تعیناتی بھی کالعدم کی جائے، ڈاکٹر شازیہ قریشی کے وکیل خرم سعید ایڈووکیٹ اور پنجاب یونیورسٹی کے وکیل ملک اویس خالد نے ڈاکٹر شازیہ کی تعیناتی کا عدالت میں ریکارڈ پیش کرتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ 2000 ء سے اب تک یونیورسٹی میں جتنی بھی تقرریاں ہوئی ہیں اسی طریقہ کار کے تحت ہوئی ہیں جس طریقے کے تحت ڈاکٹر شازیہ قریشی کی تقرری ہوئی حتی ٰ کہ مدعی پارٹی کے تینوں اساتذہ کی تعیناتی بھی اسی طریقہ کار کے تحت ہوئی ہے۔ انہوں نے عدالت میں ریکارڈ پیش کرتے ہوئے کہا کہ 800 سے زائد اساتذہ کو اسی طریقہ کار کے تحت تعینات کیا گیا ہے اس طرح تمام اساتذہ کی تقرریاں اور ترقیاں کالعدم ہو جائیں گی جس پرفاضل جج نے کہا کہ عدالت کے سامنے صرف شازیہ قریشی کا معاملہ ہے دیگر تقرریوں کا معاملہ سامنے آیا تو عدالت اس کا بھی جائزہ لے گی ۔ یونیورسٹی کے وکیل نے مزید موقف اختیار کیا کہ ڈاکٹر شازیہ کی تعیناتی کے لئے ویب سائٹ اور اخبارات میں دیئے گئے اشتہارات درست ہیں، ڈاکٹر شازیہ کی تعیناتی میرٹ پر کی گئی ہے اور وہ متعلقہ تجربہ اور تعلیمی قابلیت بھی رکھتی ہیں، انہوں نے مزید موقف اختیار کیا کہ سلیکشن بورڈ نے درخواست گزاروں جاوید سمیع اور شمائلہ گل کو پرنسپل لاء کالج تعینات کرنے کی منظوری نہیں دی اور درخواست گزاروں نے بد نیتی کی بنیاد پر پرنسپل لاء کالج شازیہ قریشی کی تعیناتی چیلنج کی ہے ، درخواست خارج کی جائے، عدالت کے استفسار پر ایڈیشنل رجسٹرار پنجاب یونیورسٹی نے آگاہ کیا کہ پنجاب یونیورسٹی سینٹ کے انتخابات کروانے کا عمل پانچ ماہ میں مکمل کر لیا جائے گا، عدالت نے فریقین کے تفصیلی دلائل سننے کے بعد وائس چانسلر پنجاب یونیورسٹی ڈاکٹر مجاہد کامران کی اہلیہ ڈاکٹر شازیہ قریشی کی بطور پرنسپل لاء کالج تعیناتی کالعدم قرار دیتے ہوئے اسسٹنٹ پروفیسر کے عہدے پر تنزلی کا حکم دے دیا ہے ۔ مجاہد کامران کی بیوی

مزید : صفحہ آخر