ڈبلن،ویڈیوز دیکھیں اور بغیرکسی دوا کے لمبی تان کر سو جائیں

ڈبلن،ویڈیوز دیکھیں اور بغیرکسی دوا کے لمبی تان کر سو جائیں

 ڈبلن (نیوز ڈیسک) بے خوابی کی بیماری انسومنیا سے پریشان افراد نیند کے حصول کے لئے طرح طرح کی ادویات استعمال کرکے مزید پریشان ہوجاتے ہیں لیکن آئرلینڈ کے ایک آرٹسٹ کی فطری مناظر پر مشتمل ویڈیوز نے دنیا بھر کے بے شمار پریشان حال لوگوں کو بغیر کسی دوا کے ہی نیند جیسی نعمت سے مالا مال کردیا ہے۔یہ ویڈیو آرٹسٹ جونی لاسن نے یوٹیوب پر دو سال قبل پوسٹ کی تھی اور اس میں دریائے بونیٹ کا پانی آبشار کی صورت میں پتھروں کے اوپر گر کر موسیقائی آواز پیدا کرتا سنائی دیتا ہے۔ آرٹسٹ لاسن کا کہنا ہے کہ انہوں نے دریائے بونٹ کے کنارے واقعہ خوبصورت فطری مناظر کی متعدد ویڈیوز ریکارڈ کیں تاکہ فطرت کو انسانوں کی زندگی کے قریب لاسکیں۔ ان کی ویڈیوز کو اب تک 60 لاکھ سے زائد مرتبہ دیکھا اور سنا جاچکا ہے اور یہ ویڈیوز نیند سے محروم لوگوں کی مدد میں اس قدر کامیاب رہی ہیں کہ اب برطانیہ کے متعدد ہسپتالوں میں انہیں بے خوابی کے علاج کے لیئے استعمال کیا جارہا ہے۔ آئرلینڈ کی لیٹرم کاؤنٹی سے تعلق رکھنے والے آرٹسٹ نے برطانوی نشریاتی ادارے "BBC"کو بتایا کہ انہیں نیند کے مسائل سے پریشان افراد نے بے شمار پیغامات بھیجے ہیں اور بتایا ہے کہ دریائے بونیٹ کے جھرنوں کی ویڈیوز نے ان کے مسائل حل کردیئے ہیں اور وہ ان کی آواز سن کر پرسکون نیند میں چلے جاتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ انہیں شمالی کوریا، سنٹرل افریقی ریپبلک، چین اور برطانیہ سمیت دنیا کے متعدد ممالک سے شکریہ کے پیغامات موصول ہوئے ہیں۔ امریکی شہر نیویارک سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے لاسن کو بھیجے گئے میسج میں لکھا، ’’میں مین ہٹن کے وسط میں رہتا ہوں۔ مجھے یہ معلوم ہی نہیں تھا کہ دنیا میں ایسا سکون بھی موجود ہے۔‘‘ یونیورسٹی کالج ہسپتال لندن میں کام کرنے والی ہیلتھ سائیکالوجسٹ ڈاکٹر ڈورتھی ویڈ نے لکھا کہ دریائے بونیٹ کی ویڈیوز کو آئی سی یو میں موجود مریضوں کے پوسٹ ٹرامیٹک سٹریس ڈس آرڈر کے علاج کے لیئے استعمال کیا جارہا ہے۔ ان ویڈیوز کے نیند آور اثرات کے بارے میں یونیورسٹی کالج لندن اور انتہائی نگہداشت کے نیشنل آڈٹ اینڈ ریسرچ سنٹر لندن میں بھی تحقیقات جاری ہیں۔

مزید : صفحہ آخر