بدین ‘ ذوالفقار مرزا کی گرفتاری کیلئے بھاری نفری طلب مقابلے کو تیار ہوں ‘ سابق وزیرداخلہ

بدین ‘ ذوالفقار مرزا کی گرفتاری کیلئے بھاری نفری طلب مقابلے کو تیار ہوں ‘ ...

 بدین (آن لائن) بدین پولیس نے سابق وزیر داخلہ ڈاکٹر ذوالفقار مرزا کی گرفتاری کیلئے بھاری نفری طلب کرلی، مرزا فارم کی طرف جانے والے تمام راستے بکتر بند گاڑیوں اور پولیس موبائل کھڑی کرکے بند کردیئے گئے، ادھر سابق وزیر داخلہ سندھ ڈاکٹر ذوالفقار مرزا نے کہا کہ ان کی زندگی کو خطرہ ہے اور مرزا فارم پر فائرنگ کی گئی ہے۔میڈیا سے با ت چیت کر تے ہو ئے انہو ں نے کہا کہ میری 6 مئی تک سندھ ہائی کورٹ سے مقدمات میں عبوری ضمانت منظور کرلی گئی ہے اس کے باوجود ضمانت کی تاریخ ختم ہونے سے قبل مجھے گرفتار کیا گیا تو یہ عمل توہین عدالت کے زمرے میں آئے گا جس کے ذمہ دار ڈی آئی جی حیدرآباد، ایس ایس پی بدین، ایس ایس پی ٹھٹھہ، ایس پی تنڈو محمد خان، ایس ایس پی سجاول اور آئی جی سندھ ہوں گے۔ تفصیلات کے مطابق گزشتہ روز بدین کے 3 تھانوں کی پولیس اور 12 سے 15 بکتر بند گاڑیاں اور 20 سے زائد پولیس موبائلوں کے ذریعے مرزا فارم کی طرف جانے والے تمام راستے بند کرکے سو سے زائد پولیس اہلکارتعینات کردیئے گئے ہیں۔ پولیس کے مطابق مرزا فارم پر مختلف مقدمات میں ملوث ملزمان موجود ہیں جن کی گرفتاری کیلئے آپریشن کی تیاریاں جاری ہیں۔ دوسری جانب پولیس کے اس عمل پر مرزا فارم پر موجود ڈاکٹر ذوالفقار مرزا کا کہنا تھا کہ وہ ہر طرح کی صورتحال کا مقابلہ کرنے کو تیار ہیں۔ دوسری جانب ڈاکٹر ذوالفقار مرزا کی طرف سے اپنے وکیل اشرف سموں کے ذریعے سندھ ہائی کورٹ میں توہین عدالت کی درخواست دائر کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے جبکہ ڈاکٹر ذوالفقار مرزا اور اس کے 24 حامیوں کے خلاف پنگریو تھانہ میں زبردستی شہر بند کرانے کا مقدمہ بھی درج کرلیا گیا ہے،علاوہ ازیں ڈاکٹر ذوالفقار مرزا کے حامی وکیل عیسیٰ ملاح کے خلاف مقدمے کے اندراج پربدین کے وکلاء کی طرف سے ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن بدین کے صدر دلدار پٹھان کی قیادت میں عدالتی کارروائی کا بائیکاٹ کیا گیا ،ڈاکٹر ذوالفقار مرزا کے چار حامیوں خدا بخش قمبرانی، نواز جتوئی، نانا سہڑات سمیت 4 افراد کو حیدرآباد کی دہشت گردی عدالت میں آج پیش کیا جائے گا دوسری جانب بدین میں ڈاکٹر ذوالفقار مرا کے حامیوں کے خلاف کریک ڈاؤن جاری رکھتے ہوئے مزید 14 حامیوں کو گرفتار کرلیا گیا ۔

زوالفقار مرزا

کراچی(اے این این) قومی اسمبلی کی سابق سپیکرفہمیدہ مرزا نے کہا ہے کہ ذوالفقار مرزا کی سکیورٹی سے متعلق تشویش ہے،بدین میں ہمارے گھر کے باہر بھاری فورس موجود جبکہ کھانے پینے کی اشیاء بھی اندر لے جانے کی اجازت نہیں، سندھ حکومت کے پیدا کردہ حالات سے بہت سارے لوگوں کا نقصان ہو سکتا ہے لہٰذاوزیر اعظم اور چیف جسٹس صورتحال کا نوٹس لیں،آئی جی سندھ کو تبدیل کیا جائے،ہم نے مشکل وقت میں پیپلز پارٹی کو جوائن کیا،پارٹی کے لئے قربانیاں دی ہیں۔کراچی میں اپنی رہائش گاہ پر پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ذوالفقارمرزا کی سیکیورٹی سے متعلق تشویش ہے، بدین میں ایسے پولیس افسران بھیجے جائیں جو سیاسی نہ ہوں، ذوالفقارمرزا پرانسداد دہشتگردی کے تحت کیسزبنائے گئے ہیں، اسطرح کاماحول بنایاجارہاہے جس کے اثرات صرف سندھ تک محدود نہیں رہیں گے اور بہت سے لوگوں کا نقصان ہو گا۔انھوں نے کہا کہ سندھ پولیس میں سیاسی مداخلت واضح نظر آرہی ہے، بدین میں ایسے نمائندوں کوبھیجا جارہاہے جو مخصوص سیاسی جماعت کی نمائندگی کررہے ہیں ، پورے سندھ کی پولیس بدین میں لاکرکھڑی کردی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ بدین میں 16،17 پولیس موبائل پہنچ گئیں جیسے کوئی آپریشن کیاجاناہو۔انھوں نے کہا کہ ذوالفقار مرزا کی عدالتی ضمانت تمام دفاترمیں بھجوائی گئی بدین میں پھرپولیس کی نفری پہنچ گئی، ہماری جدوجہد جمہوریت کیلیے ہے۔ سابق اسپیکرقومی اسمبلی کا کہنا تھا کہ خطرہ ہے کہ موجودہ صورتحال سے بہت سے لوگوں کا نقصان ہوگا، آئی جی سندھ سے کہا کہ اتنی پولیس موبائل میرے گھر کے باہرکیوں کھڑی ہیں؟ آئی جی سندھ نے کوئی جواب نہیں دیا، سندھ ہائیکورٹ کیاحکامات کے باوجود پولیس موبائل گھرکے باہرکھڑی ہیں، سندھ پولیس سیاست زدہ ہے،بدین میں چھاپوں کی سخت الفاظ میں مذمت کرتی ہوں۔ انھوں نے کہا کہ وزیر اعظم اور چیف جسٹس موجودہ صورتحال کا نوٹس لیں اور آئی جی سندھ کو تبدیل کیا جائے۔ایسا شخص آئی جی لگایا جائے جس کی کوئی سیاسی وابستگی نہ ہو۔ ڈاکٹر فہمیدہ مرزا کا کہنا تھا کہ ہم نے پیپلز پارٹی کو مشکل وقت میں جوائن کیا تھا۔ ہماری طاقت غریب بدین کے عوام تھے۔ ذوالفقار مرزا طویل عرصے سے پارٹی کیلئے قربانیاں دے رہے ہیں۔ بدین میں چھاپوں کی مذمت کرتی ہوں۔ عدالتی احکامات کے باوجود مزید کیسز بنائے جا رہے ہیں۔ ذوالفقار مرزا پر کیس ہے تو کیا انھیں عدالت میں جانے کا حق نہیں ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حکام کی جانب سے مرزا فارم ہاؤس پر کھانے اور پینے کی اشیا لے جانے پر بھی پابندی عائد کر دی گئی ہے۔

مزید : صفحہ اول