کاہنہ پولیس کا نوجوان پر اغوا کے بعد تشدد ،نذرانہ لیکر چھوڑ دیا

کاہنہ پولیس کا نوجوان پر اغوا کے بعد تشدد ،نذرانہ لیکر چھوڑ دیا

 کاہنہ (نامہ نگار)کاہنہ پولیس کا نوجوان پراغوا کے بعد تشدد،مبینہ طور پرپیسے لے کر چھوڑ دیا۔تفصیلات کے مطابق سواء گجومتہ کاہنہ نو کارہائشی محمد نوریز ایک پرائیویٹ فرم میں بطور سیلز مین کام کرتا ہے،اس نے ایک درخواست سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ڈسپلن) لاہور کو دی ہے جس میں موقف اختیار کیا گیاہے کہ چوکی سواء آصل کاہنہ نو لاہور پولیس کا اے ایس آئی محمد عارف، کانسٹیبل محمد شان اور دو نامعلوم ملازمین گزشتہ ہفتہ کے روز میرے بھائی محمد طارق کو سواء گجومتہ کاہنہ نو سے پرائیویٹ گاڑی میں اغوا کرکے لے گئے اور پولیس چوکی میں بند کرکے رات بھر تشدد کا نشانہ بناتے رہے جبکہ گھر والے اسے جگہ جگہ تلاش کرتے رہے لیکن اس کا کہیں پتہ نہ چل سکا ۔اگلے دن اتوار کے روز شام کے وقت ہمیں اطلاع ملی کہ طارق پولیس چوکی سوء آصل میں موجود ہے ۔جب ہم وہاں پہنچے تو وہاں پر موجود اے ایس آئی محمد عارف اور انچارج پولیس چوکی سواء آصل منشا ء کامران کے کارخاص کانسٹیبل محمد شان نے کہا کہ تمہارابھائی محمد طارق منشیات فروش ہے اور ہمارے پاس حوالات میں بند ہے۔ اگر اس کی رہائی چاہتے ہو تو ایک لاکھ روپے کا فوری بندوبست کرو ورنہ اس کے خلاف ایک کلو گرام منشیات رکھنے کا مقدمہ درج کرکے اسے جیل بھیج دیں گے اور پانچ سال تک اس کی ضمانت نہیں ہوسکے گی ۔یہ سن کر ہم خوف زدہ ہو گئے اور ان پولیس والوں کی منت سماجت کرنے لگے اور کہا کہ ہم غریب لوگ ہیں اتنے پیسے کہاں سے لائیں گے۔ آخر کار میری والدہ نے میری بہن کے شادی کے زیورات گہن رکھ کر مبلغ چالیس ہزار روپے اکٹھے کئے اور پولیس کو دے کر اپنے بھائی کو رہائی دلوائی۔

مزید : علاقائی